CMS School System

CMS School System

Share

28/03/2026

حکومتی تعلیمی ادارے بند کرنے کی پالیسی نے ہماری اگل نسل کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔۔۔!
پاکستان میں گرمی آئی تو اسکول بند، سردی بڑھی تو اسکول بند، پٹرول کی قلت ہوئی تو اسکول بند، سموگ چھائی تو اسکول بند، احتجاج ہوا تو اسکول بند، حتیٰ کہ جنگ جیسے حالات ہوں تو بھی پہلا نشانہ تعلیمی ادارے بنتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر بحران کا واحد حل تعلیمی نظام کو مفلوج کرنا رہ گیا ہے؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بار بار تعلیمی اداروں کی بندش نے بچوں کے مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

جہاں دنیا جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں آگے بڑھ رہی ہے، وہیں ہمارے بچے تعطیلات، غیر یقینی صورتحال اور تعلیمی تعطل کا شکار ہو رہے ہیں۔

ماہرین تعلیم کے مطابق مسلسل تعلیمی خلل سے نہ صرف طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما، نظم و ضبط اور سیکھنے کی صلاحیت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

دیہی اور متوسط طبقے کے بچے، جو پہلے ہی محدود وسائل رکھتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس آن لائن تعلیم یا متبادل ذرائع دستیاب نہیں ہوتے۔

اس پالیسی سے والدین کی تشویش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک شہری کا کہنا تھا:ہم اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے محنت کرتے ہیں، مگر بار بار اسکول بند ہونے سے ان کا تعلیمی نقصان پورا کرنا ممکن نہیں رہتا۔"حکومتی اقدامات وقتی ریلیف تو فراہم کرتے ہیں، مگر مستقل حل نظر نہیں آتا۔

سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی ادارے ہر بحران میں سب سے آسان ہدف ہیں؟ کیا بچوں کی تعلیم اتنی غیر اہم ہو چکی ہے کہ اسے ہر مشکل میں قربان کر دیا جائے؟

تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور کر دی جائے تو آنے والی نسلیں کیسے مضبوط ہوں گی؟

وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز سنجیدگی سے سوچیں اور ایسا نظام ترتیب دیں جہاں ہنگامی حالات میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے، چاہے وہ ڈیجیٹل نظام ہو یا متبادل شیڈولنگ۔

آخر میں سوال یہی ہے:کیا ہم واقعی اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں، یا ہر بحران کے ساتھ اسے مزید تاریک کر رہے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر ایم زکریا خان صاحبزادہ
🏅چئیرمین نورابی فاونڈیشن انٹرنیشنل
🏅ڈائریکٹر سی ایم ایس سکول سسٹم
🏅ڈائریکٹر نورابی ہومیوپیتھک میڈیکل کالج
🏅سی سی او ٹوڈے ورلڈ ایڈلٹ ایجوکیشن
🏅سی ای او ای-لرننگ پروگرام کے پی کے
🏅پریزیڈنٹ پیڈز (PADS)
کلینک و ہاسپٹل پشاور سٹی پاکستان
پروفیسر ڈاکٹرایم زکریاخان صاحبزادہ

27/03/2026

بچوں کے مستقبل کا انحصار ان کے والدین پر ہوتا ہے۔ تعلیمی رجحان ان خصلتوں میں سے ایک ہے جس پر والدین اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بہتر تعلیمی کارکردگی کی بنیاد بچے کے ابتدائی ترقیاتی سالوں میں رکھی جا سکتی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اپنے بچوں کے ذہنوں میں مطالعہ اور سیکھنے کی محبت پیدا کرنے کے لیے والدین کچھ طریقے اپنا سکتے ہیں۔

بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے یہ 10 کام کریں
1۔ پڑھائی اولین ترجیح
بچوں کو بتایا جائے کہ ان کی پڑھائی کس طرح اولین ترجیح ہے۔ انہیں باور کرایا جائے کہ پڑھائی کم از کم کوئی اچھی نوکری یا کمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

2. آسانی اور کام جمع نہیں ہوسکتے
بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنے تعلیمی شعبوں میں سبقت حاصل کرنے کے لیے ایک مستحکم ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ خاندانوں کو ان کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لیے بعض اوقات تعطیلات منسوخ کرنا پڑ سکتی ہیں۔

