Syed Muhammad Adil Agha
26/05/2026
جمعیت علماءِ اسلام کے صوبائی رہنما
سید عادل آغا
کی جانب سے تمام اہلِ اسلام کو دل کی گہرائیوں سے عید الاضحی مبارک ہو۔
اللہ تعالیٰ اس بابرکت عید کے صدقے ہم سب کی عبادات، قربانیاں اور دعائیں قبول فرمائے، وطنِ عزیز میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کو فروغ دے۔ آمین۔
انشاءاللہ العزیز 4جون کو ضلع پشین کے تایخ ساز کانفرنس میں بہرپور شرکت کرینگے
20/05/2026
دوسرا حصہ :
عظیم مائیں تاریخ نہیں بنتیں،
تاریخ اُن پر فخر کرتی ہیں۔
تمام مائیں عظیم ہوتی ہیں، مگر میری ماں دوسروں سے بڑھ کر تھیں۔ اور اس سے پہلے کہ دنیا بھر کے ماں پرست لوگ مجھ پر اعتراض کریں، یہ تحریر پڑھ لیجیے اور پھر خود فیصلہ کیجیے۔
ان کی زندگی کا آغاز تقریباً 1958 میں کوئٹہ میں ایک باوقار خاندان میں ہوا۔ ان کے نانا اور دادا دونوں اُس وقت کے بلوچستان کے بااثر افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے نانا ملک موسیٰ جان شہر کے معاملات میں اثر و رسوخ رکھتے تھے اور بابائے قوم تک سے ملاقات و تعلق رکھتے تھے۔
ان کے دادا خان صاحب آغا جہاں شاہ بلوچستان کے پہلے ویٹرنری سرجن تھے اور خانِ قلات احمد یار خان کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔
ان کے والد ایک پیشہ ور فٹبالر تھے لیکن کم عمری میں گینگرین کے باعث دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئے۔ ان کی والدہ ایک نہایت باوقار اور کم گو خاتون تھیں جنہوں نے تمام عمر اپنے معذور شوہر کا ساتھ بغیر کسی شکایت کے نبھایا۔
ایسے ماحول میں وہ اور ان کے دو چھوٹے بہن بھائی پروان چڑھے، لیکن ان کے مطابق ان کی تربیت پر سب سے گہرا اثر ان کی دادی کا تھا جو سلیمان خیل قبیلے کی خلجی پشتون خاتون تھیں۔
وہ سخت نظم و ضبط رکھنے والی، مذہبی، باوقار اور کوئٹہ کے اشرافیہ حلقوں میں خواتین کے درمیان نہایت معزز سمجھی جاتی تھیں۔
ایک نسبتاً شہری ماحول سے، دسمبر 1976 میں ان کی شادی پشین کے ایک دیہی زمیندار و کاروباری خاندان میں ہوئی۔ والدہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ وہ ان کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے کیونکہ دیہی زندگی کے طور طریقوں سے ہم آہنگ ہونا ان کے لیے آسان نہ تھا۔
لیکن جلد ہی زندگی نے اس سے بھی بڑا امتحان لیا جب وہ کراچی منتقل ہوئیں اور چار نہایت شرارتی بچوں کی ماں بن گئیں۔
میری ابتدائی یادیں دھندلی سی ہیں۔ بہت سوچنے کے بعد مجھے یاد آتا ہے کہ میں ایک تقریب میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا، جہاں عورتوں اور بچوں سے بھرا ہوا ہال تھا اور میں ان کے حسن و وقار میں کھویا ہوا تھا۔
پھر وقت آگے بڑھا، میں اور میرا بڑا بھائی کسی اچھے اسکول کےkindertan )KG class) میں تھے، اور وہ مجھے زبردستی suspenders پہناتی تھیں۔ میرا ضدی بچپن اسے فیشن کی خلاف ورزی سمجھتا تھا۔
کئی دہائیوں بعد معلوم ہوا کہ وہ مردانہ لباس کی بہترین چیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اس کہانی کا سبق یہ ہے:
“مالک غلط ہوسکتے ہیں، مگر مائیں کبھی غلط نہیں ہوتیں۔”
جاری ہے______
18/05/2026
کراچی
قاٸد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب
سے تفصیلی اور خوشگوار ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر سید طفیل شاہ، سید نادر شاہ اور سید منیر آغا بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران مختلف سیاسی، سماجی اور تنظیمی امور پر تفصیلی گفتگو اور تبادلۂ خیال ہوا
17/05/2026
اُمی۔
عظیم ماں
اُن کی افسوسناک اور بالکل غیر ضروری رحلت کے دن، ایک ایسے صاحبِ دانش نے — جن کی بصیرت اور حقیقت پسندی کا میں ہمیشہ معترف رہا ہوں — مجھ سے کہا کہ انسان خدا کے وجود، اس کی حقیقت یا اس کی مختلف صورتوں پر ہمیشہ بحث کرتا رہے گا، مگر اربوں انسان جو ہم سے پہلے گزر چکے اور جو ہمارے بعد آئیں گے، اپنی ماؤں کی محبت اور طاقت پر کبھی شک نہیں کریں گے۔
