Atish-e-Ishq
31/10/2020
19/03/2019
وہ جو اِک شخص ، مجھے طعنۂ جاں دیتا ھے
مَرنے لگتا ھُوں تو ، مَرنے بھی کہاں دیتا ھے
تیری شرطوں پہ ھی کرنا ھے ، گر قبول تجھے
یہ سہولت تو ، مجھے سارا جہاں دیتا ھے۔
ردیف ، قافیہ ، علم و اعمال کی جنگ ھے
فقط قلم کی نھیں قلم کار کی جنگ ھے
عہدکسی کا بھی ھو،مفلس وھی مفلوک الحال
جمہور کی نھیں ' یہ فقط اقتدار کی جنگ ھے
ھر اک اپنے گرد ھالے میں بنا ھے حاکم
چاروں جانب محض اک اشتعال کی جنگ ھے
تم تو جاھل ھو ٰ میرے پاس ھے تعلیمی سند
اس عروج کے نئے' تازہ زوال کی جنگ ھے
اک سند یافتہ کو لازم ھے تربیتی اصلاح
زہنی مفلوج کے مکمل علاج کی جنگ ھے
سڑک جو پار ایک اندھے کے ساتھ کی تب سے
یہ نیکی ھے یا دکھاوے کا جال؟ یہ جنگ ھے
ایک تبسم میں پی جو جائیں گھونٹ نفرت کا
نھیں ھے جنگ کیوں؟ نئے اس ملال پہ جنگ ھے
اپنی تخلیق پہ تحقیق کی جنگ ھے مآھی
دل و دماغ میں ا ٹھتے سوال کی جنگ ھے
سکونِ دل سکوتِ شب اور سالم ھر اعضا
مکان ٰ زن ٰ ذمین و زر بےکار کی جنگ ھے
باکلام: ماہ رُخ ابراھیم اکازئی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Website
Address
090078601