M.Junaid Akram
19/01/2026
ملتان کا قلعہ، جسے "قاسم فورٹ" بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قدیم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کے بارے میں کوئی ایک حتمی تاریخ یا ایک شخص کا نام لینا مشکل ہے کیونکہ یہ ہزاروں سالوں میں مختلف ادوار سے گزرا ہے۔
تاریخی حقائق کے مطابق اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. قدیم بنیادیں (ہزاروں سال پہلے)
تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ ملتان کا قلعہ "ملوئی" (Malhi) قوم نے تعمیر کیا تھا، جو سکندرِ اعظم کے حملے (326 قبل مسیح) کے وقت یہاں آباد تھی۔ اس وقت یہ مٹی کا ایک بہت بڑا ٹیلہ تھا جسے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
2. ہندو دور (کٹوچ خاندان)
بعض روایات کے مطابق، اس قلعے کی باقاعدہ مضبوط تعمیر کٹوچ خاندان کے ہندو راجاؤں نے کی تھی۔ اس دور میں یہ قلعہ اپنی بلندی اور مضبوطی کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا اور اس کے اندر مشہور "سورج مندر" (Sun Temple) بھی واقع تھا۔
3. اسلامی دور اور قلعے کی پختگی
• محمد بن قاسم (712ء): جب محمد بن قاسم نے ملتان فتح کیا، تو قلعے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس دور میں قلعے کی مرمت کی گئی اور اسے ایک مضبوط فوجی چھاؤنی بنایا گیا۔ اسی نسبت سے اسے آج "قاسم فورٹ" کہا جاتا ہے۔
• مغل دور: مغل بادشاہوں (خاص طور پر اکبر اور شاہجہاں) کے دور میں اس قلعے کی فصیل کو پختہ کیا گیا اور اس کے اندر شاہی عمارتیں، باغات اور مسجدیں تعمیر کی گئیں۔
4. نواب مظفر خان اور سکھ دور
• نواب مظفر خان شہید: 18ویں صدی کے آخر میں ملتان کے افغان گورنر نواب مظفر خان نے قلعے کی دیواروں کو مزید بلند اور مضبوط کیا تاکہ سکھوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
• رنجیت سنگھ: 1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج نے ایک طویل محاصرے کے بعد قلعہ فتح کیا اور اس کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔
5. برطانوی دور (تباہی اور موجودہ شکل)
موجودہ دور میں ہمیں قلعے کی جو شکل نظر آتی ہے، وہ برطانوی دور کی باقیات ہیں۔
• 1848-49 کی جنگ: انگریزوں اور ملتان کے گورنر مولراج کے درمیان ہونے والی جنگ میں انگریزوں کی شدید بمباری سے قلعے کی دیواریں اور اندرونی عظیم الشان محلات (جیسے شیش محل) مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔
• جنگ کے بعد انگریزوں نے قلعے کو دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے اسے ایک چھاؤنی میں بدل دیا اور اس کے گرد موجود فصیل کو گرا دیا تاکہ مستقبل میں کوئی بغاوت نہ ہو سکے۔
قلعے کی خاص بات
یہ قلعہ ایک مصنوعی ٹیلے پر واقع ہے جس کی اونچائی سطح سمندر سے تقریباً 710 فٹ ہے۔ کسی زمانے میں اس کے گرد دریائے راوی کی ایک شاخ بہتی تھی جو اسے ایک جزیرے کی شکل دے دیتی تھی۔
Multan Fort, also known as "Qasim Fort", is one of the oldest forts in the world. It is difficult to give a definitive date or name a person for its construction as it has gone through various periods over thousands of years.
The details of it according to historical facts are as follows:
1. Ancient Foundations (Thousands of Years Ago)
Historians believe that Multan Fort was built by the "Malhi" tribe, who inhabited the place at the time of Alexander the Great's invasion (326 BC). At that time, it was a huge mound of earth used for defensive purposes.
2. Hindu Period (Katoch Dynasty)
According to some traditions, this fort was formally fortified by the Hindu kings of the Katoch dynasty. During this period, this fort was considered impregnable due to its height and strength and the famous "Sun Temple" was also located inside it.
3. Islamic period and the fortification of the fort
• Muhammad bin Qasim (712 AD): When Muhammad bin Qasim conquered Multan, the importance of the fort increased further. During this period, the fort was renovated and made into a strong military garrison. For this reason, it is called "Qasim Fort" today.
