General Knowledge MCQs

General Knowledge MCQs

Share

31/12/2024

::: ہیپی نیو ایئر :::

نئے شمسی سال کے آغاز میں رات بارہ بجے کے بعد پوری دنیا میں ہیپی نیو ایئر ( Happy New Year ) منایا جاتا ہے ، جس میں منچلے مسلمان کفار سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، پوری دنیا میں عیسائی چونکہ اس وقت افرادی لحاظ سے سب سے زیادہ ہیں ، اس لئے ایک لحاظ سے اب یہ ان کا خصوصی تہوار قرار پا چکا ہے ، جب کہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی یہ تہوار اپنے سے سابقہ باطل مذاہب سے اخذ کیا ہے ، تاریخ میں اس قسم کے باطل تہواروں کا ذکر تقریباً دو ہزار قبل مسیح میں بھی ملتا ہے ، جو دیویوں اور دیوتاؤں کی طرف کسی نہ کسی حوالہ سے منسوب تھے ، عیسائیوں کا اس دن کو منانا ، ایک لطیفہ سے کم نہیں ہے ، وہ اس طرح کہ ایک طرف عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ 25 دسمبر کو عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی ، لہٰذا ہم اس دن کو کرسمس ڈے کے طور پر مناتے ہیں ، قطع نظر اس سے کہ یہ عیسیٰ ؑ کی ولادت کا دن ہی نہیں ہے ، جب عیسائیوں پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ پھر تم عیسیٰ ؑ کی ولادت کے دن سے اپنے نئے سال کا آغاز کیوں نہیں کرتے؟ تو ان کا جواب بھی ملاحظہ فرمائیے ، عذرِ لنگ تراشتے ہوئے کہتے ہیں کہ
مسیحؑ پیدا تو 25 دسمبر کو ہوئے تھے ، لیکن ان کی ختنہ ساتویں دن کی گئی تھی ، اس لئے ہم نیا سال اس دن سے شروع کرتے ہیں ، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عیسیٰؑ کی ختنہ کا دن اتنا اہم ہو گیا کہ اس سے پوری دنیائے عیسائیت نے نئے سال کا آغاز کرنا اور پھر اسے منانا شروع کر دیا اور دوسری طرف مزے کی بات یہ ہے کہ کل جہاں کے عیسائی مَردوں نے کبھی زندگی میں ختنہ ہی نہیں کرایا ، یہ بے چارے بغیر ختنہ ہی کے ختنہ والا دن مناتے رہتے ہیں ، لیکن حیرت ان پر نہیں ہے ، حیرانی تو ان مسلمانوں پر ہے جو اس قسم کے ڈھکوسلوں پر یقین کرتے ہوئے ان کے تہواروں میں شرکت کرتے ہیں ، کفار کے ایسے تہواروں میں شرکت اور انہیں اس پر مبارک باد دینے سے قرآن و سنت ، خلفائے راشدینؓ اور مذاہبِ اربعہ ، حنفیہ ، مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ سب ہی متفقہ طور پر ممانعت کرتے ہیں ، کیونکہ کرسمس ڈے اور ہیپی نیو ائیر کے در پردہ عیسائیوں کا یہ باطل عقیدہ چھپا ہوا ہے کہ العیاذ باللہ

’’ خدا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ۔‘‘

جس کی قرآن کریم میں کھل کر تردید کی گئی ہے ۔
نیز ابوداؤد ، سنن ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضورؐ کی ایک حدیث مبارکہ بھی موجود ہے کہ
’’ حضورؐ کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ کے مقام پر اونٹ قربان کرے گا ، آپؐ نے پوچھا کہ وہاں جاہلیت کے زمانہ میں کوئی بت کی پوجا تو نہیں ہوتی تھی؟ صحابہ نے بتایا کہ نہیں ، آپؐ نے پھر پوچھا کہ وہاں ان کے تہواروں میں سے کوئی تہوار تو منعقد نہیں ہوتا تھا ؟ صحابہ نے بتایا کہ نہیں ، پھر آپؐ نے فرمایا تم اپنی نذر پوری کر لو کیونکہ ایسی نذر کا پورا کرنا درست نہیں جو معصیت ہو یا جو آدمی کے بس سے باہر ہو ۔‘‘
جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا مشرکانہ مراسم اور مقامات سے دور رہنا کس قدر ضروری ہے ۔
چنانچہ خلیفہ راشد حضرت عمرؓ نے تو شام کے عیسائیوں کو پابند کر دیا تھا کہ
’’ وہ دار الاسلام میں اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے ۔‘‘
اسی پر امت کا دورِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے اتفاق چلا آرہا ہے ، چنانچہ کسی کافر کو اس کے مشرکانہ تہوار پر مبارک باد دینے کے حوالہ سے حافظ امام ابن القیمؒ نے کیا خوب تجزیہ فرمایا ہے ، کہتے ہیں کہ
’’ یہ ایسا ہی ہے کہ مسلمان اسے صلیب کو سجدہ کر آنے پر مبارک باد پیش کرے ! یہ چیز اس سے کہیں سنگین ہے کہ آدمی کسی شخص کو شراب پینے یا حرام شرم گاہ کے ساتھ بدکاری کرنے پر مبارک باد پیش کرے ۔‘‘
بعض منچلے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی عیدین پر عیسائی بھی تو ہمیں مبارک بادیں پیش کرتے ہیں اور ہم قبول کرتے ہیں تو ان کی عید پر انہیں مبارک بادیں دینے میں حرج ہی کیا ہے؟
بھلے لوگو ! اتنی موٹی سی بات ہے کہ ہماری عیدین کے پیچھے کوئی شرکیہ عقیدہ نہیں چھپا ہوا ، اس لئے ان کی طرف سے مبارک باد قبول کرنے میں مضائقہ نہیں ، جب کہ ان کی عید کے پیچھے نہ صرف شرکیہ عقیدہ چھپا ہوا ہے بلکہ حرام کاموں کی تلویث بھی مستزاد ہے ، اس لئے

؂ اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

مولیٰ کریم تمام مسلمانوں کو ایسی خرافات میں شامل ہونے سے بچائے ۔ آمین بحرمۃ سید المرسلین ۔

17/12/2024
17/12/2024

16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے پاکستان میں استعمال ہونے والا 10 روپے کا کرنسی نوٹ۔ ـ
نوٹ پر اردو اور بنگالی دونوں زبانوں میں 10 روپے درج ہے اس زمانے میں اردو اور بنگالی دونوں پاکستان کی قومی زبانیں تھیں

10/12/2024

حج اپڈیٹ 10 دسمبر، 2024

حج درخواستوں کی وصولی کا آج آخری دن۔ دن 12 بجے تک 75 ہزار 337 حج درخواستیں موصول ہوئیں۔ نامزد بینک آج بھی حج درخواستوں کی وصولی جاری رکھیں گے۔ 2 لاکھ روپے کی پہلی قسط کے ساتھ نزدیکی بینک میں درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔ سمندر پار پاکستانی سپانسرشپ سکیم میں بلا قرعہ اندازی شامل ہو سکتے ہیں۔ نئے درخواست گذار پہلے سے کامیاب عزیز و اقارب کے گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں: ترجمان مذہبی امور

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Peshawar