Azmat Akbar

Azmat Akbar

Share

23/04/2026

حجاز ریلوے عثمانی خلافت کا ایک زبردست پلان تھا،
حجاز ریلوے کا یہ پلان ترکی اور عرب دنیا کو جوڑنے والا پلان تھا!

لیکن 1917-1918 میں عربوں کی ناعاقبت اندیشی اور انگریزوں کی سازشوں کے نتیجے میں یہ پورا پروجیکٹ تباہ کردیا گیا تھا!

اب، سو سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے بعد،
ایک بار پھر ترکی اور سعودی عرب اس متفقہ نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حجاز ریلوے دونوں کی، بلکہ پورے خطے کی ضرورت ہے!

ابھی ایک خبر دیکھی اور ساتھ ہی تصویر میں موجود نقشہ بھی دیکھا، کہ؛
اس سال یعنی 2026 کے آخر تک حجاز ریلوے کی پلاننگ مکمل ہوجائے گی!

یعنی جو کام 100 سال سے بھی پہلے ہوجانا چاہیے تھا، وہ کام اب شروع کیا جارہا ہے!

حقیقت یہ ہے کہ عربوں نے مغربی دنیا کی غلامی کے نتیجے میں صرف اور صرف اپنا اور اسلامی امت کا نقصان کیا ہے!

غلامی کا یہ سلسلہ جس قدر تیزی سے ختم ہوگا، اسی قدر تیزی کے ساتھ امت کے حالات میں تبدیلی آئے گی، ان شاء اللہ

تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی

23/04/2026

*سال 2001۔ NUST۔ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔

پہلا دن۔* ساٹھ لڑکوں کے بیچ ایک لڑکی داخل ہوتی ہے۔ نام سارہ قریشی۔ کلاس کے پیچھے بیٹھتی ہے۔ لیکچرر گھور کر دیکھتا ہے۔ لڑکے سرگوشی کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے “بی بی آپ غلط کلاس میں آ گئی ہیں، ہوم اکنامکس والی بلڈنگ ساتھ والی ہے”۔ سارہ مسکراتی ہے اور کاپی کھول لیتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ غلط کلاس میں نہیں، غلط صدی میں پیدا ہوئی ہے۔ مگر صدی بدلنے کے لیے کسی ایک کو تو پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ قدم سارہ نے اس دن اٹھا لیا اور پھر چار سال تک NUST کی لیب میں سب سے آخر میں لائٹ بند کر کے جانے والی وہی لڑکی تھی جسے پہلے دن کلاس کا راستہ پوچھا گیا تھا۔ گارڈ رات دس بجے ٹوکتا تھا “بی بی گھر جاؤ، یہاں لڑکیوں کا کیا کام”، سارہ جواب دیتی تھی “چاچا، جہاز کا انجن بنا رہی ہوں، صبح تک ہو جائے گا تو چلی جاؤں گی”۔ گارڈ ہنستا تھا۔ سارہ نہیں ہنستی تھی۔

کیونکہ اسے پتہ تھا کہ پاکستان کی پہلی فیمیل مکینیکل انجینئر بننے کے لیے راتیں کالے کرنی پڑتی ہیں۔ 2005 میں ڈگری ملی۔ NUST کی تاریخ میں پہلی لڑکی۔ لوگوں نے کہا “چلو شاباش، اب نوکری کرو یا شادی”۔ سارہ نے دونوں باتیں سنیں اور تیسری کر دی۔ آٹوموٹو انڈسٹری جوائن کی۔ پاکستان کے ہب میں۔ جہاں انجن تو بنتے تھے مگر چھوٹے۔ سارہ نے وہاں UAV یعنی ڈرون کا آٹو پائلٹ سسٹم ڈیزائن کیا۔ وہ سسٹم جو ڈرون کو خود بخود اڑاتا ہے، بلندی سنبھالتا ہے، ہوا کے تھپیڑے میں بیلنس رکھتا ہے۔ انڈسٹری نے کہا “یہ لڑکی تو کام کی ہے”۔ مگر سارہ کا خواب بڑا تھا۔

