Kuch khaas
23/08/2022
غزل
کُنج میں بیٹھا رہوں یوں پَر کھلا
کاشکے ہوتا قفس کا در کھلا
ہم پکاریں، اور کھلے، یوں کون جائے
یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
ہاتھ سے رکھ دی کب ابرو نے کماں
کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا
مُفت کا کس کو بُرا ہے بدرقَہ
رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
سوزِ دل کا کیا کرے بارانِ اشک
آگ بھڑکی، مینہ اگر دم بھر کھلا
نامے کے ساتھ آ گیا پیغامِ مرگ
رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال
پھر مہ و خورشید کا دفتر کھلا
خامے نے [1] پائی طبیعت سے مدد
بادباں بھی، اٹھتے ہی لنگر، کھلا
مدح سے، ممدوح کی دیکھی شکُوہ
یاں عَرَض سے رُتبۂ جوہر کھلا
مہر کانپا، چرخ چکّر کھا گیا
بادشہ کا رائتِ لشکر کھلا
بادشہ کا نام لیتا ہے خطیب
اب عُلوِّ پایۂ مِنبر کھلا
سِکۂ شہ کا ہوا ہے رو شناس
اب عِیارِ آبروئے زر کھلا
شاہ کے آگے دھرا ہے آئنہ
اب مآلِ سعیِ اِسکَندر کھلا
ملک کے وارث کو دیکھا خَلق نے
اب فریبِ طغرل و سنجر کھلا
ہو سکے کیا مدح، ہاں، اک نام ہے
دفترِ مدحِ جہاں داور کھلا
فکر اچھّی پر ستائش نا تمام
عجزِ اعجازِ ستائش گر کھلا
جانتا ہوں، ہے خطِ لوحِ ازل
تم پہ اے خاقانِ نام آور! کھلا
تم کرو صاحب قِرانی، جب تلک
ہے طلسمِ روز و شب کا در کھلا!
1. نسخۂ مہر میں " پائیں" (جویریہ مسعود) مزید: نسخۂ عرشی میں یہ مصرع یوں چھپا ہے: خامے سے پائی طبیعت نے مدد۔ دونوں طرح شعر تقریباً ہم معنی ہی رہتا ہے۔ متن نسخۂ نظامی کے مطابق ہے۔ نسخۂ مہر میں دوسرا مصرع یوں چھپا ہے: بادباں کے اٹھتے ہی لنگر کھلا
یہ صریحاً سہوِ کتابت ہے۔ لنگر اٹھتا، بادبان کھلتا ہے۔ (حامد علی خان)
21/08/2022
👽 واٹس ایپ اسٹیٹس پہ خاندانی لڑائیاں بھی لڑی جاتی ہیں. آئیے ایک فیملی گروپ میں چلتے ہیں جہاں ساس، سسر، نندیں، نندوئی، دیورانیاں، جیٹھانیاں، دیور، جیٹھ اور ڈھیر سارے کزنز ہیں.
صبح صبح جیٹھانی نے اسٹیٹس لگایا:
" آپ بالوں کی بات کرتے ہیں. یہاں تو لوگ بھی دو مونہے ہوتے ہیں"
یہ اسٹیٹس سیدھا لگا نند کے کلیجے پہ. جوابی اسٹیٹس:
" دوسروں پہ انگلی اٹھانے والے بھول جاتے ہیں کہ چار انگلیاں خود ان کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں"
اس دوران ساس صاحبہ نے مولانا طارق جمیل کا ایک وڈیو کلپ لگا دیا جس میں بیویوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے کی بات کی گئی تھی. جسے دونوں بہوؤں نے فوراً لائک کیا. بلکہ بڑے والے دل بھی دیئے.
اتنے میں سب سے سینئر نندوئی نے مفتی طارق مسعود کا ایک وڈیو کلپ شئیر کیا جس میں تیسری شادی کی شدید خواہش ظاہر کی گئی تھی. جسے سسر اور دونوں بیٹوں نے لائک تو کیا مگر دل والے ایموجی دل ہی دل میں بھیجے اور پھر پرائیویٹ بھیجے.
دیورانی کیسے پیچھے رہتیں. انہوں نے لکھا:
" وقت گزر جانے کے بعد کوئی قدر کرے تو اسے قدر نہیں افسوس کہتے ہیں"
ساس صاحبہ کو فوراً اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا. ان کو لگا کہ دامادوں کے بجائے بیٹے اس وڈیو کو سیریس نہ لے لیں تو انہوں نے ثاقب مصطفائی کا ایک وڈیو کلپ فوراً لگایا جس میں ماں کے حقوق کے بارے میں رقت انگیز بیان تھا لیکن دونوں بیٹوں کے بجائے دامادوں کی طرف سے پسندیدگی ظاہر کی گئی.
اس پوری لڑائی کے دوران نوجوان نسل اسی طرح بے خبر اور بے نیاز رہی جیسے اقوام متحدہ تیسری دنیا کے مسائل سے رہتی ہے.
ماشاء اللہ ہمارے لوگوں کا بھی کیا ٹیلنٹ ہے. زکربرگ کو خبر نہ ہوگی کہ اس کے بنائے گئے فیچر سے ہم پوری سٹار پلس سیریز تیار کر سکتے ہیں🙈😂
بشکریہ سید ثمر احمد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Telephone
Website
Address
Multan
59240