Excellence Academy Quetta

Excellence Academy Quetta

Share

12/07/2026

*ایم ڈی کیٹ 2026: میرٹ، انصاف اور مساوی مواقع کا سوال*
پاکستان میں میڈیکل تعلیم ہمیشہ سے باصلاحیت طلبہ کے لیے ایک خواب اور قومی صحت کے نظام کے لیے مستقبل کی سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کی تاریخ، طریقہ کار اور شفافیت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے انعقاد کے لیے 16 اگست کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے، جس نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور اوورسیز پاکستانی خاندانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

روایتی طور پر ایم ڈی کیٹ اکتوبر کے آخر یا نومبر کے آغاز میں منعقد ہوتا رہا ہے۔ گزشتہ سال یہ امتحان 26 اکتوبر کو ہوا جبکہ میڈیکل کالجوں کی کلاسیں حسبِ معمول جنوری اور فروری میں شروع ہوئیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تعلیمی سیشن کے آغاز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو پھر امتحان کو دو ماہ سے زائد پہلے لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر تازہ امیدواروں (Fresh Candidates) پر پڑے گا۔ پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز کے عملی امتحانات ابھی تک جاری ہیں اور متعدد طلبہ کے پریکٹیکلز ایم ڈی کیٹ کی مقررہ تاریخ تک بھی مکمل نہیں ہوں گے۔ ایسے میں طلبہ کو ایک طرف بورڈ امتحانات اور دوسری طرف ایم ڈی کیٹ کی تیاری بیک وقت کرنا پڑ رہی ہے، جو یقیناً ایک غیر معمولی دباؤ ہے۔

فیڈرل بورڈ کے طلبہ کے سالانہ امتحانات 25 جون کو ختم ہوئے۔ اس طرح ان کے پاس ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے صرف 45 سے 50 دن بچتے ہیں۔ یہ مدت ایک ایسے امتحان کے لیے ناکافی ہے جس میں فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر دونوں کا مکمل نصاب شامل ہوتا ہے۔ بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، انگلش اور لاجیکل ریزننگ جیسے مضامین کی دو سالہ تیاری کو چند ہفتوں میں سمیٹنا کسی بھی طالب علم کے لیے آسان نہیں۔

صورتِ حال اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلے کا میرٹ 95 فیصد یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے ماحول میں چند نمبروں کا فرق بھی کسی طالب علم کے مستقبل کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ اس لیے امتحان میں برابری کے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

ایم ڈی کیٹ جلد لینے کے حق میں ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ اس سے اکیڈمی کلچر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ تاہم عملی طور پر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ بیشتر اکیڈمیاں پہلے ہی طلبہ سے فیسیں وصول کر چکی ہیں۔ ماضی میں طلبہ بورڈ امتحانات کے بعد چار سے پانچ ماہ تک اکیڈمیوں میں تیاری کرتے تھے، جبکہ اب یہی فیس لے کر انہیں صرف چند ہفتے پڑھایا جائے گا۔ اس طرح اکیڈمیوں کے بجائے نقصان صرف طلبہ کا ہوگا۔

اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو ریپیٹر طلبہ کو حاصل ہونے والا غیر معمولی فائدہ ہے۔ ایم ڈی کیٹ کا نتیجہ تین سال تک قابلِ قبول رہتا ہے۔ چنانچہ گزشتہ برسوں میں امتحان دینے والے ہزاروں امیدوار اب بھی مقابلے میں شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے طلبہ ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے مسلسل تیاری کر رہے ہیں۔ بعض دیگر تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے باوجود ایم ڈی کیٹ کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس تازہ امیدوار ابھی اپنے بورڈ امتحانات سے فارغ ہوئے ہیں اور انہیں صرف ڈیڑھ ماہ کے اندر دو سالہ نصاب کا ازسرِ نو مطالعہ کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ریپیٹر طلبہ کو نمایاں برتری حاصل ہوگی۔

گزشتہ سال بھی اس عدم توازن کے اثرات واضح طور پر دیکھنے میں آئے۔ عمومی مشاہدہ یہ تھا کہ میڈیکل کالجوں میں داخلوں کی بڑی تعداد ریپیٹر طلبہ نے حاصل کی جبکہ تازہ امیدواروں کا تناسب نسبتاً کم رہا۔ اس کے نتیجے میں متعدد طلبہ ایک ادارے سے دوسرے ادارے منتقل ہوئے، جس سے نہ صرف طلبہ اور والدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ تعلیمی وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی سوالات اٹھے۔ اگر اس سال تازہ امیدواروں کو مزید کم وقت دیا گیا تو یہ فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔

اوورسیز پاکستانی خاندان بھی اس فیصلے سے شدید متاثر ہوں گے۔ بیرونِ ملک مقیم ہزاروں پاکستانی اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ سفری منصوبہ بندی، چھٹیوں، رہائش اور دیگر انتظامات روایتی ایم ڈی کیٹ شیڈول کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔ اچانک اگست میں امتحان رکھنے سے ان خاندانوں پر اضافی مالی اور انتظامی بوجھ پڑے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کو دوبارہ اکتوبر یا نومبر کے روایتی شیڈول پر لایا جائے۔ اس سے طلبہ کو مناسب تیاری کا وقت ملے گا، ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی، جاری عملی امتحانات کے مسئلے کا حل نکلے گا، اور سب سے بڑھ کر داخلوں کے عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے گا۔

یہ معاملہ صرف چند طلبہ کا نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے ڈاکٹروں، صحت کے نظام اور میرٹ پر مبنی تعلیمی ڈھانچے کا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور ایک ایسا حل اختیار کریں جو انصاف، مساوی مواقع اور طلبہ کے بہترین مفاد کے مطابق ہو۔

09/07/2026

It's the best opportunity to join Sir Jahangir's classes.
Learn from one of the most experienced English teachers with over 20 years of teaching experience. Gain valuable knowledge, improve your skills, and benefit from his expertise.

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Faiz Muhammad Road, Near Fatima Jinnah Road
Quetta
87300