Zeeshan Habib Official
11/01/2026
ایک باپ کی بیٹے کو وصیت جس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔
نوجوان ضرور پڑھیں۔اور والدین کے ساتھ اپنے رویے پرتوجہ دیں۔
ایک باپ اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے نصیحت کرتا ہے۔
میرے پیارے بیٹے : ایک دن تم مجھے بوڑھا دیکھو گے۔
میرا رویہ تمہیں غیر منطقی معلوم ہوگا ۔
تب براہ مہربانی بیٹا مجھے تمہار ا وقت اور صبر چاہیے ہو گا ۔تاکہ تم مجھے سمجھ سکو ۔
جب میرے ہاتھ کانپیں اور میرا کھانا سینے پر گر پڑے۔
اور جب میں کپڑے نہ پہن سکوں ۔
تب گزرے ہوئے سالوں کو یاد کرنا جب میں تمہیں وہ کچھ سکھاتا تھا جو میں آج نہیں کر سکتا۔
اگر میں تم سے بار بار بات کروں اور آپ کو باربار یا دہانی کرواٶں تو غصہ اور ملامت مت کرنا۔
اس لیے کہ میں نے تمہارے لیے کتنی ہی باتیں کہانیاں دہرائی ہیں، صرف اس لیے کہ انہوں نے تمہیں خوش کیا.اور تم نے ہمیشہ باربار مجھ سے پوچھا جب کہ تم چھوٹے تھے معذرت، اب مجھے رکاوٹ نہ ڈالنا ۔
اگر میں اب خوبصورت نہیں ہوں، یا مجھے سے تمہیں مہک نہیں آتی تو مجھ پر الزام مت عاٸد کرنا
اور یاد رکھنا جب میں جوان تھا تو میں نے آپ کو خوبصورت اور خوشبودار بنانے کی بہت کوششیں کیں۔
اپنی جوانی میں میری لاعلمی اور کم فہمی پر مت ہنسنا
بلکہ تم میری آنکھیں اور دماغ بن جانا تاکہ جو چیزیں مجھ سے رہ گٸیں میں انہیں پا سکوں ۔
بیٹا میں وہ ہوں جس نے تمہیں سکھایا، میں نے تمہیں زندگی کا سامنا کرنا سکھایا
آج آپ مجھے کیسے سکھاتے ہو کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟
اپنی گفتگو کے دوران میری کمزور یادداشت اور میری باتوں اور سوچ کی سستی سے نہ تھکنا۔ کیونکہ میری خوشی اب صرف تمہارے ساتھ رہنے میں ہے
بس مجھے وہ خرچ کرنے میں مدد کرنا جس کی مجھے ضرورت ہے میں اب بھی جانتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔
جب میرے پاؤں مجھے جہاں چاہیں لے جانے میں ناکام ہو جاٸیں
تو مجھ پر احسان کرنا اور یاد رکھنا کہ میں نے تمہارا ہاتھ اتنا پکڑا کہ تم چل سکو ۔
آج میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کبھی شرمانا مت، کل تم کسی کا ہاتھ پکڑو گے۔ اس عمر میں، میں جانتا ہوں کہ میں آپ کی طرح زندگی کے قریب نہیں آ رہا ہوں۔ لیکن میں مرنے کا انتظار کر رہاہوں ۔
بیٹا میر ساتھ دینا ، میرا مخالف مت بننا ۔
جب آپ کو میری کچھ غلطیاں یاد آٸیں تو جان لینا کہ میں نے ہمیشہ آپ کے بہترین مفادات کے علاوہ کچھ نہیں چاہا۔
اور یہ سب سے اچھی چیز ہے جو آپ ابھی میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔ میری لغزشوں کو معاف کرنے کے لیے۔ اور میری خطاؤں پر پردہ ڈالنے کے لیےخدا تمہیں معاف کرے اور تمہیں چھوڑ دے۔
بیٹا آپ کی ہنسی اور مسکراہٹ اب بھی مجھے اسی طرح خوش کرتی ہے جیسے جب میں جوان تھا۔ مجھے اپنی صحبت سے محروم نہ کرنا ۔
بیٹا ، جب تم پیدا ہوئے تو میں تمہارے ساتھ تھا
تو جب میں مروں تو میرے ساتھ رہنا
عربی تحریرکا ترجمہ
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔
منقول
゚
10/01/2026
اندھیری رات، روشن دل
وہ صرف نامورڈ نہیں تھا…
وہ اندھیروں کا بادشاہ تھا۔
جس راستے سے گزرتا، سائے بھی کانپ اٹھتے۔
اس رات ڈاکہ معمول سے مختلف تھا۔
