MindSake Media

MindSake Media

Share

14/02/2026

13 دسمبر 1971 کی سہہ پہر
۔
اچانک، مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی ، گورنر ہاؤس سے برآمد ہوئے ۔ ان کے ہمراہ اس وقت صرف ان کا ذاتی محافظ تھا۔ اس وقت وہ پوری فوجی وردی میں ملبوس تھے۔ سینے پر تمغوں کی چار قطاریں آویزاں تھیں اور بغل میں چھڑی دبی ہوئی تھی۔
۔
جنرل نیازی ، گورنر ہاؤس سے نکل کر سیدھے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کی جانب روانہ ہوگئے۔ جنرل نیازی ، ہوٹل پہنچے تو اخبار نویسوں نے انہیں گھیر لیا۔ ایک غیر ملکی نامہ نگار نے ان سے سوال کیا
۔
اگر بھارتی فوج اور مکتی باہنی نے چاروں طرف سے ڈھاکا پر یلغار کردی تو پاکستانی فوج کیا کرے گی؟
۔
انہوں نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا
۔
" وہ بات ٫ جو تم لوگ نہیں جانتے ، وہ ہے ہماری پوشیدہ قوت۔ میں تمھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ بہت جلد ایک نہایت حیرت انگیز بات ہونے والی ہے ۔ کل تک تمام صورت حال یک سر بدل جائے گی۔
۔
میں تم لوگوں سے ایک بات کا قطعی وعدہ کرتا ہوں ۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ہم کس لئے موت قبول کررہے ہیں ۔ ہم دشمن پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ایک مسلمان دس ہندوؤں کے برابر ہوتا ہے۔ ہم ان سے پورا پورا حساب بے باق کرکے رہیں گے۔
۔
ڈھاکا کی لڑائی ابھی شروع کہاں ہوئی ہے، ڈھاکا کی عظیم جنگ تو اب شروع ہونے والی ہے۔ ہم آخر وقت تک لڑتے رہیں گے۔ بھارتی فوجیں اگر ڈھاکہ میں داخل ہوئیں ، تو وہ صرف میری لاش پر سے گزر کر داخل ہوسکیں گی، لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا ، کبھی نہیں ہوگا۔ کل کیا ہونے والا ہے تم لوگ اس کا انتظار کرو ۔
۔
اس کے بعد جنرل نیازی نے چند اور سوالات کے جوابات دئے اور گورنر ہاؤس کی جانب واپس روانہ ہوگئے ۔ انہیں دیکھ کر بعض راہ گیروں نے ہاتھ اٹھا کر اونچی آواز سے " پاکستان! زندہ باد !" اور " مجاہد اعظم! جنرل نیازی زندہ باد!" کے نعرے لگائے ۔ جنرل نیازی نے بھی جواب میں مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور آگے بڑھ گئے
۔
جہاں تک جنرل نیازی کے بڑے بڑے دعووں کا تعلق ہے وہ غیر ملکی صحافیوں کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی۔ ایسی باتیں وہ ان کی زبان سے اکثر سنتے رہتے تھے۔ انہیں اچھی طرح یاد تھا کہ مشرقی پاکستان پہنچنے کے چند ہی روز بعد جنرل نیازی نے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا اور ایک مقام پر، جہاں قریب ہی بھارتی فوجیں بھی پڑاؤ ڈالے ہوئے تھیں ، جنرل نیازی نے ایک برقی میگا فون پر انہیں مخاطب کرتے ہوئے چیخ چیخ کر کہا تھا:
۔
" تم لوگ کان کھول کر سن لو ! اس وقت تم سے جنرل ٹائیگر نیازی مخاطب ہے۔ اگر تم نے کسی قسم کی گڑ بڑ یا حماقت( نان سینس ) کی تو میرے جواں تمھیں ایسا سبق دیں گے، جس کے تم مستحق ہو۔ یاد رکھو اگر لڑائی چھڑ گئی تو وہ ہمارے علاقے میں نہیں ، بھارتی سرحدوں کے اندر ہوگی "
۔
غیر ملکی صحافیوں کو یہ بھی یاد تھا کہ وہ ان سے اکثر کہا کرتے تھے کہ :
۔