اسے زمین پر نہیں، آسمان میں اڑنا تھا۔ اسکالرشپ ملی۔ UK چلی گئی۔ Cranfield University۔ دنیا کی ٹاپ ایرو اسپیس یونیورسٹی۔ وہاں PhD شروع کی۔ موضوع؟ Aerospace Propulsion۔ آسان لفظوں میں: جہاز کا انجن۔ اب ذرا رکو اور سوچو۔ لاہور کی ایک لڑکی، جسے NUST میں کلاس کا راستہ بتایا گیا تھا، اب دنیا کے سب سے مشکل موضوع پر PhD کر رہی ہے۔ اور اکیلی نہیں کر رہی۔ MSc کے گورے لڑکوں کو پڑھا بھی رہی ہے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں “You are from Pakistan? And you are teaching us jet engines?” سارہ کہتی ہے “Yes, and I will build one too”۔ پی ایچ ڈی کے دوران اس کا واسطہ پڑا ایک ایسے مسئلے سے جس نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا تھا۔ جب جہاز اڑتا ہے تو پیچھے سفید لکیر چھوڑتا ہے۔ ہم سب نے دیکھی ہے۔ اسے کنٹریل کہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بادل ہے۔ مگر سائنس کہتی ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ یہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مطلب تمہاری گاڑی سے زیادہ جہاز کا وہ سفید دھواں زمین کو گرم کر رہا ہے۔ پچاس سال سے سائنسدان حل ڈھونڈ رہے تھے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان سب فیل۔ سارہ نے اپنے والد مسعود لطیف قریشی کے ساتھ بیٹھ کر کہا “ابو، اگر مسئلہ دھوئیں کا ہے تو دھواں ہی ختم کر دیتے ہیں”۔ باپ فزسٹ تھا، بیٹی انجینئر۔ دونوں نے لیب میں تالا لگا دیا۔ 2018 کا سال تھا۔

تین سال لگے۔ نیندیں حرام ہوئیں۔ Cranfield کے پروفیسر
بھی ساتھ مل گئے۔ اور پھر ایک دن انجن اسٹارٹ ہوا۔ انجن نے دھواں باہر نہیں پھینکا۔ اندر ہی پکڑ لیا۔ کیسے؟ اس کے اندر ایک پریشر بیسڈ کنڈنسیشن سسٹم لگا ہے۔ یہ سسٹم ایگزاسٹ کے گرم بخارات کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ بخارات پانی بن جاتے ہیں۔ وہ پانی جہاز کے ایک ٹینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ کنٹریل؟ زیرو۔ دھواں؟ زیرو۔ گلوبل وارمنگ میں جہاز کا حصہ؟ ختم۔ اور کہانی یہاں نہیں رکی۔ سارہ نے کہا “یہ پانی ضائع کیوں کریں؟” اس نے سسٹم میں ایک اور کمال کر دیا۔ پائلٹ جب چاہے بٹن دبا کر وہ پانی بادلوں میں چھوڑ سکتا ہے۔ مطلب جہاز سے مصنوعی بارش۔ جہاں قحط ہو، وہاں پانی۔ ایک انجن، تین کام۔ ایک: گلوبل وارمنگ کم۔ دو: مصنوعی بارش۔ تین: فیول ایفیشنسی بڑھ گئی کیونکہ انجن کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہا۔ دنیا نے جب یہ سنا تو سانس روک لی۔ امریکہ اور UK نے فوراً دو انٹرنیشنل پیٹنٹ دے دیے۔ 2018 میں ہی سارہ پاکستان واپس آئی۔ والد کے ساتھ مل کر کمپنی بنائی: Aero Engine Craft Private Limited۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی کمرشل جیٹ انجن R&D کمپنی۔ پرائیویٹ سیکٹر میں۔ ایک عورت کی لیڈرشپ میں۔ لیب لاہور میں لگائی۔