مائیں ہماری آخری پناہ گاہ ہیں، امید کا آخری سہارا، اور شاید خدا سے ہمارا سب سے گہرا تعلق بھی۔
ظاہری مضبوطی اور بے خوفی کے باوجود، حقیقت یہ ہے کہ ہم بڑے لوگ بھی اس شوریدہ دنیا میں جینے کے لیے اپنی ماؤں کے محتاج ہوتے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ جوں جوں عمر بڑھتی ہے، ہم ایک اور دن جینے کے لیے اپنی ماں کی قربت میں مزید سکون تلاش کرتے ہیں۔
اسی لیے ہم انہیں اپنی ملکہ، اپنی چٹان، اور اپنا نجات دہندہ کہتے ہیں۔ ملکہ صرف تاج، شان و شوکت، رسومات یا درباری ہجوم کی وجہ سے عظیم نہیں ہوتیں، بلکہ اُن کے اعلیٰ اخلاق، شائستگی اور کردار انہیں صدیوں بعد بھی زندہ رکھتے ہیں۔
Queen Marie Antoinette کو ہمیشہ اُس جملے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو دراصل غلط طور پر اُن سے منسوب کیا گیا:
“اگر روٹی نہیں تو کیک کھاؤ”
مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جب وہ گیلوٹین کے سامنے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں کھڑی تھیں تو جلاد کے پاؤں پر قدم پڑنے پر انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:
“معاف کیجیے گا جناب، یہ جان بوجھ کر نہیں ہوا۔”
اسی طرح شاہانہ وقار اور سکون کا مظاہرہ کرتے ہوے Queen Marie Antoinette نے اپنی سزائے موت سے پہلے اپنے قید کرنے والے سے کہا:
“یہ آخری تکلیف ہے جو میں آپ کو دے رہی ہوں۔”
Brother--- سید فیصل آغا
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
15/05/2026
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنما
جناب سید عادل آغا کی جانب سے
تمام اہلِ اسلام کو دل کی گہرائیوں سے
جمعہ مبارک 🌹
اللہ تعالیٰ اس بابرکت دن کے صدقے
ہم سب کی دعاؤں کو قبول فرمائے،
ملک میں امن، خوشحالی اور اتحاد عطا فرمائے۔ آمین 🤲
07/05/2026
الحمدللہ
میرے مؤدبانہ درخواست پر کلی بالا حاجی زئی سیدان یونٹ کے لیے محترم سعید شاہ صاحب بلا مقابلہ امیر اور محترم سید امیر اللہ صاحب ناظمِ عمومی منتخب ہوئے۔
اس موقع پر میں تمام ذمہ داران اور کارکنان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں احباب اپنی صلاحیتوں، اخلاص اور محنت کے ذریعے جماعت اور علاقے کی بہترین خدمت انجام دیں گے۔
اللہ تعالیٰ انہیں دین و ملت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔
05/05/2026
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنما سید عادل آغا نے شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس صاحب کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے جس سے دینی و علمی حلقوں میں شدید دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک جید عالم دین، بہترین استاد اور باعمل شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت، طلبہ کی تربیت اور حق کی دعوت میں گزاری
27/04/2026
جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنما سید عادل آغا نے کلی حرمزئی لمڑان چوکی پر حملے میں نعمت اللہ ترین کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہید نعمت اللہ ترین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔
#سیــدعـادل
18/04/2026
نزر محمد کاکڑ صاحب کو مرحوم بسم اللہ خان کاکڑ کے جانشین مقرر ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں دعاگوں ہوں کہ اللہ پاک ان کومرحوم بسم اللہ خان کاکڑ کےنقشے قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے امین
جمعت علماء اسلام کے صوباٸی رہنما سماجی و سوشل ورکرسیدعادل صاحب
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Pishin