Knowledge lower
سروسز ہسپتال میں ہاوس جاب کے دوران میری گائنی کی روٹیشن چل رہی تھی۔ اس رات میری لیبر روم میں ڈیوٹی تھی۔ جن لوگوں کو ٹرشری کیئر گورنمنٹ ہسپتالوں کے لیبر روم قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو ان کو علم ہو گا کتنی افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ مریض بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان کو مینج کرنے کے لیے ڈاکٹرز محدود تعداد میں ہوتے ہیں۔
کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، ذرا بھی نہیں۔
صبح مارننگ میٹنگ ہونا ہوتی ہے جس میں ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بیچ سینئر نے ایک ایک مریض کی تفصیلا کیس ہسٹری اور اپنی مینجمنٹ بیان کرنی ہے۔
کسی ذرا سی بھی غلطی کی صورت میں معافی کی گنجائش نشتہ ۔ ۔ ۔
یہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی۔ ہمارے یونٹ کا ایمرجنسی ڈے تھا۔ ایک پر ایک مریض آئے جا رہے ہیں، کسی ڈاکٹر کو پانی بھی پینے کا ہوش نہیں تھا۔ معمول سے زیادہ رش تھا۔ اتنے میں اچانک لیبر روم کے داخلی دروازے پر شور سا اٹھا۔ اور اگلے ہی لمحے ایک سٹریچر نمودار ہوا جس کو ہسپتال کا عملہ لے کر آ رہا تھا۔
سٹریچر پر خون کا تالاب تھا، اس خون کے تالاب میں ایک عورت پڑی تھی۔ ساتھ ایک اور بدحواس خاتون تھیں۔ مریض کو فٹا فٹ بیڈ پر شفٹ کیا گیا۔
ہسٹری لینے کے لیے میں ساتھ آنے والی خاتون کی طرف متوجہ ہوئی کہ بتلاو تو سہی ، کیا بیتی مریض کے ساتھ، ہوا کیا۔۔۔ !!!
لیکن یہ کیا، وہ تو پٹھان خاتون تھی۔ اردو سے نا بلد۔ ۔
وہ پشتو زبان بولیں ہم اردو۔
ان کو اردو نہیں آتی، ہم میں سے کسی کو بھی پشتو نہیں آتی۔ پندرہ منٹ اس مغز ماری میں بیت گئے۔
جان بچانے کے لیے قیمتی وقت ہاتھ سے سرکتا جا رہا تھا۔ مریضہ بے ہوش تھی۔ مریضہ کو خون روکنے کے لیے ایمرجنسی میں ٹیکے تو لگا دئیے گئے، اب اس کے بعد کیا کریں؟
جب تک پتہ ہی نہیں مریضہ کے ساتھ بیتی کیا، علاج کا اگلا لائحہ عمل کیسے طے ہو۔
مریضہ کے ساتھ والی خاتون کو بمشکل اشاروں سے سمجھایا گیا کہ مریضہ کے شوہر کو یا کسی اور کو بلا دیں جس کو اردو آتی ہو۔ وہ اشاروں میں کچھ بتانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن بالکل اندازہ نہیں ہو پارہا تھا کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔ بچے کی پیدائش ہوئی ہے یا حمل ضائع ہوا ہے ؟ یا کیا بیتی ہے اس غریب بے چاری عورت پر۔ جس کا خون ندی کی طرح بہہ رہا تھا۔ رکنے میں نہیں آ رہا تھا۔
ڈاکٹروں کی پوری ٹیم موجود، لیکن کریں تو کیا کریں، مریضہ کے بلڈ گروپ تک کا نہیں پتہ، خون لگائیں بھی تو کیسے۔
ایمرجنسی میں بلڈ بینک سے او نیگٹو بلڈ کا ایک بیگ ملا جو اسے لگ دیا گیا۔ گرتے ہوئے بلڈ پریشر کو سنبھالا دینے کے لیے ڈرپیں چڑھا دی گئیں۔ ساتھ والی خاتون باہر سے مریضہ کے شوہر صاحب کو بلانے گئی ہوئی تھیں جو ساتھ آئے تو تھے لیکن اب گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح غائب۔
ڈاکٹرز کی ٹیم مریضہ کی جان بچانے کے لیے ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہے، بلڈ بینک والوں کو فون پر فون کیے جا رہے ہیں، ایک کال پر SR صاحبہ بھی پانچ منٹ کے اندر پہنچ آئیں ، نہیں ہیں تو مریضہ کے گھر والے نہیں ہیں۔
بمشکل خدا خدا کر کے آدھے گھنٹے بعد شوہر صاحب تشریف لائے۔ وہ بھی پٹھان تھے ، لیکن یہ شکر ہے ان کو اردو آتی تھی۔ ان سے ہسٹری لینے سے علم ہوا کہ گھر میں دائی کے ہاتھوں بچے کی پیدائش ہوئی تھی، جس کے بعد سے بلیڈنگ ہے کہ رکنے میں نہیں آ رہی۔ اپنی طرف سے بیوی کو ہسپتال میں لا کر اپنا فرض ادا کر دیا تھا، اس ساری مصیبت میں وہ تھک گئے تھے، لہذا چائے پینے تشریف لے گئے۔