اور پھر وہ کر دکھایا جو آج تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان کا پہلا سول جیٹ انجن بنا دیا۔ جی ہاں۔ مکمل جیٹ انجن۔ زمین پر چلا کر دکھایا۔ ٹیسٹ ہوا۔ کامیاب۔ اس دن پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا جو کمرشل جیٹ انجن بنا سکتا ہے۔ پہلے پانچ کون ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین۔ چھٹا نام کس نے لکھوایا؟ ایک پاکستانی بیٹی نے۔ سارہ قریشی نے۔ مگر رکو۔ کہانی ابھی باقی ہے۔ اسی دوران سارہ نے ایک اور پیٹنٹ فائل کر دیا۔ کس چیز کا؟ سپرسونک کمرشل ایئرکرافٹ انجن۔ مطلب وہ انجن جو آواز سے تیز جہاز کو اڑائے گا۔ لاہور سے لندن دو گھنٹے میں۔ اور یہ بھی کنٹریل فری۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں ابھی اس پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ سارہ نے ڈیزائن مکمل کر لیا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد سارہ نے کہا “بس انجن بنانا کافی نہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر کیسا لگتا ہے”۔ اس نے پرائیویٹ پائلٹ لائسنس لیا۔ جہاز اڑانا سیکھا۔ Aerobatic flying بھی کی۔ مطلب الٹا سیدھا جہاز اڑانا۔ کیوں؟ کیونکہ سارہ کہتی ہے “اگر میں انجن بناؤں گی تو مجھے پائلٹ کا درد سمجھنا پڑے گا”۔ اب تم بتاؤ۔ اس عورت کو کس چیز نے روکا؟ NUST میں طعنے؟ نہیں۔ انویسٹرز کا انکار؟ نہیں۔ “تم لڑکی ہو” کا لیبل؟ نہیں۔

سارہ ہر دیوار سے ٹکرائی اور دیوار گر گئی۔ آج وہ Cranfield University میں وزٹنگ اکیڈمک ہے۔ وہاں کے پروفیسرز اس سے فیڈ بیک لیتے ہیں کہ ماحول دوست انجن کیسے بہتر ہو۔ Tamgha-e-Imtiaz مل چکا۔ بیس انٹرنیشنل ایوارڈ جیت چکی۔ مگر سارہ کا اصل ایوارڈ وہ ہے جو ابھی آنا ہے۔ جب PIA کا کوئی جہاز لاہور ایئرپورٹ سے اڑے گا اور اس کے پر پر لکھا ہو گا “Engine by Aero Engine Craft – Made in Pakistan”۔ اس دن تمہارا پاسپورٹ دیکھ کر امیگریشن والا نہیں پوچھے گا “ویزہ کہاں ہے؟” وہ پوچھے گا “یہ انجن تمہارے ملک نے بنایا ہے؟” اور تم فخر سے کہو گے “ہاں، ہماری ایک بیٹی نے بنایا ہے”۔ اب بات کرتے ہیں تمہاری۔ ہاں تمہاری۔ جو یہ پوسٹ پڑھ رہی ہو۔ اسکول میں ہو، کالج میں ہو، یا یونیورسٹی میں۔ تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا: سارہ کی طرح لیب کا راستہ۔ رات دس بجے گارڈ کے طعنے سننا، مگر انجن بنا کر نکلنا۔ دوسرا: انسٹاگرام کا راستہ۔ ریل بنانا، لائک گننا، اور دس سال بعد پچھتانا کہ “کاش میں نے بھی کچھ کر لیا ہوتا”۔ سارہ تمہیں بتا رہی ہے کہ مکینیکل انجینئرنگ لڑکوں کا فیلڈ نہیں ہے۔ R&D پاکستان میں نہیں ہو سکتی یہ جھوٹ ہے۔ جیٹ انجن ہم نہیں بنا سکتے یہ بہانہ ہے۔ اس نے کر کے دکھا دیا۔ اب بال تمہارے کورٹ میں ہے۔ تمہارا باپ سائنسدان نہیں ہے؟ سارہ کا تھا۔ تم فائدہ اٹھاؤ۔ اپنے بھائی کو، والد کو، استاد کو اپنا پارٹنر بناؤ۔ ٹیم بناؤ۔ سارہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے والد مسعود لطیف قریشی اس کے کو-فاؤنڈر ہیں۔ باپ بیٹی نے مل کر دنیا ہلا دی۔ تم بھی کسی کا ہاتھ پکڑو۔ اور سب سے ضروری بات: مسئلہ ڈھونڈو۔ رونا بند کرو۔ دنیا گلوبل وارمنگ سے رو رہی تھی۔ سارہ نے انجن بیچ کر اربوں بھی کمائے اور دنیا بھی بچا لی۔ تمہارے گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہے؟ سولر پمپ بناؤ۔ لوڈ شیڈنگ ہے؟ بیٹری بناؤ۔ بے روزگاری ہے؟ ایپ بناؤ۔ بہانہ مت بناؤ۔ سارہ کے پاس ہزار بہانے تھے۔ “میں لڑکی ہوں” سب سے آسان تھا۔ اس نے استعمال نہیں کیا۔ تم بھی مت کرو۔