یہ حویلی صرف امیروں کی نہیں تھی،
کہا جاتا تھا یہاں راز دفن ہیں۔
دروازہ ٹوٹا، چیخیں بلند ہوئیں،
مگر اچانک… سب خاموش۔
اوپر والے کمرے میں
ایک لڑکی چراغ کی مدھم روشنی میں بیٹھی تھی۔
سامنے قرآن کھلا تھا۔
وہ چونکا۔
یہ خوف کی خاموشی تھی یا یقین کا سکون؟
اس نے گرج کر کہا:
"ڈر نہیں لگتا موت سے؟"
لڑکی نے سر اٹھایا، آنکھوں میں آنسو نہیں تھے:
"ڈر گناہ سے لگتا ہے… موت تو دروازہ ہے۔"
یہ جملہ اس کے دل میں گونجتا رہا۔
اسی لمحے باہر فائرنگ ہوئی۔
اس کے ساتھی پکڑے جا رہے تھے۔
وہ بھاگ سکتا تھا…
مگر قدم رک گئے۔
لڑکی بولی:
"اگر جان بچانی ہے تو بھاگ جاؤ…
اور اگر روح بچانی ہے تو ٹھہر جاؤ۔"
یہ فیصلہ کن لمحہ تھا۔
وہ کھڑکی سے کود گیا—
لیکن صرف جسم بچا کر نہیں،
دل بھی وہیں چھوڑ آیا۔
دنوں بعد
وہی نامورڈ ایک قبرستان میں بیٹھا تھا۔
سامنے ایک نئی قبر تھی—
اس کے سب سے قریبی ساتھی کی۔
پہلی بار اسے احساس ہوا:
جو راستہ وہ چن رہا تھا
اس کا انجام صرف مٹی تھا۔
اسی رات خواب میں
وہی لڑکی آئی…
مگر اس بار کفن میں لپٹی۔
وہ گھبرا کر جاگا۔
پسینے میں ڈوبا ہوا۔
اذان کی آواز گونجی۔
وہ مسجد کی دہلیز پر آیا،
جہاں برسوں سے قدم نہ رکھا تھا۔
امام صاحب نے بس اتنا کہا:
"جو خود کو ہرا دے،
وہی اصل میں جیتتا ہے۔"
وہ ٹوٹ گیا۔
سجدے میں گرا۔
اندھیرا ختم ہونے لگا۔
مہینوں بعد
وہ ایک سادہ لباس میں
اسی حویلی کے دروازے پر کھڑا تھا۔
دل کانپ رہا تھا—
کیا وہ زندہ ہے؟
یا صرف ایک خواب؟
دروازہ کھلا۔
وہی لڑکی تھی۔
اس نے نظریں جھکا کر کہا:
"میں وہی ہوں…
مگر اب وہ نہیں۔"
لڑکی نے قرآن بند کیا،
اور آہستہ بولی:
"جو اللہ کے لیے بدل جائے،
وہی محبت کے قابل ہوتا ہے۔"
سبق آموز پیغام
گناہ چاہے کتنا ہی بڑا ہو، توبہ اس سے بڑی ہے
سچی محبت جسم نہیں، روح کو بدل دیتی ہے
جو انسان اللہ کے سامنے جھک جائے،
دنیا خود اس کے سامنے جھک جاتی ہے
ہدایت اکثر اچانک ملتی ہے—
بس دل زندہ ہونا چاہیے
پیاسی عورت —
ایک گاؤں میں سلمیٰ نام کی عورت رہتی تھی۔ سلمیٰ بظاہر ایک خوشحال گھرانے کی بہو تھی، شوہر بیرون ملک مزدوری کرتا تھا اور ہر ماہ پیسے بھیجتا تھا۔ دو بچے، ایک پکا گھر اور ہر سہولت موجود تھی، مگر ایک چیز کی کمی تھی… محبت کی۔
سلمیٰ کی زندگی میں سب کچھ تھا، لیکن جذباتی پیاس روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ شوہر صرف فون پر حال پوچھتا، مگر نہ وقت دیتا نہ احساس۔ کئی سال ایسے ہی گزر گئے۔ دل کی خلش، تنہائی اور محبت کا خالی پن اسے اندر سے کھوکھلا کر رہا تھا۔
ایک دن محلے کا ایک نوجوان، عمران، اس سے پانی مانگنے آیا۔ باتوں باتوں میں وہ سلمیٰ کی تنہائی کو بھانپ گیا۔ روز آنے لگا، کبھی سودا لینے کے بہانے، کبھی فون ٹھیک کرنے کے۔ اور یوں ان کے درمیان ایک ناجائز رشتہ جنم لینے لگا۔
سلمیٰ کو لگا شاید یہی محبت ہے جس کی وہ پیاسی تھی۔ لیکن وہ بھول گئی تھی کہ یہ آگ صرف دل کو نہیں، پوری عزت کو جلا دیتی ہے۔
ایک دن محلے کی کسی لڑکی نے ان دونوں کو ساتھ دیکھ لیا۔ بات پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ سسرال نے رشتہ توڑ دیا، شوہر نے طلاق بھیج دی، بچے ماں سے چھین لیے گئے۔ اور عمران…؟ وہ تو بس وقت گزاری کے لیے آیا تھا، اور خاموشی سے کسی اور کا ہوگیا۔
