Kidy Fun

Kidy Fun

Share

17/04/2026

مرد میدان
گورے کے ڈر کا یہ عالم ہے کہ مسلم ممالک میں پڑا غیر فعال یورینیم بھی انکو خوف میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ یہ کم فعال یورینیم جو کم نقصان دہ ہے بنسبت زیادہ خالص 95٪ یورینیم کے جو گورے کے پاس موجود ہے۔ مگر پھر بھی وہ اس یورینیم سے ڈر رہا ہے۔
وجہ جو مجھے سمجھ آئی ہے۔
عراق کے پاس کچھ نہیں تھا ماسوائے چند مزائیلوں کے تب بھی اسکے مزائیل پہلے غیر فعال کئے گئے اسے بھی لالچ دیا گیا کہ اس ہر سہولت دی جائے گی وہ اپنے مزائیل ختم کر دے نتیجہ سب نے دیکھا۔
اب جب طاقت سے کچھ حاصل نہ ہو سکا تو مزاکرات کی ٹیبل پر بھی وہی رٹ ہے کہ یورینیم ہمیں دے دو بدلے میں ہم تمام پابندیاں ہٹا دیں گے۔
یہاں بھی نتیجہ مختلف نہیں ہو گا۔ یہاں بھی وہی تاریخ دہرائی جائے گی۔
مطلب یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں کسی مسلم ملک کے پاس ایسا کچھ بھی نہ ہو جس کی وجہ سے انہیں جنگ کے دوران خطرات لاحق ہوں۔
اور خود یہ جو جی چاہے بناتے پھریں۔
دنیا میں سب سے پہلے ایٹمی حملہ امریکا نے جاپان پر کیا کیونکہ جاپان کسی صورت انکے قابو میں نہیں آ رہا تھا، یہ جنگ لڑنے میں ان سے زیادہ کمزار ثابت ہو رہے تھے۔ جو مجھے سمجھ آیا یہ میدان کے لوگ ہیں ہی نہیں۔ یہ چاہتے ہیں شروع سے چاہتے ہیں کہ دشمن جو بھی ہو نہتا ہو اور ہم انکے خلاف کھل کر جو جی چاہے کرتے پھریں۔
یہ مدر میدان کا شیوا نہیں۔
جنگ کے میدان میں بازو کا زور آزمایا جاتا ہے۔ نہتے دشمن سے کیسی جنگ۔ جبکہ یہ ایسے ہی ہیں نہتے دشمن پر وار کرنے والے۔
اب ہو گا یہ کہ ہر حربہ استعمال کیا جائے گا، چاہے انہیں ایرانیوں کے آگے لیٹنا پڑے یہ لیٹیں گے تاکہ بھلا پھسلا کر وہ انکو نہتا کر سکیں اور اسکے بعد یہ اپنے مرضی سے لڑ سکیں اور مرضی کے نتائج حاصل کر سکیں۔
مگر عام کلاشنکوف اور آر پی جی سیون سے بھی یہ جیت نہیں پائے اور بلآخر انکو بھاگنا پڑا۔
اب اندازہ کر لیں کہ انکی فنی تربیت کیا اور کتنی ہے۔ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود دشمن کے پاس میا تھا صرف راکٹ لانچر اور کلاشنکوف۔ اور یہ اپنے جدید ترین ہتھیاروں، جاسوسی کے نظام کے باوجود کچھ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
مجھے جو سمجھ آئی ہے یہ مرد میدان ہی نہیں ہیں۔ وہ انسان کبھی مرد میدان اور فاتح نہیں ہو سکتا جو نہتے لوگوں کو دشمن کہے اور پھر انکا قتل عام کرے۔
ماضی قریب کے بہت سے واقعات ہمارے سامنے ہیں جن سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم نے انکو پس پشت ڈال دیا ہے۔
مگر یہ خیال بہت شدید ہے کہ ہمارے اوپر بیٹھے حکمران اور خاص کر ہماری فورسز کی سینئر کمانڈ ان تمام باتوں سے آگے بھی بہت کچھ جانتی ہے اور انکو بخوبی اندازہ ہے کہ اپنے ملک اور دوستوں کا دفاع اور مدد کیسے کرنی ہے اور کیسے کی جاتی ہے۔
اتنے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کا کام ہی سوچنا اور اس سوچ پر عمل کروانا ہوتا ہے یہی انکا عملی کام ہے۔
دل مطمئن ہے کہ انشاء اللہ وہ جو بھی کریں گے بہتر سوچیں گے اور کریں گے۔ وقتی ہم واقعی مشکلات میں ہیں لیکن اگر ہم مرد میدان ہیں تو ہم سہہ لیں گے۔
ہم مرد میدان تھے ہیں اور رہیں گے۔
آزمائش اور کڑا وقت آتا جاتا رہتا ہے، مگر ہم اپنا اصل نہیں بھولیں گے ہمیں بدر سے لے کر خیبر اور اسکے بعد اب تک سب یاد ہے۔
مومن ہو تو بے تیخ بھی لڑتا ہے سپاہی
کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

25/02/2026

Mechanical engineering work genius,

22/02/2026

“No Helmet vs Helmet – The Difference is Life!”

Want your business to be the top-listed Media Company in Phalia?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Phalia
50450