Muhammad Arif
استاد ایک عظیم شخصیت ہے جو قوموں کی تقدیر سنوارتا ہے۔ ماں باپ جسم دیتے ہیں تو استاد شعور، کردار اور فکر عطا کرتا ہے۔ وہ شمع کی مانند خود جل کر شاگردوں کو روشنی دیتا ہے۔
یومِ تقریب والدین اور تقسیمِ انعامات پر ہم استاد کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو استاد کے سپرد کر کے بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں علم کے ساتھ ادب اور ذمہ داری سکھائے گا۔
شاگرد کی کامیابی ہی استاد کا اصل انعام ہے۔ استاد صرف علم نہیں، زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔
حافظ محمد روحیل نے استاد کا مقام و مرتبہ کچھ خوبصورت اشعار میں پرو کر پشتو زبان میں بیان کیا، سنیں اور محظوظ ہوں۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
Click here to claim your Sponsored Listing.