We Pakistani

We Pakistani

Share

08/07/2026

قانون کی ایسی پاسداری صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے!
​مغل پورہ لاہور کی سڑکوں پر ایک انوکھا منظر... نہ کوئی پولیس والا، نہ کوئی پروٹوکول۔ ملزمان خود ہی ہتھکڑیاں پہن کر، موٹر سائیکل پر ہنستے مسکراتے عدالت کی طرف رواں دواں ہیں۔
​اسے کہتے ہیں "خود کفیل اور ایماندار ملزم" جو پولیس کا پٹرول اور وقت دونوں بچا رہے ہیں!
​آپ کا اس ہائی ٹیک اور ایڈوانسڈ سسٹم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں بتائیں۔

07/07/2026

ہاکس بے سمندر میں ڈوبنے والی 18 سالہ لڑکی کا تاحال سراغ نہیں ملا ، تلاش جاری ہے ، لڑکی ہاکس بے مشرف کالونی کی رہائشی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ماری پور کے علاقے ہاکس بے فرنچ بیچ سے متصل پشان بیچ میں نہاتے ہوئے ڈوبنے والی لڑکی کا تاحال سراغ نہیں ملا، ترجمان ایدھی کے مطابق ڈوبنے والی لڑکی کی شناخت 18 سالہ نازش دختر نیاز علی کے نام سے کی گئی ، ہاکس بے مشرف کالونی سیکٹر 10/D کی رہائشی ہے.

ڈوبنے والی لڑکی پیر کو اپنی فیملی کے ساتھ پنکنک کے لیے آئی تھی ، تمام گھر والے چائے وغیرہ پی رہے تھے کہ لڑکی اچانک سمندر کی طرف گئی اور چند ہی لمحوں میں لہریں اسے بہاتے ہوئے گہرے سمندر میں لے گئیں ، جوان لڑکی کو ڈبتا دیکھ کر اس کے والد اور دیگر گھر والے بھاگے تاہم اس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی.

ایدھی کے رضاکار غوطہ خوروں نے فوری طور پر لڑکی کی تلاش شروع کر دی تھی، پیر کو دیر رات تک تلاش جاری رہی بعدازاں رات کی تاریکی کے باعث تلاش روک دی گئی تھی ، منگل کی صبح سے دوبارہ تلاش شروع کر دی گئی تھی ، آخری اطلاع کے مطابق لڑکی کا سراغ نہیں ملا ، تلاش جاری ہے۔

07/07/2026

فضائیہ کے گروپ کیپٹن کو شہید کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیجز منظرعام پر آ گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق فوٹیج میں ملزم کو فیض آباد بس اڈے سے لاہور روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک دوسری ویڈیو میں وہ ایک دکان سے کپڑے تبدیل کرتا بھی نظر آتا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سعد عباسی تھانہ کھنہ کی حدود بند کھنہ روڈ کا رہائشی ہے، جس کی عمر 20 سال ہے اور اس کی تعلیم میٹرک ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ایک الیکٹرانکس کی دکان پر بطور سیلز مین بھی کام کرتا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم لڑکی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا، تاہم لڑکی نے انکار کر دیا، جس پر دونوں کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی۔ پولیس کے مطابق اسی دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن رکے اور انہوں نے ملزم کو لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے سے روکا، جس پر ملزم طیش میں آ گیا اور اس نے گاڑی میں سوار گروپ کیپٹن پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی سٹی موقع پر پہنچ گئے اور ان کی سربراہی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

06/07/2026

موسمیاتی تبدیلی، کم ہوتی بارشوں اور زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کے پیش نظر پنجاب حکومت نے 2030 تک بارش کے پانی کے ذخیرے، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور پانی کے مؤثر استعمال کے اہداف مقرر کیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اہداف پر عمل درآمد کی رفتار سست ہے جبکہ خصوصاً لاہور میں پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔
کلائمیٹ ریزیلینٹ پنجاب وژن اینڈ ایکشن پلان 2024 کے مطابق بڑھتے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں، شہری آبادی میں اضافے اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث پنجاب میں آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ری چارج سسٹم نصب کرنے، سیلابی پانی کے بہتر انتظام اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لاہور اس بحران کی نمایاں مثال بن چکا ہے جہاں مختلف مطالعات کے مطابق زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تقریباً ایک میٹر تک گر رہی ہے۔ گلبرگ، شادمان اور مسلم ٹاؤن سمیت کئی علاقے زیادہ خطرے والے زون قرار دیے جا چکے ہیں۔

واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور نے بارش کے پانی کو خصوصی کنوؤں کے ذریعے دوبارہ زیرِ زمین پہنچانے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ واسا کے ترجمان کے مطابق تاجپورہ، لبرٹی، قذافی اسٹیڈیم اور دیگر مقامات پر ری چارج ویلز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ منصوبے کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 358 زیرِ زمین واٹر ٹینکس کی منظوری بھی دی ہے جن میں 34 بڑے اور 324 سڑک کنارے ٹینک شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنائی جا سکے۔

دوسری جانب واسا لاہور نے شہر میں ایک ہزار ری چارج ویلز بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت تین ری چارج ویلز فعال ہیں اور ہر کنواں روزانہ تقریباً آٹھ ہزار گیلن پانی زمین میں واپس پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیکریٹری ہاؤسنگ پنجاب نورالامین مینگل کے مطابق ابتدائی مرحلے میں لاہور میں 15 مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی تمام پارکوں میں اس مقصد کے لیے جگہ فراہم کرے گی۔

05/07/2026

ورلڈبینک نے اپنی تازہ ’’اسٹرینتھننگ فسکل فیڈرلزم‘‘ رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ پاکستان میں صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر اضلاع کے درمیان ترقیاتی و مالی وسائل کی تقسیم میں نمایاں عدم مساوات برقرار ہے،جس کے باعث انسانی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری متاثر ہورہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یہ فرق سب سے زیادہ ہے، جہاں کوئٹہ کو دیگر اضلاع کے مقابلے میں فی کس 475 فیصد زیادہ سرکاری اخراجات ملتے ہیں، جبکہ پنجاب میں لاہورکو 440 فیصد،خیبر پختونخوا میں پشاورکو 335 فیصد اور سندھ میں کراچی کو 178 فیصد زیادہ فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق اگرچہ 2010 کے ساتویں این ایف سی ایوارڈکے بعدصوبوں کے وسائل میں اضافہ ہوا اور 2009 کے مقابلے میں دارالحکومتوں اوردیگر اضلاع کے درمیان اخراجاتی فرق میں کچھ کمی آئی، تاہم صوبائی دارالحکومت آج بھی وسائل کاغیر متناسب حصہ حاصل کررہے ہیں۔

رپورٹ میں کہاگیاکہ بلوچستان جیسے شورش زدہ صوبے میں کوئٹہ کو دیگر اضلاع کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ فی کس وسائل ملتے ہیں جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں پسماندگی اورروزگارکے محدودمواقع بدستور سنگین مسئلہ ہیں۔

ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ اضلاع کو بجٹ کی تقسیم سماجی و معاشی ضروریات، غربت، تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کے بجائے دیگر عوامل کی بنیاد پر کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں خوشحال اضلاع کومسلسل زیادہ وسائل مل رہے ہیں، جبکہ غریب اضلاع ترقی کے حوالے سے مزید پیچھے رہ جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقامی حکومتوں کامالی حصہ بھی مسلسل کم ہورہاہے، 2005 میں مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کاحصہ تقریباً 10 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر صرف 4۔7 فیصد رہ گیا،جبکہ آئینی تقاضوں کے باوجودبیشترصوبوں میں صوبائی مالیاتی کمیشن فعال نہیں ہوسکے۔

ورلڈ بینک نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود نتائج پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوانے کم اخراجات کے باوجودتعلیم کے شعبے میں بہترکارکردگی دکھائی،جبکہ سندھ اور بلوچستان میں اخراجات بڑھنے کے باوجوداسکولوں میں داخلوں اور خواندگی کی شرح میں کمی دیکھی گئی۔

