Tableegha Islam "

Tableegha Islam "

Share

02/06/2024

تنم فرسودہ جاں پارہ ز ہجراں یا رسول اللہ
دلم پژمردہ آوارہ ز عصیاں یا رسول اللہ

یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے، گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے۔

چوں سوئے من گزر آری من مسکیں ز ناداری
فدائے نقش نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ

یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں، آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں۔

ز کردہ خویش حیرانم سیاہ شد روز عصیانم
پشیمانم پشیمانم پشیماں یا رسول اللہ

اپنے کیے ہوئے پر میں حیران و پشیمان ہوں، میرے نصیب میرے گناہوں سے سیاہ ہوچکے ہیں اور اس پر یا رسول اللہ میں پشیمان ہوں پشیمان ہوں پشیمان ہوں۔

ز جام حب تو مستم با زنجیر تو دل بستم
نمی گویم کہ من ہستم سخنداں یا رسول اللہ

آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں، آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں، پھر بھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سے شناسا ہوں یا رسول اللہ

چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گنہ گاراں
مکن محروم جامیؔ را درا آں یا رسول اللہ

روزِ محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لئے کھولیں گے، یا رسول اللہ اس وقت جامیؔ کو محروم نہ رکھیے گا۔

05/05/2024

ام ربیعہ بڑی نیک خاتون تھی بغداد میں رہتی تھی اللہ تعالی نے بڑی دولت عطافرمائی ان کی شادی بھی ایک دولت مند شخص سے ہوئی فرماتی ہیں کہ میں اوپر چھت پراپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی وہ تھا تو بڑا دولتمند پر متکبر بھی بڑا تھا دروازےپر ایک فقیر مانگنے آیا میرا خاوند بالکنی سے جھانک کر کہنے لگا اسے کچھ نہ دینا یہ دوکاندار ہے یہ دنیا دار بنے ہوئے ہے جان بوجھ کے مانگتے ہیں تو میں نے کہا تیری دولت سے نہیں دوں گی میرے میکے سے جو کچھ آیا ہوا ہے اس میں سے دینے کی اجازت دے دینا اس نے کہا فقیر کے پاس جانا ہی نہیں عورت کہتی ہے اس مانگنے والے کا جو دروازے پر کھڑا تھا اس کا جو انداز تھا اس سے لگتا تھا کہ کئی دنوں کا بھوکا ہے اس جوان کے چہرے پر عجیب بھوک تھی میں شوہر سے نظر بچا کے آئیں اور میں نےچند دینار اس کی ہتھیلی پر رکھے جب میں نے دروازہ بند کیاتو سامنے میرا شوہر کھڑا تھا کہنے لگا میرے بغیر اجازت کے دیتی ہے جا تجھےتین طلاقیں میں عزت مند باپ کی بیٹی طلاق لے کے گھر آگئی جرم میرا یہ تھا کہ میں نے اللہ کے راستے میں خیرات کی تھی کہتی ہے میرا والد پریشان ہو گیا میں شدید پریشان میرے والد اور والدہ بھی پریشان تھے کہ رشتہ کہاں سے آئے گا ایک دو سال شدید کرب میں رہے تو ایک رشتہ آیا بڑے امیر آدمی کا تھا میں طلاق یافتہ تھی پر رشتہ کنوارے کا آیا جب وہ رشتہ ہو گیا میں پہلے دن اپنے خاوند کےپاس گئی تو مجھے کہنے لگا مجھے جانتی ہو میں کون ہوں میں نے کہا نہیں تو کہنے لگا میں وہی ہوں جو تیرے دروازے پہ خیرات لینےآیا تھا تجھے میری وجہ سے طلاق ہوئی تو میں اسی رات جا کے مسلے پر رویا کہ مولا میری وجہ سے بیچاری کا گھر اجڑ گیا پھر میں نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے محنت کی تجھے عزت دینے کے لئےکہنے لگا اب تجھے بیوی بنا کے نہیں مہارانی بنا کے رکھو نگا تیری نوکری کروں گا تو میری محسنہ ہے ایک سال گزرا مجھے اللہ نےبیٹا بھی دیا میرا شوہر سارے کام خود کرتا تھا ایک دن میں چھت پر اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی دروازے پرمانگنے والا آیا کہنے لگا کہ اگر مانگنے والا آئے تو تم نے خود دینے جانا ہے میں دروازے پہ مانگنےوالے کو دینے گئی تو میری چیخ نکل گئی میں دھڑام سے گری میرا شوہر دوڑ آیا کہنے لگا کیا ہوا میں نے کہا پتہ ہے مانگنے کون آیا ہے یہ وہی ہے جو میرا پرانا شوہر تھا ام ربعیہ کہتی ہے میں رونے لگی۔
دولت کا تکبر کرتے ہیں لوگ

Want your place of worship to be the top-listed Place Of Worship in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Shahdara
Multan
66000