" یہ نشیبی اور چھوٹا علاقہ ہے ، لوگ بھی یہاں کے چھوٹے اور گھٹیا ہیں ۔ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ میں انہیں سیدھا کرنے کا گر جانتا ہوں۔"
۔
ایسی باتیں کرتے وقت وہ زوردار قہقہہ لگاتے تھے اور گردن کرسی کی پشت سے ٹکا کر دیر تک ہنستے رہتے تھے۔ اس کے بعد جب وہ ہنسنے سے فارغ ہوتے تو نہایت اعتماد اور تکبر سے کہتے
۔
" بھارتی فوجیوں میں لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ان میں نہ خود اعتمادی ہے نہ حوصلہ ہے اور نہ ہی ہماری طرح دلیری ہے۔وہ آدھے مرد ہیں ۔ ان کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی۔ انہوں نے کبھی طاقت ور دشمن کا مقابلہ نہیں کیا ۔ وہ ہمیشہ میدان جنگ میں پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔"
۔
اس کے بعد وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کی شکست کے اسبابِ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے :
۔
" ایک مسلمان سپاہی ، بیس یا تیس ہندو سپاہیوں کے برابر ہوتا ہے۔ بلکہ بعض حالات میں تو سو ہندو سپاہیوں پر بھاری ہوتا ہے۔"
۔
پھر وہ اخبار نویسوں سے پوچھتے :
۔
" تم لوگ مجھے کوئی ایسی جنگ بتاؤ ! جس میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر فتح حاصل کی ہو؟ یہ ناممکن ہے ۔ یہ نامرد لڑ ہی نہیں سکتے۔"
۔
جنرل نیازی ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے کے بعد جب گورنر ہاؤس پہنچے تو انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ میز کی دراز سے بھارتی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے معاہدہ کا مسودہ نکالا اور نہایت توجہ سے اس کا مطالعہ کرنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت پہلے ہی ہتھیار ڈالنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اور اس کے لئے بھارتی حکومت سے خفیہ خط و کتابت بھی کررہے تھے۔
۔
16 دسمبر
۔
ساڑھے چار بجے سہہ پہر کا وقت تھا۔ ریس کورس میدان میں ہر طرف انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔ ڈھاکا میں موجود آٹھ ہزار پاکستانی سپاہیوں اور افسروں سے ان کے ہتھیار رکھوائے جارہے تھے ۔ ان کے شانوں پر سے ان کے عہدوں کے نشانات نوچ نوچ کر ہٹائے جارہے تھے۔ بھارتی سپاہی اور مکتی باہنی کے چھاپہ مار ان کو ذلیل و خوار کرتے تھے۔ مارنے کے لئے جھپٹتے تھے ۔
۔
سامنے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کی بلند عمارت تھی ، جس پر دھندلائے ہوئے سرخ سورج کی میلی دھوپ میں پاکستانی پرچم سرنگوں ہوکر نیچے اتر رہا تھا اور بنگلہ دیش کا پرچم بلندی پر جارہا تھا۔
۔
تین ہی روز، صرف تین ہی روز قبل اسی ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کے کوریڈور میں جنرل نیازی نے غیر ملکی صحافیوں کے سامنے سر دھڑ کی بازی لگانے اور اپنی لاش پر سے گزر کر بھارتی فوجوں کے ڈھاکا میں داخل ہونے کے دعوے کئے تھے
۔
انہیں اس وقت کچھ بھی یاد نہ تھا۔ عینی شاہدوں کے مطابق چند ہی گھنٹوں کے بعد جنرل نیازی ، جنرل اروڑا اور دوسرے بھارتی افسران کے ساتھ کھانے کی میز پر مرغ پلاؤ اڑا رہے تھے، اور اپنے مخصوص انداز میں گھٹیا مذاق کررہے تھے۔ فحش لطیفے سنا رہے تھے ، قہقہے لگا رہے تھے۔
۔
ہفت روزہ الفتح 27 فروری تا 5 مارچ 1976 از شوکت صدیقی

