Mullazai
13/01/2026
Qamar Baloch
06/02/2025
ملازئی
خضدار میں ایک لڑکی نے رشتے سے انکار کیا، اور اس کے نتیجے میں اسے اغوا کر لیا گیا، جبکہ اس کے گھر والوں پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ بیس گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن انصاف کے ایوانوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ سڑکیں بند ہیں، لوگ احتجاج کر رہے ہیں، مگر وہ تمام لوگ جو خود کو عوام کے نمائندے کہتے ہیں، کہیں نظر نہیں آ رہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے نواب ثناء اللہ زہری کا ہاتھ ہے، لیکن انہوں نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔ اگر وہ ملوث نہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے جو ریاستی اداروں کی موجودگی میں ایک بے گناہ لڑکی کو اغوا کروا سکتا ہے، ایک پورے خاندان کو تشدد کا نشانہ بنا سکتا ہے، اور پھر بھی بے خوف گھوم سکتا ہے؟ کیا بلوچستان میں قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے، اور طاقتور ہمیشہ آزاد رہتے ہیں؟
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ظلم ہوا، آوازیں اٹھیں، مگر وقت کے ساتھ سب بھلا دیا گیا۔ یہاں ہر بار یہی ہوتا ہے، ایک بیٹی کو اس کی پسند کی سزا دی جاتی ہے، خاندان کو خوف میں مبتلا کر دیا جاتا ہے، اور معاشرہ خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ یہ ظلم صرف کسی ایک خاندان کے خلاف نہیں، یہ پورے بلوچستان کے خلاف ہے۔ یہاں لڑکیوں کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں، یہاں طاقتور کا قانون چلتا ہے، یہاں انصاف صرف فائلوں میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔
بیس گھنٹے ہو چکے ہیں، لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، کوئی بڑی شخصیت میدان میں نہیں آئی، کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔ سیاست دان، نواب، سردار، ریاستی ادارے، سب تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ جنہیں قانون کی حفاظت کرنی چاہیے، وہ خاموش ہیں۔ جو اپنے آپ کو عوامی لیڈر کہتے ہیں، وہ نظر نہیں آ رہے۔ ان کی خاموشی صرف بزدلی نہیں، بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔
یہ واقعہ محض ایک لڑکی اور اس کے خاندان کا معاملہ نہیں، یہ پورے بلوچستان کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر آج اس ظلم کے خلاف کھڑا نہ ہوا گیا، اگر مجرموں کو سزا نہ ملی، اگر اغوا شدہ لڑکی کو بازیاب نہ کرایا گیا، تو کل کسی اور کے ساتھ یہی ہوگا۔ اور جب وہ دن آئے گا، تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے، کیونکہ جو معاشرے ظلم سہنے کے عادی ہو جاتے ہیں، وہ ایک دن مکمل تباہ ہو جاتے ہیں
::::::::::::::::(وحید بلوچ):::::::::::::::
Click here to claim your Sponsored Listing.