Kashif Raza

Kashif Raza

Share

05/05/2023

شاعر اہلبیت محسن نقوی

محسن نقوی 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انکے والد سید چراغ حسین کاٹھی بناتے تھے۔
والدین نے انکا نام غلام عباس رکھا بعد میں آپ نے اسے تبدیل کر کے غلام عباس محسن نقوی کردیا۔
محسن نقوی نے گورنمنٹ کالج ملتان سے گریجویشن کی اور یونیورسٹی آف پنجاب سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

آپ کو شاعر اہلبیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انکی کربلا کے بارے میں کی گئی شاعری پورے پاکستان میں پڑھی جاتی ہے۔

محسن نقوی شیعہ مسلم کمیونٹی کے متحرک کارکن تھے۔ نقوی نے اپنی زندگی میں شاعری کی کئی کتابیں شائع کیں۔ محسن نقوی نے ابتدائی شاعری کے اسباق رفیق خاور جسکانی سے سیکھے جنکا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ اور شفقت کاظمی اور عبد الحمید عدم سے بھی رہنمائی لی۔

1949 میں ڈیرہ غازی خاں کے ہفت روزہ’’ہلال‘‘ میں باقاعدہ ہفتہ وار قطعہ اور کالم لکھنا شروع کیا۔ اسی سال ملتان کے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ہفتے وار کالم لکھے۔

ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بند قبا‘، ’برگ صحرا‘، ’ریزہ حرف‘، ’موج ادراک‘، ’ ردائے خواب‘، ’عذاب دید‘، ’طلوع اشک‘، ’رخت شب‘، ’خیمہ جاں‘، ’فرات فکر‘، ’میرا نوحہ انھی گلیوں کی ہوا لکھے گی‘۔

محسن نقوی نے بچپن ہی سے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کی طرف بھی بے حد توجہ دی مسجد کے ساتھ ساتھ گھر میں قرآن مجید اور ناظرہ کی طرف بے حد توجہ دیتے اور مذہبی کتابیں ذو و شوق س یپڑھتے تھے۔ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیئے پاپڑ بیلے اور پیسے کمانے کی خاطر میلوں میں لاٹری بھی لگاتے تھے اور ان کے اردگرد بچوں کا ہجوم رہتا تھا۔ 10 سال کی عمر میں ہی وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پیسے کمانے پر بھی توجہ دینے لگے مگر وہ زیادہ پیسے کمانے کی لگن نہیں رکھتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ میری جائز ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ اور میں کسی کا محتاج نہ بنوں ۔ پیسے کما کر گھر آتے تو ماں ڈھیروں عدائیں دیتی اور کہتی تھی کہ میرا محسن بڑے صبر والا ہے۔ حالات سے لڑنا خوب جانتا ہے۔ وہ انہیں اپنے پاس بلاتیں ، گلے لگاتیں ۔بنعض اوقات محسن کا ماتھا چومتے ہوئے اشک بار ہو جاتیں اور کہتیں کہ محسن تم بڑے ہو کر بہت نام کمائو گے۔ میرا محسن ایک دن بہت بڑا آدمی بنے گا۔ ماں سے بات چیت کے دوران اکثر باتوں کا جواب مکمل شعر یا کسی ایک فی البدیہہ مصرعے میں دیتے ۔

پہلی غزل میٹرک کے دوران کہی۔ گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خاں کے مجلہ ” الغازی” کے مدیر (Editor) اور کالج کی یونین کے نائب صدر تھے۔ جب انہوں نے ” فکر جدید” نمبر شائع کیا تو ادبی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا اور پاکستان بھر کے ادبی حلقوں میں محسن نقوی کا نام پہنچ گیا اور کالج میں بھی ان کے ادبی قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہو گیا۔ کالج کے تمام پروفیسر محسن نقوی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ سب ہی انکی شاعرانہ صلاحیتوں کے معترف تھے ان دنوں انکا ایک قطعہ بے حد پذیرائی حاصل کرنے لگا۔
"چاندنی کارگر نہیں ہوتی
تیرگی مختصر نہیں ہوتی
ان کی زلفیں اگر بکھر جائیں
احتراماََ سحر نہیں ہوتی"

ایک مرتبہ محسن نقوی اپنے ماموں زاد سید علی شاہ نقوی کے ہمراہ اکٹھے گاڑی میں لاہور جا رہے تھے راستے میں ماچس کو انگلیوں سے بجاتے جاتے اور شعر کہتے جاتے اور لاہور تک انہوں نے ایک ایسی غزل کہہ ڈالی جو آج تک بھی زبان زد عام ہے وہ غزل تھی” یہ دل یہ باگل دل میرا کیوںبجھ گیا آوارگی” جسے پاکستان کے ہر دلعزیز گلوکار غلام علی نے گا کر ہمیشہ کے لیئے امر کر دیا اس کے بعد ہر طرف سے ” آوارگی ” کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔ ان کے اس کلام کو آج بھی جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں سنا جاتا ہے۔

پاکستان کے فن گائیکی کے بے تاج بادشاہ انٹرنیشنل ایوارڈ یافتہ نصرت فتح علی خان نے عظیم شاعر محسن نقوی کی غزل ” کب تک تواونچی آواز میں بولے گا، تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا” گن گنائی جو نصرت فتح علی خاں کو شہرت کے ساتویں آسماں پر لے گئی اور انہیں برطانیہ حکومت نے تمغہء حسن کارکردگی سے نوازا۔ محسن نقوی نے فلم ساز سردار بھٹی کی بھر پور فرمائش پرفلم ” بازار حسن” کے لیئے ایک گیت ” لہروں کی طرح تجھے بکھرنے نہیں دیں گے” تحریر کیا جس پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا

محسن نقوی نے بیک وقت شاعری ، ادب اور خطابت کو اپنایا ۔ انکا اسلوب منفرد، لہجہ توانا، کلام پر اثراور آواز میں درد و سنور تھا۔ غم دوراں اور غم جاناں کے ساتھ ساتھ انکی حمد، نعت اور کربلائی شاعری بھی بہت متاثر کن ہے انکی شاعری پڑھ کر پڑھنے والا روحانیت کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے۔
"الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے۔
یہ دل کا نگر ہے کہ مدینے کی فضا ہے۔"

1969 ء میں انہوں پیپلزپارٹی کے باقاعدہ رکن کی حیثیت سے پی ایس ایف میں شمولیت اختیار کر کے پنا بھر پور کردار ادا کیا اس حوالے سے نہوںنے کئی نظمیں اور مضامین رقم کیئے۔ انہوں نے پاکستان کی سابقہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے لیئے ایک نظم ” یااللہ یارسول ، بے نظیر بے قصور” لکھی جس پر انہیں 1994 ء میں صدراتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس ) سے نوازا گیا تھا۔

محسن نقوی کو 15 جنوری 1996 ء کی شام کو مون مارکیٹ میں انکے دفتر کے سامنے ان کے سینے میں گولیاں اتار کر انہیں شہید کر دیا۔عالمی دبستان ادب کے افق پر چمکنے والا ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔۔۔۔

تحریر : کاشف رضا

Want your business to be the top-listed Photography Service in Muzaffargarh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Muzaffargarh