3. روزانہ مطالعہ کا معمول
جس طرح اپنے دانت صاف کرنا یا نہانا روزانہ کی عادت بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح گھنٹوں کو مطالعہ کے لیے وقف کرنے کی عادت بھی اپنانا ہوگی۔ بچوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انہیں روزانہ کچھ گھنٹے بغیر کسی ناکامی کے خود مطالعہ کے لیے وقف کرنے ہیں۔

4. رہنمائی فراہم کرنا
اس بات پر بھی کافی زور دیا گیا ہے کہ ہمارا طرز زندگی اور طرز عمل ہمارے بچوں کی تشکیل میں کس طرح مدد کرتا ہے۔ اگر والدین نئی چیزیں سیکھتے ہیں اور اپنے بچے کے سامنے پڑھتے ہیں تو بچے کے سنجیدہ مطالعہ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

5. حوصلہ افزائی
وہ دن اب نہیں رہے جب بچوں میں چیخ چیخ کر خوف پیدا کرنا ممکن تھا۔ آج کے بچے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ باشعور اور باخبر ہیں۔ والدین کو پڑھائی کو تکلیف دہ اور بورنگ نہیں بنانا چاہیے۔ آپ اکٹھے بیٹھ کر بچے کو مطالعہ کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

6. قربانی دینا ہوگی
ایک بچہ جو گھر میں اکیلے پڑھ رہا ہو اور یہ دیکھ رہا ہو کہ اس کے والدین باہر گھومنے پھرنے میں اچھا وقت گزار رہے ہیں تواس کے لیے مطالعہ کرنا ایک بھاری کام ثابت ہوسکتا ہے۔ والدین اس کے ارد گرد رہ کر اور ان کی مدد کر کے ماحول کو سازگار بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے والدین کو اپنی باہر جانے کی سرگرمیوں کی قربانی دینا ہوگی۔

7. جائزہ لینے کی روٹین
اس کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ بچہ ہفتے کے دوران کیا سیکھتا ہے۔ والدین ہفتے کے دوران سیکھی ہوئی ہر چیز کا جائزہ لینے کے لیے ایک دن مقرر کر سکتے ہیں۔

8. اختتام ہفتہ پر چھٹی
ہفتے کے آخر میں خود مطالعہ کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے کیونکہ بچے سکول کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ہفتے کے دوران کلاسوں کی مشق کرتے ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ ایک واضح ایجنڈا رکھیں اور ہفتے کے آخر میں زیادہ مہمانوں کو مدعو نہ کریں تاکہ اس وقت میں بچوں کے اس اہم وقت کا زیادہ ضیاع نہ ہو۔

9. پڑھنے کی جگہ کی تیاری
بچوں کے لیے ایک صاف اور بے ترتیبی سے پاک مطالعہ گاہ بنانے سے بھی ان کی پڑھائی کی عادت بہتر ہوسکتی ہے۔ اس سے وہ بہت زیادہ خلفشار کے بغیر اچھی طرح توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

10. مطالعہ میں مدد
والدین اپنے بچوں کی کفالت کے لیے اپنے سابق اسکول کے تجربات استعمال کر سکتے ہیں۔ نیز بچوں کو ان کے کلاس رومز میں لے جا کر تعلیمی مواد حاصل کرنے میں مدد کرنا بعض اوقات بچے کو سبقت حاصل کرنے کی ترغیب دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
زیرِ نگرانی 👇
پروفیسر ڈاکٹر ایم زکریا خان صاحبزادہ
🏅چئیرمین نورابی فاونڈیشن انٹرنیشنل
🏅ڈائریکٹر سی ایم ایس سکول سسٹم
🏅ڈائریکٹر نورابی ہومیوپیتھک میڈیکل کالج
🏅سی سی او ٹوڈے ورلڈ ایڈلٹ ایجوکیشن
🏅سی ای او ای-لرننگ پروگرام کے پی کے
🏅پریزیڈنٹ پیڈز (PADS)
کلینک و ہاسپٹل پشاور سٹی پاکستان
پروفیسر ڈاکٹرایم زکریاخان صاحبزادہ

10/03/2026

کم جونگ ان مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم کمانڈر و لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے والے پہلے حکمران ہے۔✊✊✊

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Government College Chowk Faqir Abad Peshawar City
Peshawar
25000

Opening Hours

09:00 - 17:00