آج سلمیٰ ایک ویران چھوٹی سی کوٹھڑی میں رہتی ہے، جہاں نہ شوہر ہے، نہ بچے، نہ عزت۔ صرف احساسِ ندامت اور تنہائی کی آگ۔ اب وہ روز قرآن کھولتی ہے، آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، دل میں صرف ایک ہی دعا —
"یااللہ! مجھے معاف کردے، میں اپنی پیاس کو غلط راستے سے بجھانے نکلی تھی…"
---
سبق:
کبھی کبھی انسان پیاسا ہوتا ہے، مگر وہ پانی نہیں… صبر مانگتا ہے۔ محبت کی کمی ہو تو خدا سے رجوع کریں، گناہ کے راستے سے نہیں۔ کیونکہ وقتی سکون بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔
ثناء ایک درمیانے طبقے کے گھرانے کی لڑکی تھی۔ تعلیم یافتہ، مگر جذباتی اور خوابوں میں کھوئی رہنے والی۔ اس کے ماں باپ اس کی تعلیم اور تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے، مگر ثناء دل ہی دل میں فلموں والی محبت کی خواہش رکھتی تھی۔
محلے میں علی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ دکھنے میں خوبرو، باتوں میں شیریں، اور عادتوں میں چالباز۔ علی نے ثناء کی معصومیت کو سمجھ لیا۔ چند مہینے باتوں، وعدوں اور خوابوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ آخرکار ایک دن ثناء نے اپنے ماں باپ کی عزت، اعتماد اور دعاؤں کو چھوڑ کر علی کے ساتھ گھر سے بھاگ کر شادی کر لی۔
شروع کے دن جیسے خواب تھے — پھول، وعدے، رومانس۔ مگر پھر وقت بدلا۔
علی کی حقیقت کھلنے لگی۔ وہ بے روزگار تھا، بدتمیز تھا، اور ہر بات پر ہاتھ اٹھانے والا انسان نکلا۔ ثناء کو نہ پیار ملا، نہ عزت۔ جب وہ ماں باپ سے رابطہ کرنا چاہتی، علی دھمکاتا کہ اگر واپس گئی تو بدنامی اس کا مقدر بنے گی۔
چند مہینوں میں علی نے ثناء کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔ باہر راتوں کو دیر سے آنا، مشکوک حرکات، اور آخرکار... ایک دن وہ ثناء کو چھوڑ کر چلا گیا۔ نہ کوئی پتہ، نہ خبر۔
ثناء ٹوٹ چکی تھی۔ جسمانی ہی نہیں، روحانی طور پر بھی۔ وہ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں تنہا رہ گئی۔ ایک دن ہمت کر کے اپنے والد کو فون کیا۔ وہ جو کبھی اس کے بھاگنے پر غصے میں تھے، آج بھی اس کی ایک آہ پر دروازہ کھولنے کو تیار تھے۔
باپ نے سینے سے لگایا، ماں نے آنسوؤں سے دھویا۔ مگر جو عزت، اعتماد اور ساکھ وہ کھو چکی تھی، وہ واپس نہ آسکی۔
---
سبق:
بھاگ کر کی گئی شادی وقتی جذبات کا نتیجہ ہو سکتی ہے، مگر اس کے اثرات ساری زندگی پر پڑ سکتے ہیں۔ والدین کی محبت، تربیت اور دعائیں کسی غیر کے جھوٹے وعدوں سے کہیں قیمتی ہوتی ہیں۔
اختتامیہ:
محبت حرام نہیں، مگر طریقہ اگر غلط ہو... تو انجام اکثر الم ناک ہی ہوتا ہے۔
27/06/2025
حضرت امام حسینؑ، رسول اکرم ﷺ کے نواسے، حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ الزہراؑ کے بیٹے تھے۔ آپ بچپن ہی سے رسول ﷺ کی محبت اور تربیت میں پروان چڑھے۔ خلافتِ راشدہ کے بعد جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی، اور یزید بن معاویہ بادشاہ بنا، تو اُس نے مسلمانوں سے بیعت لینا شروع کی، تاکہ اس کی حکومت مضبوط ہو جائے۔
یزید:
فاسق و فاجر انسان تھا۔
شراب نوشی، ناچ گانے، ظلم و فسق کا عادی تھا۔
دینِ اسلام کی تعلیمات سے ہٹ کر حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔
امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کو دین کے خلاف سمجھا اور اس کی بیعت سے انکار کر دیا۔
---
🔹 مدینہ سے مکہ، پھر کربلا:
یزید کے گورنر ولید بن عتبہ نے امام حسینؑ کو مدینہ میں بیعت کا حکم دیا۔ امامؑ نے انکار کیا اور راتوں رات اپنے اہلِ بیت کے ساتھ مکہ روانہ ہو گئے۔ وہاں کئی مہینے گزارے۔ اسی دوران کوفہ (عراق) کے لوگوں نے ہزاروں خطوط لکھے کہ:
> "ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ آئیں، ہم آپ کو اپنا امام بنائیں گے۔"
امام حسینؑ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ حالات کا جائزہ لیں۔
---
🔹 مسلم بن عقیل کی شہادت:
حضرت مسلم کو کوفہ میں ابتدائی طور پر ہزاروں افراد نے بیعت کی۔
لیکن جب ابن زیاد کوفہ کا گورنر بنا تو اس نے ظلم و دہشت سے لوگوں کو ڈرا دیا۔
حضرت مسلم تنہا رہ گئے اور شہید کر دیے گئے۔
یہ خبر امام حسینؑ تک پہنچی لیکن آپ اللہ کی رضا کے لیے اپنا سفر جاری رکھے۔
---
🔹 کربلا کی سرزمین پر:
محرم الحرام 61 ہجری میں امام حسینؑ کا قافلہ کربلا کے میدان میں اترا۔ یزیدی لشکر نے ان کا راستہ روکا۔ امامؑ نے فرمایا:
> "مجھے واپس جانے دو یا کسی اور جگہ چلے جانے دو، میں لڑنے نہیں آیا۔"
لیکن ابن زیاد اور یزیدی فوج نے صرف ایک شرط رکھی: یزید کی بیعت کرو۔
امامؑ نے فرمایا:
> "یزید جیسے فاسق کی بیعت کرکے اسلام کو رسوا نہیں کر سکتا۔"
---
🔹 پانی بند:
سات محرم کو یزیدی لشکر نے فرات کا پانی بند کر دیا۔
امام حسینؑ کے بچوں، عورتوں اور چھ ماہ کے علی اصغرؑ کو پانی کا ایک قطرہ تک میسر نہ تھا۔
---
🔹 عاشور (10 محرم):
یہ وہ دن تھا جب حق و باطل کا معرکہ شروع ہوا۔ امام حسینؑ کے 72 جانثاروں نے 30 ہزار کے یزیدی لشکر کا بہادری سے مقابلہ کیا۔
شہادتیں:
1. حضرت علی اکبرؑ (امام حسینؑ کے نوجوان بیٹے) – بہادری سے لڑے، شہید ہوئے۔
2. حضرت قاسمؑ (حضرت حسنؑ کے بیٹے) – نوجوان مجاہد، شہید ہوئے۔
3. حضرت عباسؑ علمدار – پانی لینے گئے، بازو کٹے، شہید ہوئے۔
4. حضرت علی اصغرؑ – امامؑ نے چھ ماہ کے بچے کو پانی کے لیے پیش کیا، حرملہ نے تیر مار کر شہید کر دیا۔
5. ایک ایک کر کے تمام اصحابِ حسینؑ شہید ہو گئے۔
آخر میں امام حسینؑ تنہا رہ گئے۔
---
🔹 امام حسینؑ کی شہادت:
امامؑ نے میدانِ کربلا میں اکیلے 30 ہزار کے لشکر سے مقابلہ کیا۔
دشمنوں نے چاروں طرف سے حملہ کیا۔
آپ کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔
جسم مبارک کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندا گیا۔
---
🔹 اہلِ حرم کی اسیری:
شہادت کے بعد امام کی بہن حضرت زینبؑ اور بیٹے امام زین العابدینؑ سمیت سب اہلِ حرم کو قیدی بنایا گیا۔
ان کے ساتھ ظلم و ستم کی انتہا کی گئی۔
انہیں کوفہ اور پھر شام یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔
حضرت زینبؑ نے دربارِ یزید میں خطبہ دے کر یزید کو بےنقاب کیا اور کربلا کی سچائی دنیا کو سنائی۔
---
✨ کربلا کا پیغام:
حق کے لیے جان قربان کرنا حسینیت ہے۔
ظلم کے آگے جھکنا ذلت ہے، اور حسینؑ نے ذلت کو ٹھکرا کر عزت کو اپنایا۔
کربلا قیامت تک مظلوموں کی امید اور ظالموں کے خلاف علم ہے۔
لبیک یا حسینؑ!
Click here to claim your Sponsored Listing.