Aqib Rasheed

Aqib Rasheed

Share

10/05/2026

Happy Mother's Day

24/11/2025

تھوڑا سا گندھا ہوا آٹا نیچے گرا تو میں نے اٹھا کر چڑیوں کو ڈال دیا۔
وہ پانچ منٹ میں سارا چٹ کر گئیں اور مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ چڑیاں آٹا اتنے شوق سے کھا لیتی ہیں پھر کیا تھا میں نے صبح شام چڑیوں کو گندھا ہوا آٹا ڈالنا شروع کر دیاباجرہ چھوڑ کرچڑیوں نے بھی بڑی رغبت سے آٹا کھانا شروع کر دیا۔۔۔۔!!
کوئی تین چار دن گزرے ہوں گے تو صحن کا منظر یہ تھا چڑیاں درخت پر کم بیٹھی نظر آ رہی تھیں کوئی گھر کے کسی کونے میں پر پُھولا کر بیٹھی ہوئی تھی تو کوئی کسی کونے میں کوئی سیڑھیوں پر بیٹھی آخری سانسیں لے رہی تھی۔۔۔!!
تب بابا جان حیات تھے وہ چڑیوں کوبیمار اور مرتا دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ انکو کیا ہوا اچانک انکی نظر درخت کے پاس رکھے ہوے آٹے پر پڑی تو مجھ سے پوچھا اتنی سردی میں انکو آٹا کیوں ڈالا؟ میں نے بڑے فخر سے اپنی کارستانی سنائی بابا جان میرا کندھے تھپتھپا کر بولے "شاباش میرا پٌتر شاباش بڑا چنگا کم کیتا ای" میں حیرانگی سے انکا چہرہ تکنے لگی کیوں کہ مجھے بابا کا لہجہ ستائش سے زیادہ طنزیہ لگ رہا تھا پھر بابا جان نے سمجھایا بیٹا چڑیوں کو آٹا ڈالنے کی وجہ سے یہ بیمار ہوئیں مسلسل کچا آٹا انکے معدے میں جم گیا اور ان کے لیے زہر ثابت ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے مرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔!!

آج چڑیوں کو دانہ کھاتے دیکھ مجھے وہ واقعہ یاد آگیا اور میں سوچنے لگی کہ کبھی كبهار ایسا ہوتا ہے کہ ہماری نیت تو کسی کے ساتھ نیکی کرنے کی ہوتی ہے مگرہمارا طریقہ غلط ہوتا ہے ہم نیکی کی بجائے اسکا نقصان کر دیتے ہیں اور اگلا انسان ہماری نیت نہیں جان پاتا اور ہمیشہ کے لیے بدگمان ہو جاتا ہے اور ہم اسکی نظروں میں خیر خواہ کی بجائے دشمن بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!

✍عاصمہ بِنْت شریف

11/11/2025

ایک معلمہ کہتی ہیں : میں نے طالبات کی ایک ٹیم کو سال کے آخر میں ایک پروگرام میں ان کی ماؤں کے سامنے ایک نظم پیش کرنے کے لیے ٹرینڈ کیا، تیاری اور ریہرسل کے مختلف مراحل کے بعد بالآخر پروگرام کا دن آ گیا، نظم شروع ہوئی، مگر ان کی اس خوبصورت کارکردگی پر اس وقت پانی پھر گیا جب ایک بچی جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ نظم پڑھ رہی تھی اچانک اپنے ہاتھ، جسم اور انگلیوں کو حرکت دینے لگی اور اپنا منھ کسی کارٹون کے کیریکٹر کی طرح بنانے لگی. اس کی ان عجیب وغریب حرکتوں کی وجہ سے دوسری تمام بچیاں پریشان ہو گئیں۔

معلمہ کہتی ہیں : میرا جی چاہا کہ میں جا کر اس بچی کو ڈانٹ پلاؤں اور اسے تنبیہ کروں کہ وہ ڈسپلن اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ مجھے اس پر اتنا غصہ آیا کہ قریب تھا کہ میں اسے سختی کے ساتھ ان بچیوں سے کھینچ کر الگ کر دوں، لیکن جوں جوں میں اس کے قریب جاتی وہ پارے کی طرح چھٹک کر مجھ سے دور ہوجاتی، اس کی یہ حرکتیں بڑھتی گئیں اور وہ سارے لوگوں کی نظر کا مرکز بن گئی، وہاں موجود تمام خواتین اس کی ان حرکتوں پر زور زور سے ہنس رہی تھیں۔

میری نظر پرنسپل پر پڑی جن کی پیشانی مارے شرمندگی کے پسینے سے شرابور تھی، وہ اپنی سیٹ سے اٹھیں اور مجھ سے کہنے لگیں: اس بدتمیز اور بیہودہ لڑکی کو اسکول سے نکالنا ضروری ہے، میں نے بھی ان کی اس بات کی تائید کی۔

لیکن ایک چیز نے ہم سب کی نظروں کو متوجہ کیا کہ اس پورے وقفے میں اس بچی کی ماں کھڑی ہو کر اپنی بچی کی ان حرکتوں پر تالی بجاتی رہی، گویا وہ اس کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی کہ وہ اپنا یہ فضول کام جاری رکھے۔

جیسے ہی نظم ختم ہو گئی میں جلدی سے اسٹیج کی طرف بڑھی اور اس لڑکی کو زور سے پکڑ کر کھینچا اور بولی: تم نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ نظم پڑھنے کے بجائے یہ اول جلول حرکتیں کیوں کی؟

وہ بولی : اس لیے کہ پروگرام میں میری ماں بھی موجود تھی، مجھے اس کے اس کے اس ڈھٹائی بھرے جواب پر بڑی حیرت ہوئی. لیکن مجھے اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اس نے آگے یہ کہا: میری ماں بول اور سن نہیں سکتی، میں نے گونگے لوگوں کی زبان میں اس نظم کا ترجمہ اپنی ماں کے لیے پیش کیا تاکہ دیگر تمام بچیوں کی ماؤں کی طرح میری ماں بھی اپنی بیٹی کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کر سکے۔

جیسے ہی اس نے یہ وضاحت کی وہ دوڑ کر اپنی ماں کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ کر زار و قطار رونے لگی، جب وہاں موجود سارے لوگوں کو حقیقت معلوم ہوئی تو سارا ہال سسکیوں سے گونجنے لگا ۔

واقعے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ پرنسپل نے اس لڑکی کو اسکول سے نکالنے کے بجائے اسے انعام سے نوازا اور اسے "مثالی طالبہ" کا خطاب دیا۔
وہ لڑکی جب وہاں سے نکلی تو سر اٹھا کر خوشی سے اچھلتے ہوئے جا رہی تھی۔

بعض مواقع پر جلدبازی میں رد عمل ظاہر مت کیجیے، دوسروں پر حکم لگانے میں جلدی سے کام مت لیجیے۔
محض بدگمانی کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، رشتے ختم کر لیتے ہیں۔

"اللہ سے لوگوں کے ساتھ حسنِ ظن کی توفیق مانگیے کہ اسی میں دلوں کا سکون اور سینوں کی سلامتی ہے۔" حسن ظن ایک ایسی مثبت صلاحیت ہے جو خوش قسمت افراد کو ہی ملتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی خوشگوار ہوتی ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Sambrial?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Sambrial