13/02/2026

وقت آگیا ہے 🤔 کہ ہمارے بچوں کو "معذوری سے بچاؤ" کے نام پر پلائے جانے والے نامعلوم محلول (پولیو) کو معلوم کیا جائے۔🏴‍☠️👁️‍🗨️🤱
جیفری ایپسٹین بل گیٹس ایلن مسک وہ کردار ہیں جنہیں چھوٹے بچے بچوں میں سیکچول فیلنگز کی شدید تمنا رہی ہے۔
آج تیسری چوتھی جماعت کی بچی گھر روتے ہوئے بولتی ہے۔
امی مجھے بلیڈنگ ہورہی ہے۔
اور ماں شدید ہراساں کیفیت میں اس کے باپ کو بتاتی ہے کہ اپنی چھوٹی معصومہ اب چھوٹی نہیں رہی۔
ہارمونل انزائٹی اس حد تک بڑھ چکی کہ بلکل چھوٹے نظر آنے والے بچے بڑوں سے زیادہ سیکس ٹاپک میں دلچسپی رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔
ایسے میں اگر پولیو👁️‍🗨️ کی فنڈنگ کرنے والے وہ ہوں جنہوں نے پورا ایک جزیرہ قائم کرکہ بچےبچیاں جنسی ظلم سے گزاریں۔ ایک اور دو سال کے بچوں کے پیٹ پھاڑ کر انکی آنتیں کھائ ہیں۔
جنکے شیطانی کرتوت لکھنے کے لئے ایک کروڑ صفحات بھی کم پڑ جائیں اگر ان کرداروں کے سیاہ اعمال لکھنے بیٹھیں۔
اور پھر وہی لوگ دنیا بھر میں 🌎
معصوم بچوں کے حقوق کے علمبردار بن کر سامنے آئیں واہ تو میری ھم وطنوں پھر سوال اٹھانا فرض بن جاتا ہے۔
کیا واقعی آنکھیں بند کر کے ہر ڈونیشن قبول کر لینا دانشمندی ہے؟
کیا بچوں کے جسم تجربہ گاہ ہیں؟
کیا ”خیرات“ کے نام پر آنے والی ہر چیز مقدس ہو جاتی ہے؟
نہیں یہاں سخت، آزاد اور شفاف تحقیق ہونی چاہیے۔
فنڈنگ کے ذرائع، نیت، اجزاء اور اثرات سب کچھ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ جب تک ہر پہلو کی جانچ نہ ہو ایسی کسی بھی ڈونیشن کو قبول کرنا جرم کے برابر غفلت ہے۔
یہ ایک ماں کی الزام نہیں ہے احتساب کا مطالبہ ہے۔ یہ نفرت نہیں، تحقیق کی اپیل ہے اور یہ سازش نہیں، ایک ماں کا خوف ہے۔
پاکستانی عسکری اور سول حکمرانوں کے نام واضح پیغام:
بچوں کی صحت اور مستقبل پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔
غیر ملکی فنڈنگ، نامعلوم محلول اور مشکوک منصوبوں پر فوراً سخت نوٹس لیا جائے۔ ہر ڈونیشن، ہر معاہدہ اور ہر پروگرام کی آزاد، شفاف اور عوامی تحقیق کی جائے۔
یاد دہانی اگر ایک بھی بچے کو نقصان پہنچا، تو یہ غفلت نہیں جرم ہوگا۔
اور یہ جرم ہو بھی رہا ہے آج کی Gen-Z اس کا ثبوت ہے۔

آخری گزارش:🙏
میرے پاکستانیو! یا تو اس پوسٹ کو شیئر کریں یا اسے کاپی کر کے اپنی وال پر لگائیں، تاکہ یہ بات متعلقہ اداروں اور حکمرانوں تک پہنچے۔
براہِ کرم اسے خط، واٹس ایپ یا میسج کے ذریعے اپنے علاقے کے MNA، MPA، DC اور حتیٰ کہ امامِ مسجد تک ضرور پہنچائیں۔ یہ آواز اگر آج نہ اٹھی
تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی جزاک اللّٰه شکریہ ۔

