Muhammad Ahmad
15/04/2026
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*⚠تحقیق الروایات المشھورة علی الألسنة*
ناقل و ناشر:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)*
━━❰・ *روایت نمبر 156* ・❱━━━
*گڑ کھانے کا واقعہ حدیث کی طرف منسوب کرنا*
ہمارے عوام میں ایک حدیث زبان زد عام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی کہ یہ میٹھا کھانے سے باز نہیں آرہا ، آپ ﷺ اسے منع فرمائیں ، چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخود اس دن میٹھا کھایا ہوا تھا ، اس لیے اسے اگلے روز لانے کوکہا۔ اور اگلے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ میٹھا نہ کھایا کرو۔
اس روایت کو بنیاد بناکر یہ مسئلہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے خود عمل کرنا چاہیے پھر دوسروں کو دعوت دینی چاہیے۔
🛇⚠️ تبصرہ🛇⚠️
مذکورہ بالا واقعہ مختلف الفاظ اور تعبیرات کے ساتھ عوام میں مشہور ہے لیکن محققین کے نزدیک ایسی کوئی روایت کتبِ حدیث میں مذکور نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ کسی بزرگ کا واقعہ ہو، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کردیا جاتا ہے۔ لہذا کسی معتمد سند کے بغیر اس واقعہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے حدیث کے طور پر بیان کرنا جائز نہیں۔ نیز اس واقعہ سے اخذ کیا جانے والا نتیجہ بھی قابلِ غور ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بات پر خود عمل نہ کر پا رہا ہو ، تب بھی اس کے کرنے یا اس سے بچنے کی دعوت دی جاسکتی ہے، البتہ زیادہ بہتریہی ہے کہ خود عمل کرتے ہوئے دعوت دی جائے۔
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی 144012201501
▪فتاوی عثمانیہ 1/223
▪دارالافتاء دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر 170027
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
12/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 13* ・❱━━━
🌻 *ذوالحجۃ کے پہلے عشرہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا*
ام المومنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کہ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو، اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے" (رواہ مسلم رقم 1977)
ان جیسی احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن نہ کاٹے اور سر، بغل اور ناف کے نیچے، بلکہ بدن کے کسی حصہ کے بال نہ کاٹے، لیکن یاد رہے کہ ایسا کرنا مستحب ہے ضروری نہیں، لہذا اگر کوئی ایسا نہ کرے تو قربانی میں کوئی خلل نہیں آتا۔ البتہ اگر قربانی سے پہلے چالیس دن گزر گئے ہوں تو پھر ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے اور بغل کے بالوں کی صفائی ضروری ہے۔
📚 الدر المختار مع رد المحتار 2/181
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
10/04/2026
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرتب:✍
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 12* ・❱━━━
🌻 *انگریزی بال رکھنے کا حکم*
عرف میں انگریزی بال اس کو کہتے ہیں کہ سر کے اگلے حصے کے بال بڑے رکھے جائیں اور اطراف میں کم کیے جائیں۔ یہ صورت چونکہ قزع (کچھ بال رکھنے اور کچھ مونڈنے) کے مشابہ ہے اور قزع سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ، اس لیے انگریزی بال سے احتراز ضروری ہے۔ نیز انگریزی بال رکھنے میں انگریزوں اور فساق و فجار کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جب کہ شریعت کی روسے غیر مسلم اقوام کے ساتھ مشابہت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے اس لیے بھی اس سے احتراز ضروری ہے۔
📚 فتاوی عثمانیہ ، جلد 10 ، صفحہ 130
https://wa.me/+923079819544
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Multan
66000