Geo-Case
27/04/2026
In April 2026, Kazakhstan reached a pivotal milestone in its multi-year plan to bring tigers back to Central Asia after a 70-year absence. The project, a massive collaboration between the Kazakh government and the WWF, is centered in the Ili-Balkhash Nature Reserve. This month, the first phase of "rewilding" has moved into a critical stage as habitats have been successfully restored to a level capable of supporting these top predators.
Before the tigers' arrival, thousands of hares, wild boar, and Bukhara deer were released to rebuild a stable food chain. Bringing back the tiger is not just about one species; it is an effort to restore the entire ecosystem of the region. As the first Amur tigers prepare to step onto Kazakh soil, this program stands as a global example of how ambitious conservation can reverse the damage of the past and revive the wild.
15/01/2026
چینیوں نے ابتدا میں خنجراب وادی اور کے ٹو کے قریب کے علاقوں پر دعویٰ کیا، لیکن آخرکار پاکستان کے نقشے پر مشتمل لائن آف کنٹرول کو معمولی ترامیم کے ساتھ تسلیم کر لیا۔ کے ٹو کی چوٹی کو دونوں ممالک کے درمیان بانٹنے پر اتفاق ہوا۔
پاکستان نے شمشال پاس کے پار واقع چراگاہی علاقوں پر دعویٰ کیا جو صدیوں سے ہنزہ کے لوگوں کے زیر استعمال تھے۔ چینی نمائندے نے اتفاق کیا کہ اس معاملے کو ’میرٹ‘ پر حل کیا جائے گا، اور بعد ازاں یہ علاقہ پاکستان کو دے دیا گیا۔
27 دسمبر 1962 کو اصولی معاہدے کا اعلان ہوا۔ 2 مارچ 1963 کو بیجنگ میں معاہدہ پر دستخط ہوئے، اور 26 مارچ 1965 کو زمینی سرحدی نشاندہی کا پروٹوکول سائن ہوا۔
نورانی کے مطابق یہ معاہدہ قراقرم واٹرشیڈ پر مبنی تھا، نہ کہ کون لُن یا 1897 کی ارداغ لائن پر۔ یہ 1899 کی میکارٹنی-میکڈونلڈ تجویز اور 1905 کی کرزن ترمیم پر مشتمل تھا۔
انڈیا نے کہا کہ پاکستان نے چین کو بہت بڑا علاقہ دے دیا اور اس معاہدے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق 1947 کے معاہدہ الحاق کی رو سے پورا کشمیر انڈیا کا حصہ ہے۔ انڈیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک احتجاجی خط بھی ارسال کیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.