Multan Voice
06/05/2026
ملتان کی نشتر میڈیکل یونیورسٹی، ملتان کا ایک اور بڑا اعزاز
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) نے حالیہ تفصیلی معائنہ اور انسپیکشن کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی، ملتان کے لیے *28 نئے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز* کی منظوری دے دی ہے۔
📚 *نئے منظور شدہ پروگرامز کی تفصیل:*
🔹 MD لیول III : 13
🔹 MD/MS لیول IV : 4
🔹 FCPS لیول IV : 5
🔹 FCPS لیول III : 1
🔹 MCPS : 1
🔹 MPhil : 2
🔹 ڈپلومہ پروگرامز : 2
✅ *کل نئے پروگرامز: 28*
اس شاندار کامیابی کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں PM&DC سے منظور شدہ پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی مجموعی تعداد *80* تک پہنچ گئی ہے۔
یہ سنگِ میل وائس چانسلر *پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی* کی مدبرانہ قیادت میں فیکلٹی، رجسٹرار آفس اور تمام متعلقہ شعبہ جات کی انتھک محنت، لگن اور ٹیم ورک کا مظہر ہے۔
یہ کامیابی نہ صرف نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے تعلیمی معیار اور تحقیقی وقار کو مزید مضبوط بناتی ہے بلکہ جنوبی پنجاب میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ٹریننگ کے ایک ممتاز ادارے کے طور پر اس کے مقام کو بھی مستحکم کرتی ہے۔
نشتر میڈیکل یونیورسٹی مستقبل میں بھی اعلیٰ تربیت یافتہ اسپیشلسٹ ڈاکٹرز تیار کرنے اور خطے کی صحت کی ضروریات پوری کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
06/05/2026
راجن پور:شہر اور گردونواح سمیت کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں زلزلہ کے جھٹکے
راجن پور:شدت ریختر اسکیل پر 4.9 ریکارڈ کی گئی ہے
راجن پور:اس کا مرکز راجن پور سے تقریباً 56 کلومیٹر داجل کے قریب تھا
راجن پور: زمین میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا
راجن پور:یہ جھٹکے جام پور، راجن پور اور نواحی علاقوں میں محسوس کیے گئے ہیں
راجن پور: اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی
05/05/2026
*ملتان میں دلخراش واقعہ: ماں نے تین بچوں کو ق ت ل کرنے کے بعد خ د ک و ش ر لی*
ملتان کے علاقے ممتاز آباد پھاٹک کے قریب کچی آبادی میں ایک نہایت افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے اپنے تین کمسن بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود بھی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
ریسکیو 1122 کے کنٹرول روم کو موصول ہونے والی ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی کہ ایک خاتون نے اپنے بچوں کو مارنے کے بعد خودکشی کر لی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی کنٹرول روم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قریبی اسٹیشن سے دو ایمبولینسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق جب ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو معلوم ہوا کہ مقامی افراد چاروں افراد کو پہلے ہی نیچے اتار چکے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون نے اپنے تینوں بچوں کو رسی کے ذریعے پنکھے سے لٹکا کر قتل کیا اور بعد ازاں خود بھی چھت کے ساتھ لٹک کر خودکشی کر لی۔
ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچتے ہی فوری طور پر چاروں افراد کو بچانے کے لیے سی پی آر (CPR) شروع کیا، تاہم تمام کوششیں ناکام رہیں اور چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو چکے تھے۔
واقعے کے بعد مقامی پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور ضروری شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس افسوسناک سانحے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے، تاہم گھریلو یا ذہنی دباؤ جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ اہلِ علاقہ غم اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
66000