Alameer

Alameer

Share

27/05/2026

قربانی کا طریقہ اور دُعا

24/05/2026

خطبہ حج الوداع سے چند روایات :

خطبہ حجۃ الوداع مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے۔ ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں۔ ایک خطبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عرفات میں ارشاد فرمایا، یہی خطبہ سنتِ رسولؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر اب بھی ۹ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے۔ دوسرا خطبہ وہ ہے جو حضورؐصلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں ارشاد فرمایا۔ یہ دو تو باقاعدہ خطبے ہیں۔ جبکہ امام قسطلانیؒ نے ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں تھے، انہوں نے نبی کریمؐ ﷺ سے خطبات سنے، جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی۔ اس کے علاوہ آنحضرتؐ ﷺ سے بہت سے سوالات پوچھے گئے جن کے آپؐ نے جوابات دیے۔ حضورؐ نے حج کے مختلف مسائل کے بارے میں بھی ہدایات دیں۔ صحابہ کرامؓ سے عرفات اور منٰی میں نبی کریمؐ نے جو کچھ فرمایا، صحابہ کرامؓ نے جو جو بات یاد رکھ کر آگے منتقل کی، اس کو محدثین نے محفوظ کیا۔ ان سب کا مجموعہ محدثین کی اصطلاح میں ’’حجۃ الوداع کا خطبہ‘‘ کہلاتا ہے۔ اس میں عرفات و منٰی کے دو خطبے بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ مختلف مواقع پر نبی اکرمؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر خطابات بھی شامل ہیں۔
امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ’’ہمارے نزدیک چار خطبات ہیں:پہلا مکہ میں کعبہ کے نزدیک ذوالحجہ کے ساتویں دن، دوسرا مسجد نمرہ میں عرفہ کے دن ، تیسرا منیٰ میں نحر کے دن، چوتھا ایام التشریق کے دوسرے دن منیٰ میں۔‘‘

وہ زمانہ لکھنے پڑھنے کا زمانہ نہیں تھا بلکہ یادداشت کا زمانہ تھا اور یادداشت پر لوگ اعتماد کرتے تھے۔ یہ حجۃ الوداع کا خطبہ کتب حدیث کی سینکڑوں روایات میں نقل ہوا ہے۔چند روایات درج ذیل ہیں

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
’’اے لوگو! بخدا مجھے معلوم نہیں کہ آج کے بعد میں ا س جگہ تم سے مل سکوں گا یا نہیں‘‘۔ (دارمی، ۲۲۹۔ مسند ابی یعلیٰ، ۷۴۱۳۔ مستدرک حاکم، ۲۹۴)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
’’آگاہ رہو! جاہلیت کے زمانے کا ہر خون معاف کیا جاتا ہے، اور زمانہ جاہلیت کے خونوں میں سے پہلا خون جس کو معاف کیا جاتا ہے، وہ حارث بن عبد المطلب کا خون ہے۔ (راوی بتاتے ہیں کہ) حارث کو دودھ پلانے کے لیے بنو لیث کے ہاں بھیجا گیا تھا جہاں اسے بنو ہذیل نے قتل کر دیا۔‘‘ (ترمذی، ۳۰۱۲)

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
’’آگاہ رہو! زمانہ جاہلیت کا ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ تم صرف اپنے اصل مال کے حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ ہاں عباس بن عبد المطلب کا لوگوں کے ذمے جو سودی قرض ہے، وہ سارے کا سارا معاف کیا جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی، ۳۰۱۲)

امام بخاری اپنی صحیح میں ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپٖ ﷺ نے فرمایا :
"اچھا تو سنو کہ تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے۔ اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگار سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا، لہٰذا دیکھو میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو جو شخص موجود ہے، وہ غیر موجود تک (میری باتیں) پہنچا دے۔ کیونکہ بعض وہ افراد جن تک (یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی، وہ بعض (موجودہ) سننے والوں سے کہیں زیادہ ان باتوں کے دروبست کو سمجھ سکیں گے۔‘‘ (الرحیق المختوم :۷۳۷،۷۳۸)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا
’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے اُنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت لیا ہے۔‘ .( ابوداؤد، السنن، کتاب المناسک، باب صفة حجةالنبي ﷺ)

"رسول اللہؐﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہدایت یہ بھی دی

’’اگر کسی کٹے ہوئے کان والے سیاہ فام غلام کو بھی تم پر امیر مقرر کیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘
۔ (مسلم، ۲۲۸۷)

سلیمان بن عمرو بن اَحوص اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ا کے ساتھ تھے ، آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا:

