Allama Muhammad Amir Raza
04/04/2026
خوشخبری! دعوتِ اسلامی کی طالبات کے لیے تدریسی ٹیسٹ کی تیاری کا سنہری موقع ✨
کیا آپ بھی تدریسی ٹیسٹ میں 100 فیصد کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ ہم لائے ہیں آپ کے لیے ایک جامع اور معیاری تعلیمی پروگرام۔
✅ نمایاں خصوصیات:
ثانیہ، رابعہ، خامسہ اور دورۃ الحدیث کی مکمل تیاری۔
مجلس کے مقرر کردہ معیار کے مطابق مکمل تحقیق اور رہنمائی۔
اب تک 700 سے زائد طالبات کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔
حتی کہ تفتیشی ٹیسٹ کی بھی تیاری کر کے کامیاب ہوچکی
اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے آج ہی رابطہ کریں!
نوٹ: پاس کروانا ہماری زمداری ہوگی
📞 رابطہ نمبر: صرف اسلامی بہنیں رابطہ کریں
+923143181637
*السوال:*
*لفظ "جعفر" غیر منصرف ہے یا پھر منصرف یا دونوں مع الدلائل بیان کر دیں ؟*❓❓❓🤔
~[[[کسی کی تحریر سے نام مٹانا یا اپنا لکھنا شرعاً و اخلاقا درست نہیں]]]~
*تحریر نمبر: _60_* 👇
*~از قلم ✍️ ابو الانس رضا الحنفی~*
*الجواب:* 👇👇👇
`Answer`
☜ سوال کا جواب سمجھنے سے پہلے غیر منصرف کے اسباب میں سے وزن فعل کو سمجھنا ضروری ہے۔
*✯✯✯ ⫷ وزن فعل کی تعریف ⫸ ✯✯✯*
اسم کا فعل کے وزن پر ہونا۔
*✯✯✯ ⫷ وزن فعل کی شرائط ⫸ ✯✯✯*
وزن فعل کی دو شرائط ہیں، ان میں سے ایک شرط کہ وزن فعل کے ساتھ مختص ہو یعنی ابتدا وہ فعل میں پایا جائے اور اسم میں نہ پایا پھر فعل سے منقول ہو کر اسم میں پایا جائے جیسے "شمّر" ابتدا تو فعل میں پایا گیا ہے لیکن پھر فعل سے نقل کر کے گھوڑے کا نام رکھ دیا گیا یعنی اسم بنا دیا گیا،
دوسرہ شرط کہ وزن فعل کے ساتھ مختص نہ ہو بلکہ فعل میں بھی پایا جاتا ہو اور اسم میں بھی تو پھر اس کے شروع میں حروف اتین میں سے کوئی حرف ہو اور آخر میں تائے تانیث نہ ہو جیسے "أضربُ" یہ وزن فعل میں بھی پایا جاتا ہے اور اسم میں بھی لیکن اس کے شروع میں حروف اتین میں سے ہمزہ ہے اور آخر میں تائے تانیث بھی نہیں ہے تو لہذا یہ وزن فعل ہے۔
*✯✯✯ ⫷ الدلائل ⫸ ✯✯✯*
👈 لہذا اس ساری گفتگو سے واضح ہوا کہ جو وزن فعل کے ساتھ مختص نہ ہو یا فعل میں پایا جاتا ہو اور اسم میں بھی پایا جاتا ہو اور اس کے شروع میں حروف تین میں سے کوئی حرف نہ ہو تو وہ غیر منصرف نہیں ہوگا بلکہ منصرف ہوگا جیسے النجم الثاقب میں ہے: *" مشترک بینھما نحو۔۔۔فَعْلَل۔۔۔ فصرفه الجمھور "*
یعنی وہ وزن فعل اور اسم کے درمیان مشترک ہو جیسے کہ ان میں سے ایک وزن "فعلل" ہے تو جمہور نحاۃ نے فرمایا کہ ایسا وزن منصرف ہے یعنی غیر منصرف نہیں۔
اسی طرح مصباح الراغب میں ہے: *" اما الاوزان المشرکة بین الفعل والاسم۔۔۔فانه ینصرف "*
یعنی وہ اوزان جو فعل اور اسم کے دونوں میں مشترک ہوں یعنی فعل میں بھی پائے جاتے ہوں اور اسم میں بھی تو وہ منصرف ہیں۔
اسی طرح اسی کے حاشیہ میں ہے: *" واعلم ان الوزن المشترک بین الاسم والفعل بحیث لا اختصاص له بالفعل بوجه لا یؤثر مطلقا "*
یعنی وہ وزن جو اسم میں بھی پایا جائے اور فعل میں بھی اور فعل کے ساتھ مختص ہونے کی کوئی صورت نہ ہو تو وہ مطلقاً وزن غیر منصرف میں مؤثر نہیں ہوتا۔