2026 ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے دس لاکھ لوگوں کو AI سکھائیں گے۔ مگر AI سے پہلے ایرو اسپیس ہے۔ جیٹ انجن ہے۔ ہارڈ ویئر ہے۔ اگر ہم نے سارہ جیسی دس لڑکیاں اور پیدا نہ کیں، تو کل ہم AI بھی باہر سے خریدیں گے، انجن بھی، اور جہاز بھی۔ اور ہماری بیٹیاں ایئر ہوسٹس بن کر ان جہازوں میں چائے سرو کریں گی جو ہماری ہی کسی بہن نے ایجاد کیے ہو سکتے تھے۔ فیصلہ ابھی کرو۔ یہ پوسٹ اس لڑکی کو بھیجو جو کہتی ہے “مجھ سے نہیں ہو گا”۔ اس کے ماتھے پر مارو یہ پوسٹ۔ اسے بتاؤ کہ NUST کی اس کلاس میں ساٹھ لڑکوں کے سامنے ایک سارہ کھڑی ہوئی تھی۔ آج پوری دنیا اس کے سامنے کھڑی ہے۔ تم بھی کھڑی ہو سکتی ہو۔ شرط صرف ایک ہے: کلاس کا راستہ مت پوچھو، کلاس کا راستہ بناؤ۔ اور جب انجن بن جائے تو دنیا کو بتانا مت بھولو کہ “ہاں، میں پاکستان کی بیٹی ہوں۔ اور میں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا”۔ کمنٹ میں “انجن” لکھ کر اعلان کرو کہ اگلی سارہ قریشی تم ہو۔ میں گن رہا ہوں۔ پاکستان گن رہا ہے۔