15/11/2025

پاکستانی معیشت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بچے کو کھلونا دیا جائے اور وہ خوشی سے اچھلنے لگے، مگر کھلونا ٹوٹا ہوا ہو۔ عوام ہر بجٹ پر خوشی کے نعرے لگاتے ہیں، جیسے کوئی نئی صبح آنے والی ہو، مگر حقیقت میں وہی پرانی شام ہوتی ہے۔ روپے کی عزت دنیا کی ہر کرنسی کے سامنے ایسے ہے جیسے کلاس کا سب سے کمزور طالب علم، جسے سب استاد کے سامنے بھی چھیڑتے ہیں۔

28/10/2025

‏نواب آف کالا باغ بیمار پڑ گئے اُن کے ذاتی معالج نے پراسٹیٹ کینسر کا خدشہ ظاہر کیا اور کہا اُن کا علاج صرف لندن میں ہی ممکن ھے۔

‏ نواب صاحب لندن جانے پر راضی ھو گئے تو اُن کے معالج نے لندن کے ایک مشہور ماہر سرطان (ڈاکٹر) جو اُن کے استاد بھی تھے سے اپوائنٹمینٹ لی اور نواب صاحب کو لے کر لندن چلے گئے ۔۔

‏مقررہ دن اور وقت پر گورا ڈاکٹر، نواب صاحب کو چیکنگ رُوم میں لے گیا , آدھے گھنٹے کی چیکنگ کے بعد باھر نکلا تو کافی پُرسکون اور مطمئن تھا ۔۔

‏اُس نے بتایا کہ پراسٹیٹ کینسر نہیں ھے میں نے دوا تجویز کر دی ھے , ہدایت کے مطابق ایک ماہ تک استعمال کرتے رہیں آرام آجائے گا، اور مزید مشورے کی ضرورت پڑے تو فون پہ بات کر لینا ۔۔

‏رخصت ہونے سے قبل گورے ڈاکٹر نے نواب صاحب کے ذاتی معالج یعنی اپنے شاگرد کو بازُو سے پکڑا اور ایک طرف لے جا کر اُس سے شکوہ کیا “ مجھے تو تم پر فخر تھا تم میرے بہت قابل شاگرد ہو مگر تم نے تو آج مجھے بہت مایوس کیا، جب صرف ایک اُنگلی مریض کی Re**um میں ڈال کر پتہ چل سکتا تھا کہ اُسے پراسٹیٹ کینسر ہے یا نہیں تو تم اُسے اتنے پیسے خرچ کر کے اتنی دُور میرے پاس لندن کیوں لے کر آئے ؟

‏نواب صاحب کے معالج نے جواب دیا

‏سر جس جگہ آپ نےاُنگلی دی میں اگر پاکستان میں نواب صاحب کو اُس جگہ اُنگلی دیتا اُنہوں نے میرا پورا خاندان مروا دینا تھا سو مجھے مجبوراً اُنہیں اُنگلی دلوانے آپ کے پاس لانا پڑا ۔۔

‏ ( جو پاکستانی سیاست دان لندن علاج کرانے جاتے ھیں ان سے اس تحریر کا کوئی تعلق نہیں )

‏⁧‫

27/10/2025

ایک خبر سائفر کے حوالے سے اسی صاحب کی وائرل کی جا رہی ھے کہ عمران خان نے سائفر لہرانے سے پہلے امریکی سفیرسے اجازت لی تھی مگر اسی انٹرویو میں ہی یہی اہلکار یہ دعویٰ بھی کر رہا ھے کہ مشرف نے ایٹمی اساسوں کا اختیار امریکا کو بیچ دیا تھا۔۔ اب ان پٹواریوں کو کون سمجھائے کہ سائفر سے زیادہ ایٹمی اختیار امریکا کو دینا زیادہ بڑی غداری ھے۔ یاد رھے اسی سال نور خان ائر بیس پہ بھارتی حملوں کے بعد امریکا کا اچانک فعل ھونااور جنگ رکوانااب سمجھ آتا ھے۔ر

Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Askria 2
Multan