Muhammad Haroon
برٹرینڈ رسل کہتے ہیں !!
کسی معاشرے میں نئی نسل کو وہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے، جو ریاستی مقتدرہ کی مرضی و منشا ہوتی ہے ، کیونکہ ہمارے اساتذہ نہ سقراط ہیں اور نہ کنفیوشس کہ اپنے شاگردوں کو سوال کرنے کی اجازت دے کر اُن کے ذہنوں میں کلبلاتے سوالوں کی تشفی کریں۔
اس لیے اگر نصاب میں درج کر دیا جائے کہ برف کالی ہوتی ہے، تو اساتذہ برف کو کالا ہی پڑھائیں گے۔ کوئی بچہ یہ سوال کر دے کہ برف کالی نہیں بے رنگ ہوتی ہے تو اس کی سرزنش کی جاتی ہے۔ گویا ہم اپنے معاشروں میں سوال کرنے والے ذہن تیار کرنے کے بجائے ایسے روبوٹس تیار کر رہے ہیں ، جو اشرافیہ کے متعین کردہ ریاست کے منطقی جواز اور قواعد و ضوابط ہی کو حقیقی سمجھیں ہماری تعليم علم نہیں ۔🥀
سوچ کے میں عمر کی اونچائیاں چڑھا
شاید یہاں شاید یہاں شاید یہاں ھو تُو
خدایا عشق محمدﷺ میں ایسا بھی مقام آئے
کہ سانس بعد میں آئے پہلے نبیﷺ کا نام آئے
میری حیات کے لمحے بسر ھوں کچھ ایسے
کبھی درودﷺ لبوں پر ہو تو کبھی سلامﷺ آئے...
آمین ثم آمین
صَلَّی اللّٰهُ عَلَیہِ وَآلِہِ وَسَلَّم ❤️
Tutors for O-Level online class is required. Interested people can contact.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Sheikhupura