یاد رکھو! کوئی بھی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر جرم نہیں کرتا (یعنی اس جرم کی پاداش میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مجرم ہی پکڑا جائے گا) کوئی جرم کرنے والا اپنے بیٹے پر یا کوئی بیٹا اپنے باپ پر جرم نہیں کرتا (یعنی باپ کے جرم میں بیٹے کو یا بیٹے کے جرم میں باپ کو نہیں پکڑا جائے گا) خبردار! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسرے مسلمان کے لئے حلال نہیں جب تک وہ خود حلال نہ کرے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر قسم کا سود اب ختم ہے، تمہارے لئے تمہارا اصل مال ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی تم ظلم کا شکار ہو۔ عباس بن عبدالمطّلب کا سود سارے کا سارا ختم ہے۔‘‘ ( صحیح ابن ماجہ للالبانی:۲۴۷۹)

جابر بن عبداللہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حج کے موقع پر روز عرفہ یہ خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاہے کہ" ایہا الناس ! میں تم میں انھیں چھوڑے جارہاہوں جن سے متمسک رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔ کتاب خدا اور میرے عترت و اہلبیتؑ " (سنن ترمذی )

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
’’آگاہ رہو! جاہلیت کا ہر کام میں اپنے ان دونوں قدموں کے نیچے دفن کر رہا ہوں۔‘‘ ۔ (مسلم، ۲۱۳۷)

مسند احمد میں حدیث درج ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
’’اے لوگو! بے شک تمھارا رب بھی ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک۔ آگاہ رہو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت کا مستحق وہ ہے جو زیادہ حدود کا پابند ہے۔ ‘‘ (بیہقی، شعب الایمان، ۵۱۳۷، ج ۴، ص ۲۸۹۔ ابو نعیم، حلیۃ الاولیاء ۳/۱۰۰۔ مسند احمد، ۲۲۳۹۱)

عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
’’آگاہ رہو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں، حوضِ کوثر پراور میں تمہارے سبب اس اُمت کی کثرت پر فخر کروں گا، مجھے شرمندہ نہ کرنا۔
خبردار! کچھ لوگوں کو میں چھوڑ دوں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑوالئے جائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! یہ تو میرے اصحاب ہیں، سو وہ فرمائے گا تو نہیں جانتا جو اُنہوں نے تیرے بعد نئی بدعتیں ایجاد کیں۔‘‘ (صحیح ابن ماجہ للالبانی :۲۴۸۱)

عمرو بن یثربی سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا:
’’کسی آدمی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے مال میں سے لے جب تک وہ اپنی خوشی سے نہ دے دے۔‘‘

(مسند احمد۳؍۴۲۳، دارقطنی:۳؍۲۵، بیہقی:۶؍۹۷)

عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیؐ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

’’لوگو! مذہب میں غلو اور مبالغہ سے بچو کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئیں‘‘ (صحیح ابن ماجہ للالبانی: ۲۴۵۵|)

’رافع کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو چاشت کے وقت دن چڑھے سواری پر خطاب کرتے سنا، حضرت علی آپﷺ کا خطاب دہرا رہے تھے، سامعین میں بعض بیٹھے اور بعض کھڑے تھے ۔‘‘
خطبہ میں فرمایا:

’’اے لوگو! کون سا مہینہ سب سے زیادہ حرمت والا ہے، لوگوں نے کہا: یہی مہینہ۔ فرمایا کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آج کا دن اور وہ یوم النحر تھا۔ پھر آپﷺ نے پوچھا: اللہ کے نزدیک سب سے حرمت والاشہر کون سا ہے تو صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ یہی ہے۔ تب آپﷺ نے فرمایا کہ تمہارا خون اور تمہارا مال اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح یہ مہینہ، یہ دن اور اس شہر کی حرمت ہے اور یہ اس دن تک ہے جس دن تم اپنے ربّ سے ملاقات کرو گے۔
خبردار! کیا میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا۔ لوگوں نے کیا جی ہاں! تو نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا: اے اللہ گواہ رہ، پھر آپؐ نے فرمایا: ہر حاضرغائب کو یہ دعوت پہنچا دے۔‘‘

حضرت جابر رضی الله عنہ فرماتے ہیں، آپﷺ نے نحر کے دن فرمایا: ’’آپﷺ فرما رہے تھے کہ لوگو! تم حج کے طریقے سیکھ لو، میں اُمید نہیں کرتا کہ اس حج کے بعد حج کرسکوں۔‘‘ (صحیح مسلم:۱۲۹۷، مجمع الزوائد:۳؍۲۶۹

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Peshawar