• Mughal period: During the reign of the Mughal emperors (especially Akbar and Shah Jahan), the walls of the fort were fortified and royal buildings, gardens and mosques were built inside it.
4. Nawab Muzaffar Khan and the Sikh period
• Nawab Muzaffar Khan Shaheed: In the late 18th century, Nawab Muzaffar Khan, the Afghan governor of Multan, further raised and strengthened the walls of the fort to counter the Sikhs.
• Ranjit Singh: In 1818, Ranjit Singh's forces conquered the fort after a long siege and damaged its buildings.
5. British Era (Destruction and Present Form)
The form of the fort that we see in the present era is the remnants of the British era.
• War of 1848-49: In the war between the British and the Governor of Multan, Mulraj, the walls of the fort and the inner grand palaces (like Sheesh Mahal) were completely destroyed due to the heavy bombardment of the British.
• After the war, instead of rebuilding the fort, the British converted it into a cantonment and demolished the wall around it so that there would be no rebellion in the future.
Special feature of the fort
This fort is located on an artificial mound whose height is about 710 feet above sea level. At one time, a branch of the Ravi River flowed around it, which gave it the appearance of an island.
08/09/2024
😻بھیڑیا واحد جانور ھے جو اپنے والدین کا انتہائی وفادار ھے یہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی خدمت کرتا ھے۔ یہ ایک غیرت مند جانور ھے اسلئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑے سے تشبیہ دیتے ھیں 😻
🌻 " بھیڑیا" واحد ایسا جانور ھے جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی کا غلام نہیں بنتا جبکہ شیر سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ھے۔۔۔
بھیڑیا کبھی ﻣٌﺮﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ کھاتا اور یہی جنگل کے بادشاہ کا طریقہ ھے اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث( والدہ، بہن) پر جھانکتا ھے یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف بھیڑیا اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔۔۔
بھیڑیا اپنی شریک حیات کا اتنا وفادار ہوتا ھے کہ اس کے علاؤہ کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا۔ اسی طرح مؤنث( یعنی اس کی شریک حیات) بھیڑیا کے ساتھ اسی طرح وفاداری نبھاتی ھے۔۔۔
بھیڑیا اپنی اولاد کو پہنچانتا ھے کیونکہ ان کے ماں و باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔۔۔
جوڑے میں سے اگر کوئی ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ پر کم از کم تین ماہ کھڑا بطور ماتم افسوس کرتا ھے۔۔۔
بھیڑئیے کو عربی زبان میں "ابن البار" کہا جاتا ہے، یعنی"نیک بیٹا" کیونکہ جب اس کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے شکار کرتا ھے اور ان کا پورا خیال رکھتا ھے۔۔۔
اس لئے ترک اپنی اولاد کو شیر کی بجائے بھیڑئیے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ انکا ماننا ھے کہ
"شیر جیسا خونخوار بننے سے بہتر ھے بھیڑیے جیسا نسلی ہونا"🌻
05/08/2024
یہ گاؤں 1300 سال سے سمندر پر تیر رہا ہے۔
یہ دنیا کی واحد تیرتی بستی ہے۔ اس برادری کے لوگوں کو ٹانکا یا ٹانکا لوگ کہا جاتا ہے اور ان کی تعداد 7000 ہے۔ انہیں بعض اوقات چینی اور انگریزوں نے 'سمندری خانہ بدوش' کہا تھا۔ ان کے گھر سمندر پر تیر رہے ہیں۔ یہ کشتیاں رہنے کے کمرے، کچن اور باتھ رومز سے لیس ہیں۔
شادیوں سے لے کر جنازے تک سب کچھ ان کشتیوں پر ہوتا ہے۔ تنکا قبیلے کے لوگوں کی پوری زندگی پانی اور مچھلی کے گرد گھومتی ہے۔ اس قبیلے کے لوگ زیادہ تر ماہی گیری کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
جبکہ بہت سے لوگ نمک کی صنعت میں کام کرتے ہیں کچھ موتیوں کی ماہی گیری کے لیے سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹانکا کے لوگوں نے 1300 سالوں سے زمین پر پاؤں نہیں جمائے تھے۔
ایکسپلور ایڈو پیڈیا
Click here to claim your Sponsored Listing.