Awaz-e-Nau
22/01/2026
ایک طرف دہشت گردی کا ناسور ہے جس نے عوام سے امن، سکون اور زندگی کا حق چھین رکھا ہے، اور دوسری طرف حکومت کی غلط، غیر سنجیدہ اور زمینی حقائق سے کٹی ہوئی پالیسیاں ہیں جن کا خمیازہ عام عوام بھگت رہے ہیں۔ خاص طور پر پشتون، بالخصوص جنوبی اضلاع کے عوام، مسلسل خوار و زار ہیں—نہ جان محفوظ ہے، نہ عزت، نہ روزگار اور نہ ہی مستقبل کی کوئی ضمانت۔
دہشت گردی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات نے امن لانے کے بجائے عام شہریوں کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں۔ کبھی آپریشن، کبھی نقل مکانی، کبھی چیک پوسٹوں کی اذیت اور کبھی بے روزگاری—یہ سب اس خطے کے لوگوں کی روزمرہ حقیقت بن چکا ہے۔ جو لوگ دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثرہ رہے، وہی آج سب سے زیادہ مشکوک ٹھہرائے جا رہے ہیں۔
جنوبی اضلاع کے پشتون عوام نے ہر دور میں قربانیاں دیں، مگر بدلے میں انہیں صرف وعدے، خاموشی اور نظراندازی ملی۔ ترقی کے دعوے کیے گئے، مگر اسکول، اسپتال، روزگار اور بنیادی سہولیات آج بھی ناپید ہیں۔ جب ریاست عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے اور پالیسیاں عوام کے مسائل کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کریں، تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک سنگین ناانصافی بن جاتی ہے۔
امن بندوق سے نہیں، انصاف سے آتا ہے۔ دہشت گردی کا حل اجتماعی سزا، جبری نقل مکانی اور غلط پالیسیوں میں نہیں بلکہ عوام کو اعتماد میں لینے، ان کے مسائل سننے اور انسانی بنیادوں پر فیصلے کرنے میں ہے۔ اگر آج بھی پشتون عوام کے دکھوں کو نظرانداز کیا گیا تو یہ بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک خطرناک سوال بن کر ابھرے گا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.