Mufti Fuzail Razvi
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی خدمت میں ایک سوال عرض ہے:
ایک والد نے اپنے بیٹے سے ایک ایسے کاغذ پر دستخط کروا لیےجس میں بیٹے کی بیوی کو ایک طلاق لکھی ہوئ تھی یعنی یہ تحریر تھا کہ اس کے بیٹے نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی
۔ دستخط کرنے کے بعد بیٹے نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کاغذ کس چیز کا ہے؟ والد نے جواب دیا کہ یہ تمہارا طلاق نامہ ہے۔ اس پر وہ خاموش ہو گیا دستخط کرتے وقت طلاق کی نیت نہیں تھی کیونکہ اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے
صورتِ حال یہ ہے کہ بیٹا اردو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا، جبکہ مذکورہ کاغذ اردو زبان میں تحریر کیا گیا تھا۔ بیٹے نے اس کا مضمون پڑھے بغیر اس پر دستخط کر دیے تھے
اس صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1. کیا بیٹے کی طرف سے اس طلاق نامے پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟
2. کیا اردو نہ جاننے اور تحریر کا مفہوم معلوم نہ ہونے کی وجہ سے حکم میں کوئی فرق آئے گا؟
3. اگر طلاق واقع ہو جائے، تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا جواب مرحمت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً ۔
👈الجواب بعون الوھاب
صورت مسئولہ میں بیٹے نے طلاق کے کاغذ پر دستخط کیے جبکہ اس کو معلوم نہیں تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اور وہ اردو پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتا تھا جبکہ یہ طلاق نامہ اردو میں تھا لیکن اس کا طلاق نامے پر دستخط کرنا طلاق لکھنے کے درجے میں ہے کیونکہ مہر یا دستخط سے کسی لکھی ہوئ تحریر کی تصدیق مقصود ہوتا ہے تا کہ یہ ظاہر ہو سکے کہ یہ تحریر بعینہ دستخط یا مہر لگانے والے کی ہے تو دستخط کرنا ایسا ہی ہے جیسے تحریر کو لکھنا ۔ تحریرا طلاق لکھنے کی دو صورتیں ہیں ایک مرسومہ اور غیر مرسومہ ۔ مرسومہ وہ جس میں باقاعدہ خط کو شروع کیا جائے اور پھر مراد لکھنے کے بعد غائب کو (طلاق ) لکھی جائے جبکہ غیر مرسومہ اس کے برخلاف ہے کہ خط کو باقاعدہ شروع بھی نہ کیا جائے اور مراد کو بھی نہ لکھا جائے صرف طلاق کے الفاظ لکھ دیے جائے
پھر یہ غیر مرسومہ کی دو اقسام ہیں مستبینہ اور غیر مستبینہ مذکورہ مسئلہ کا تعلق طلاق غیر مرسومہ مستبینہ سے ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی ایسے صفحے پر طلاق لکھی جائے جس کے الفاظ بالکل واضح ہوں اور پڑھے جا سکیں لیکن باقاعدہ خط کے شروع کر نے کے انداز پر نہ ہو اور نہ ہی کسی مراد کو ذکر کیا گیا ہو
بلا واسطہ طلاق کے الفاظ مذکور ہوں تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہونے کے لیے نیت ضروری ہے جبکہ یہاں پر نیت سرے سے ہی مفقود ہے کہ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں سائل نے بغیر خط دیکھے دستخط کر دیے اور دیکھنا بھی اس کو فائدہ نہ دیتا کہ اردو پڑھنا نہیں جانتا تو پھر نیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا باوجود اس کے سائل اس بات کا قائل ہے میری نیت نہیں تھی اور یہ بات اس کی ظاہری حالت کے موافق بھی ہے لھذا طلاق واقع نہیں ہوئ
فتاوی ھندیہ میں ہے
وان کانت مستبینة لکنھا غیر مرسومہ ان نوی الطلاق یقع والا لا
ترجمہ ۔ اور اگر( تحریرا طلاق کی صورت ) مستبینہ لیکن غیر مرسومہ ہونے کی صورت میں اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق ہو گی ورنہ نہیں
(فتاوی ھندیہ جلد1 ص 414 دارالکتب العلمیہ )
ردالمحتار ۔ فتاوی قاضی خان ۔ بحرالرائق اور دیگر کتب فقہ میں اسی طرح مذکور ہے۔
✍️. مفتی فضیل رضا المدنی
صح الجواب ۔ مفتی عارف محمود قادری میانوالی
واللہ تعالی اعلم
8 جولائ 2026
04/07/2026
آج بروز ہفتہ (4 جولائ 2026) مرکزی جامعة المدینہ جہلم میں طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ۔ حدیث قرطاس اور نظریہ اہلسنت۔ کے موضوع پر تحقیقی بیان ہوا جس میں حدیث قرطاس کی وضاحت کی گئ اور نظریہ اہلسنت کو اجاگر کیا گیا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Sialkot