Pakistan Train's

Pakistan Train's

Share

23/04/2026

بہاولنگر سے سمہ سٹہ کی لوپ لائن دیکھیں
اس اسٹیشنوں کی تفصیلی فہرست آج بہت عرصے بعد ڈی ایس آفس ملتان سے ملی ہے۔
بہاولنگر سے فورٹ عباس ٹریک کے نشانات اور متروکہ عمارات ابھی بھی موجود ہیں لیکن فورٹ عباس سے قعطل العمارہ اور سمہ سٹہ تک اسٹیشنوں کا علم بہت ہی کم لوگوں کو ہوگا۔
آپ اب فورٹ عباس سے سمہ سٹہ تک کے اسٹیشنوں کا فاصلہ اور انکے نام دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ غالباً اس سیکشن کو جنگ عظیم دوم میں اکھاڑ دیا تھا۔ اس لائن کو بھی ریاست بہاولپور کے نواب صاحب نے تعمیر کروایا تھا اور یہ چولستان میں آمدورفت کا واحد ذریعہ تھی۔
آج بھی یہاں کے ٹرانسپورٹ کے مسائل موجود ہیں۔

یہ ریلوے لائن اور اسکی زمینیں ملتان ریلوے ڈویژن کے زیرنگرانی ہے۔

23/04/2026

سپر ایکسپریس — پاکستان ریلویز کی ایک یادگار داستان

سپر ایکسپریس پاکستان ریلویز کی ان نمایاں ٹرینوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے ایک زمانے میں مسافروں کے دلوں پر راج کیا۔ اس تیز رفتار ریل گاڑی کا آغاز 1970 میں کیا گیا، جب اسے ملک کے دو بڑے اور اہم شہروں، لاہور اور کراچی، کے درمیان چلایا گیا۔ اپنے دور میں یہ ٹرین رفتار، سہولت اور وقت کی پابندی کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتی تھی، اور اسے ان شہروں کے درمیان سفر کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

ابتدائی کامیابی کے بعد پاکستان ریلویز نے اس ٹرین کے روٹ اور آپریشن میں مختلف تجربات کیے۔ انہی تجربات کے تحت سپر ایکسپریس کو سرگودھا سے کراچی براستہ فیصل آباد چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نئے نظام کے تحت ایک دلچسپ طریقہ کار اپنایا گیا: ٹرین کی کچھ بوگیاں لاہور سے خانیوال تک لائی جاتی تھیں، جبکہ باقی حصہ سرگودھا سے فیصل آباد کے راستے خانیوال پہنچتا تھا۔ خانیوال میں دونوں حصوں کو آپس میں جوڑ کر مکمل ٹرین کی صورت میں کراچی روانہ کیا جاتا تھا۔

یہ نظام اپنی نوعیت میں منفرد ضرور تھا، لیکن بظاہر یہ تجربہ زیادہ دیر تک کامیاب نہ رہ سکا۔ اس کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں، تاہم ممکن ہے کہ انتظامی مشکلات، وقت کی پابندی کے مسائل یا آپریشنل پیچیدگیوں کی وجہ سے اسے ختم کرنا پڑا ہو۔

بعد ازاں سپر ایکسپریس کو مستقل طور پر سرگودھا سے کراچی کے درمیان چلایا جانے لگا۔ اس روٹ پر یہ ٹرین نہایت کامیاب رہی اور اپنے وقت کی مقبول ترین اور قابلِ اعتماد ریل گاڑیوں میں شمار ہونے لگی۔ مسافر اس کی رفتار، سہولیات اور نسبتاً بہتر سروس کی وجہ سے اسے ترجیح دیتے تھے۔

تاہم، 2012 میں پاکستان ریلویز نے اس تاریخی ٹرین کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرکاری طور پر اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ریلوے کے پاس اس ٹرین کو چلانے کے لیے مناسب انجن دستیاب نہیں تھے۔ اس فیصلے کے بعد سپر ایکسپریس کی سروس معطل کر دی گئی، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ تاحال یہ ٹرین دوبارہ بحال نہیں کی جا سکی۔

سپر ایکسپریس آج بھی ان لوگوں کے لیے ایک خوبصورت یاد ہے جنہوں نے اس میں سفر کیا یا اس کے سنہرے دور کو دیکھا۔ یہ نہ صرف ایک ٹرین تھی بلکہ پاکستان ریلویز کی تاریخ کا ایک اہم باب بھی تھی، جو بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کی دستیابی کے ساتھ شاید آج بھی کامیابی سے چل سکتی تھی۔