05/07/2026

لاہور سے کراچی جانے والی 28DN شالیمار ایکسپریس خانیوال جنکشن کے آؤٹر پر بری طرح ڈی ریل ہو گئی۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر ہمارے ریلوے ٹریکس کی خستہ حالی اور نظر انداز کیے گئے انفراسٹرکچر کی نشاندہی کرتا ہے۔ افسوس کہ چند روز قبل حکومت نے چین کے ساتھ ٹریک اپ گریڈیشن کا معاہدہ بھی ختم کر دیا، جس سے ریلوے کی بہتری کی ایک بڑی امید بھی دم توڑ گئی۔ اگر ٹریکس کی حالت بہتر بنانے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ایسے حادثات مستقبل میں بھی جان و مال کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔ اللہ ہی مالک ہے اس نظام کا۔

AA Enterprises

05/07/2026

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے اور حساس بالائی علاقوں اور پہاڑی ندی نالوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای اوسی) نے 6 سے 10 جولائی 2026 تک کے لیے موسمی صورت حال اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا اور تمام ممکنہ خطرات کی پیشی تشخیص اور متعلقہ اداروں تک بر وقت معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ موسمی حالات این ای او سی کے جاری پیشی موسمی جائزے کے عین مطابق ہے، 6 جولائی سے شمالی پاکستان میں فعال موسمی نظام داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے تحت کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے نے کہا کہ 7 سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی ملحقہ علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے اور 7 جولائی کو اسلام آباد، پوٹھوہار، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب اور شمالی بلوچستان میں بارشوں کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔

05/07/2026

سیف اللہ جھیل میں سیاحوں کی کشتی الٹنے کے واقعے کے بعدکشتی آپریٹر کو گرفتار کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ کشتی آپریٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ جھیل حادثے میں لاپتا لڑکی کی تلاش کیلئے چوتھے روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق کشتی الٹنے سے 6 افراد جاں بحق ہوئے اور 2 افراد کو بچالیا گیا تھا، کشتی میں لاہور سے تعلق رکھنے والےایک ہی خاندان کے 9 افراد سوار تھے۔

یاد رہے کہ یکم جولائی کو لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر ہندل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ اُلٹ گئی۔

اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوئے جن میں سابق لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل، اُن کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ ہندل، دو بیٹیاں 27 سالہ پروا ہندل اور 23 سالہ رویل ہندل، جبکہ پروا ہندل کے دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔

05/07/2026

سعودی میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی سے پاکستان میں شروع ہوگا۔

العربیہ کی رپورٹ مطابق مذاکرات کا یہ دور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کی تکمیل کے بعد شروع کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران پر عائد پابندیوں، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت متعدد اہم امور زیر غور آئیں گے۔

العربیہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حال ہی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بلاواسطہ مذاکرات ہوئے تھے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تعمیری قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دوحہ مذاکرات کے بعد ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات میں اس کے منجمد اثاثوں میں سے چند ارب ڈالر بحال کرنے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم امریکا نے ایرانی دعوؤں کی تردید کی تھی۔

02/07/2026

سانحۂ کاہنہ کے بعد پورا علاقہ غم کی تصویر بنا ہوا ہے۔ فضا سوگوار ہے ہر آنکھ اشکبار ہے جبکہ حادثے میں جاں بحق تمام 14 بچوں کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا سانحہ کاہنہ میں جاں بحق بچوں کے لواحقین کو 20, 20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کردیا۔

بچوں اور بچیوں کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

المناک سانحے کے باعث علاقے میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں جبکہ سوگ کی کیفیت ہر طرف نمایاں ہے۔

نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ رات بھر پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات رہی جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی مسلسل متحرک رہی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں روشنی، صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کا خصوصی انتظام کیا گیا۔

لاشوں کی منتقلی کے لیے شہرِ خموشاں کی گاڑیاں بھی موقع پر موجود رہیں جبکہ ستھرا پنجاب کی ٹیمیں صفائی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔

دوسری جانب جنرل اسپتال، چلڈرن اسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں زخمی خاتون ٹیچر اور بچوں کا علاج جاری ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ادھر پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ زخمی مالک مکان، خاتون ٹیچر کے شوہر ریحان، اس کے بھائی فیضان اور چھت پر کام کرنے والے مزدور عمیر کو تحویل میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے سانحے کے بعد صوبہ بھر کے سرکاری، نجی تعلیمی اداروں اور دیگر نجی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جامع جائزہ لینے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب ذیشان ملک نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کو 20, 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیے جائیں۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Raiwind?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address

Raiwind