اسی طرح درایہ میں ہے:
*"۔۔۔۔ والثانی ان یکون مشترکا بین الاسم والفعل۔۔۔ھذا القسم ایضا لا یؤثر۔۔۔"*
یعنی۔۔۔ صاحب درایہ فرماتے ہے کہ اوزان کی چار قسمیں ہیں اور ان میں سے پہلی قسم کہ وزن اسم کے ساتھ خاص ہو تو وہ غیر منصرف میں مؤثر نہیں اسی طرح دوسری قسم کہ وزن اسم میں بھی پایا جاتا ہو اور فعل میں بھی تو وہ بھی غیر منصرف میں مؤثر نہیں۔۔۔
*✯✯✯ ⫷ نتیجہ ⫸ ✯✯✯*
☜ لہذا ان سارے دلائل کے پیش نظر اور وزن فعل کی شرائط کے پیش نظر لفظ "جعفر" غیر منصرف نہیں بلکہ منصرف ہے کیونکہ "جعفر" ایسا وزن نہیں ہے کہ جو فعل کے ساتھ خاص ہو کہ اس کو غیر منصرف قرار دیا جائے بلکہ اسم میں بھی پایا جاتا اور فعل میں بھی، اور اسی طرح فعل اور اسم میں پائے جانے کی وجہ سے اس کے شروع میں حروف اتین میں سے کوئی حرف بھی نہیں کہ جس کی بنا پر اس کو غیر منصرف قرار دیا جا سکے تو لہذا لفظ "جعفر" غیر منصرف نہیں بلکہ منصرف ہے۔
*✯✯✯ ⫷ نوٹ ⫸ ✯✯✯*
یونس نحوی اور عیسی بن عمر کے نزدیک غیر منصرف کا سبب بننے کے لیے اس کی کوئی شرط نہیں ہے لیکن پھر ان کے نزدیک بھی اختلاف ہے کہ یونس نحوی کہتے ہیں کہ مطلقاً غیر منصرف میں وزن معتبر ہے خواہ وہ فعل سے منقول ہو یا نہ ہو اور اسی طرح وہ فعل کے ساتھ خاص ہو یا نہ ہو اور عیسی بن عمر کہتے ہیں کہ غیر منصرف میں مؤثر ہونے کے لیے فعل کے ساتھ خاص ہونا ضروری نہیں لیکن اس کی ایک شرط ہے کہ وہ فعل سے منقول ہو۔
اور یاد رکھیے گا جو یہ دلائل دیتے ہیں ان کا نحو کی کتب میں رد موجود ہے اس کے علاؤہ ان کا مذھب نحو کی معتبر کتب کے متن کے خلاف ہے اور ویسے بھی یہ جمہور کے مذھب کے خلاف ہیں اس لیے ان کے نزدیک اگرچہ لفظ "جعفر" غیر منصرف بن جائے گا لیکن جمہور نحاۃ کے نزدیک لفظ "جعفر" غیر منصرف نہیں بلکہ منصرف ہے، لہذا ہم بھی لفظ "جعفر" کو منصرف پڑھیں گے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
*اس طرح کی مزید تحریرات حاصل کرنے کے لیے ہمارے واٹسپ چینل کو جوائن فرما لیں*
👇👇👇
Follow the 📚❞ فیضانِ امام النحو والصرف والمنطق والمیراث والفقه ❝📚 channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va908X09WtBzEVPTVi38
19/03/2025
https://www.scribd.com/document/840991744/%DA%AF%D9%84%D8%B4%D9%86-%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D9%88%D9%86%D8%AD%D9%88-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B9%D8%A7%D9%85%D8%B1-%D8%B1%D8%B6%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B7%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AF%D9%86%DB%8C
ہماری کتاب "گلشن صرف و نحو (حصہ اول)" اس لنک سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں
گلشن صرف ونحو (حصہ اول) محمد عامر رضا الحنفی العطاری المدنی ہماری کتاب "گلشن صرف و نحو (حصہ اول)" میں مختلف تحریرات پڑھ سکیں گے۔
18/03/2025
https://archive.org/details/20250317_20250317_0923/page/n1/mode/1up
گلشن صرف و نحو (حصہ اول) کتاب کو ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے لنک
👆👆👆
Click here to claim your Sponsored Listing.