21/04/2026

محترم شہری،

آپ کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ ٹرین کبھی لیٹ ہو جائے، موسم بدل جائے، حالات سخت ہو جائیں… مگر آپ کا سفر جاری رہتا ہے۔ یہ صرف سفر نہیں، یہ رشتہ ہے۔ ریل سے محبت کا رشتہ۔

سوچیے… جب ایک ٹرین کراچی سے روانہ ہوتی ہے اور سینکڑوں کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے ملتان پہنچتی ہے، تو یہ سیدھا سا راستہ نہیں ہوتا۔ اس کے درمیان پل ہیں، لیول کراسنگز ہیں، گنجان آبادیاں ہیں، ایسے مقامات ہیں جہاں حفاظتی وجوہات کی بنا پر رفتار کم کرنی پڑتی ہے۔ کہیں ٹریک کی مرمت جاری ہوتی ہے، کہیں سگنلنگ کا عمل احتیاط مانگتا ہے، اور کہیں ٹرین کو رک کر دوسری ٹرین کو گزرنے دینا ہوتا ہے۔

پھر ایک اور اہم پہلو ہے عوامی شعور۔
ٹریک پر ٹرس پاسنگ، غیر قانونی کراسنگ، مویشیوں کا اچانک آ جانا، حتیٰ کہ بعض افراد کا سیلفی یا ویڈیو بنانے کے لیے پٹری کے قریب کھڑا ہو جانا۔ یہ سب صرف تاخیر نہیں، بلکہ سنگین خطرات کو دعوت دینا ہے۔ ایک لمحے کی لاپرواہی پورے نظام کو متاثر کر دیتی ہے۔

اب ذرا اسٹیشن کا منظر دیکھیے۔

ٹرین جیسے ہی پلیٹ فارم پر پہنچتی ہے، اسے فوراً واپس روانہ نہیں کیا جاتا۔ پورا ریک مکینیکل انجینئرز اور ٹیکنیکل اسٹاف کے حوالے کیا جاتا ہے۔ بریک سسٹم، وہیل انسپیکشن، برقی نظام، کوچز کی سروسنگ ہر مرحلہ مکمل جانچ سے گزرتا ہے۔ جب تک مکمل اطمینان نہ ہو، فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری نہیں ہوتا۔ پھر نیا انجن لگایا جاتا ہے، جو اس پورے ریک کو محفوظ طریقے سے اگلی منزل تک لے جانے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ تب جا کر سیٹی بجتی ہے… اور سفر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔

ہر انتظامی ڈویژن اپنی سطح پر پوری کوشش کرتا ہے کہ ٹرین بروقت اور بحفاظت روانہ ہو۔ مگر اتنے طویل فاصلے، بدلتے موسم، غیر متوقع رکاوٹیں اور بعض اوقات انسانی غفلت یہ سب عوامل تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہر تاخیر کے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے، اور اکثر وہ وجہ حفاظت ہوتی ہے۔

اور اب ایک ضروری بات۔

سوشل میڈیا پر بیٹھ کر بغیر مکمل معلومات کے بے جا تنقید کرنا، سیفٹی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کرنا، اور ہر مسئلے کو سنسنی بنا دینا یہ نہ دانشمندی ہے اور نہ حب الوطنی۔ جنہیں نظام کی پیچیدگی، فنی تقاضوں اور حفاظتی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں، وہ محض چند منٹ کی ویڈیو یا پوسٹ دیکھ کر فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔

اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، مگر غیر ذمہ دارانہ تبصرے، اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں، اور حقائق جانے بغیر الزام تراشی یہ رویہ کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اگر نیت اصلاح کی ہو تو انداز بھی مہذب اور معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ لیکن اگر مقصد محض توجہ حاصل کرنا یا انتشار پھیلانا ہو، تو یہ رویہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ ملک ہم سب کا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص بغیر علم کے تکنیکی اور حفاظتی فیصلوں پر حکم لگانا شروع کر دے۔ کچھ معاملات تجربے، تربیت اور ذمہ داری کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان کا احترام ضروری ہے۔

ریلوے صرف پٹڑیوں اور انجنوں کا نام نہیں، یہ ایک ڈسپلن، محنت اور ذمہ داری کا نظام ہے۔
آئیے، تنقید کریں مگر شعور کے ساتھ۔ سوال اٹھائیں مگر معلومات کے ساتھ۔ اور اگر ساتھ دینا ہے، تو ذمہ داری کے ساتھ۔

کیونکہ مضبوط ادارے جذبات سے نہیں، نظام اور احتساب سے چلتے ہیں۔
❤️🇵🇰❤️

Want your business to be the top-listed Transport Service in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Multan