08/04/2026

کیسا دیس ہے میرا!!
آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ افغانستان اور عوام، دونوں کی منجی ٹھوکی۔ امریکا سے جپھی ڈالی. چین سے جنگ بندی کی بات کی۔ ایران کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ سعودی عرب پر حملے کی مذمت کی اور مشترکہ دفاعی معاہدہ پانی شانی مار کر دوبارہ تازہ کیا. پڑوسی کی آتما رولتے ہوئے دنیا میں ایکسٹریم ازم کے 'ایکسپورٹر' ملک میں 'اسلام آباد اکارڈ' کا رولا ڈالا. آبنائے ہرمز، جہاں دنیا بھر کی سٹی گم ہے، وہاں پاکستانی جھنڈے کے زور پر جہاز گزارے. امارات کو تین ارب ڈالرز قرض واپس دینے کی یقین دہانی کرائی. ٹرمپ کو دو ہفتے کی مہلت دلوائی۔ اقوام متحدہ میں بحرین کی قرارداد پر ووٹ دینے سے بھی بچ بچا کرلیا. ٹرمپ جیسے سانڈ کو آخری لمحات میں تعویز کرکے ایرانی سول آبادی کو بہت بڑی بربادی سے بچایا. عالمی ثالث بنے۔ آبنائے ہرمز کھلوائی۔ دنیا بھر کو تیسری عالمی جنگ سے (دو ہفتے) کے لیے بال بال بچا لیا.
اور قوم؟ قوم ہفتے میں تین دن ورک فرام ہوم کرتے ہوئے،پی ایس ایل دیکھ رہی تھی۔

یہ ملک نہیں، جگاڑ کا معجزہ ہے، جو بیک وقت دیوالیہ بھی ہے اور ناگزیر بھی۔ دنیا کی کوئی بزنس سکول اس ماڈل کو نہیں سمجھا سکتا جس میں ایک ملک ایک ہاتھ سے بھیک مانگے اور دوسرے ہاتھ سے دنیا بچائے۔ جس کی کرنسی گر رہی ہو مگر عالمی وقار بڑھ رہا ہو۔ جس کا بجٹ خسارے میں ہو مگر جغرافیائی سیاسی سرمایہ عروج پر ہو۔

کوئی اور ملک ہوتا تو یا تو قرض لیتا یا جنگ روکتا۔ پاکستان نے دونوں بیک وقت کیے۔ اور درمیان میں کرکٹ بھی دیکھی۔

اسے کہتے ہیں پاکستان۔ جہاں بقا بھی معجزہ ہے اور معجزہ بھی معمول ہے. الحمد للہ.

پاکستان - نام یاد رکھیں! 😅

عارف انیس

20/03/2026

یہ ایران کا وہ ائیرڈفینس ہے جس نے امریکا کے جدید ففتھ جنریشن طیارے ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے۔
اسکا نام AD-08 ہے جسے ماجد بھی کہتے ہیں۔

یہ سسٹم ایک گاڑی پر نصب ہوتا ہے، اسکے چار میزائل لانچر ،ایک ٹارگیٹنگ سائٹ اور کچھ معاون آلات مل کر ایک سسٹم تشکیل دیتے ہیں۔
یہ ایک شارٹ رینج سسٹم ہے جس کے میزائل کی رینج زیادہ سے زیادہ 8 کلومیٹر تک ہوتی ہے, میزائل ٹارگٹ سے نکلنے والی انفراریڈ شعاعوں کا پیچھا کرتے ہوۓ اسے نشانہ بناتا ہے۔
چونکہ اس سسٹم میں کوئ ریڈار استعمال نہیں ہوتا اس لیے اسے جیم نہیں کیا جا سکتا نا ہی اسکی نشان دہی کرنا آسان ہوتا ہے۔
عموما" یہ ائیر ڈفینس سسٹم ڈرون اور کروز میزائلوں کے خلاف زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے، مگر یہ کم بلندی پر محو پرواز لڑاکا طیارے بھی گرا سکتا ہے۔

ایف 35 اس ائیرڈفینس کا نشانہ بننے کے بعد کیوں نہیں گرا ؟
چونکہ اسکا میزائل چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں بارودی وارہیڈ بھی چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ایف 35 طیارے کو پہنچنے والا ڈیمج اتنا زیادہ نہیں تھا، مگر ہٹ ہونے والا ایف 35 آؤٹ آف سروس لازمی ہو گیا ہو گا۔

#سعیدغالب

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

UG 350 Deans Trade Canter Peshawar
Peshawar
25000