ایس آر صاحبہ نے کال پر کیس اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ سے ڈسکس کیا اور ایمرجنسی میں مریضہ کا یوٹرس (بچہ دانی) نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ جس طرح سے خون بہہ رہا تھا، مریضہ کی جان بچانے کے لیے یہ ضروری تھا۔
فٹا فٹ ایمرجنسی میں مریضہ کے ضروری ٹیسٹ کروائے گئے، اتنی دیر میں اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ خود بھی آ گئیں۔ اس وقت رات کے تقریبا دو بجے کا ٹائم تھا اور سخت سردی تھی۔ وہ اپنے گھر سے اتنی دور سے آدھی رات کو صرف ایک قیمتی انسانی جان بچانے کے لیے آئیں۔
آپریشن شروع ہوا، مریضہ کا پیٹ چاک کیا گیا۔ اندر کا منظر بہت بھیانک تھا۔ بچہ دانی بری طرح سے کٹی پھٹی تھی۔ خون بری طرح سے بہہ رہا تھا۔ مریضہ کو دونوں طرف خون کی بوتلیں لگی ہوئی تھیں۔ بمشکل بچہ دانی کو نکالا گیا، لیکن یہ کیا؟
خون پھر بھی نہیں رک رہا تھا۔ مریضہ DIC میں جا رہی تھی۔
آخر کار فیصلہ کیا گیا کہ اندر سے پیکنگ کر کے پیٹ بندکر دیا جائے اور تین دن بعد دوبارہ پیٹ کھول کر پیکنگ ریموو کی جائے۔ پیکنگ کی گئی، پیٹ بند کر دیا گیا، جتنا خون مریضہ کا ضائع ہو چکا تھا اس کو ری پلیس کرنے کے لیے خون کی بوتلیں لگائی جاتی رہیں، مریضہ کو آئی سی یو شفٹ کرا دیا گیا۔ ساتھ ساتھ FFPs ( جو خون جمانے والے خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے) بھی دئیے گئے اور اگلے دن شام کو مریضہ ہوش میں آ گئی۔ یہ ایک معجزہ تھا۔
جس حالت میں مریضہ کو لایا گیا تھا، اس کے بچنے کے کوئی چانسز نہیں تھے۔ لیکن قابل ترین اور مخلص ڈاکٹرز کی کاوش نے یہ معجزہ کر دکھایاتھا۔ اگرچہ مریضہ نڈھال تھی بہت، لیکن زندہ بچ گئی تھی، زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی۔
تین دن بعد دوبارہ پیٹ کھول کر پیکنگ ریموو کی گئی، تب تک اندر سے بلیڈنگ رک گئی تھی۔
چند دن بعد مریضہ جب مکمل صحت یاب ہو گئی تو اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔
مریضہ چھ بچوں کی ماں تھی۔ تمام بچوں کی پیدائش گھر میں ہوئی۔
آخری بچے کی پیدائش کے دوران یہ کامپلیکیشنز ہوئیں کہ بچہ بریچ تھا۔ (جس کو عام زبان میں الٹا بچہ کہتےہیں) ۔ دائی صاحبہ نے گھر پر ہی ڈلیوری کرنے کے چکر میں پتہ نہیں کیا کیا تیکنیس استعمال کیں کہ مریضہ موت کے دہانے پر پہنچ گئی۔
اللہ کی مہربانی اور قابل ترین گائناکالوجسٹس کی ٹیم نے ایک ماں کو مرنے سے بچا لیا۔
مائیں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔ ماوں کو مرنا نہیں چاہیے۔
اس رات لیبر روم میں موجود ڈاکٹرز کی ٹیم نے جو مسلسل بھاگ دوڑ کی، ایک جان بچانے کے لیے، اس کا مریضہ کے گھر والوں کو نہیں علم۔
وہ باہر بیٹھے تھے۔ ان کا کام تھا تو بس اتنا کہ ان کو بلڈ گروپ بتایا گیا اور انہوں نے اس بلڈ گروپ کے دو ڈونرز بلوا دئیے۔ باقی کے بلڈ بیگز بھی ہسپتال کے اندر سے ارینج کیے گئے۔
جب آپ اپنے کسی پیارے کو ایمرجنسی میں ہسپتال میں لے کر جاتے ہیں تو آپ کو علم نہیں ہوتا، اس کی جان بچانے کے لیے کون سے گمنام لوگ اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں، جن کو آپ جانتے نہیں ہوتے لیکن ان کی بس یہی ایک کوشش ہوتی ہے کہ وہ آپ کے پیارے کی جان بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، کر گزریں۔
سب سے بڑی بات، بچے کی پیدائش گھر میں کروانے سے ہمیشہ گریز کریں۔
ڈاکٹر فرخ فاطمہ اشرف۔
.
مجھے لگتا ہے....
انسان کو اپنی بھاگتی دوڑتی زندگی میں ایک دو ایسے لوگوں کا ساتھ ضرور رکھنا چاہیئے...
جو اچانک اسے سرسری سا ہلا کر پوچھ سکیں...
دوست...
ایمان کے کیا حالات ہیں؟
نمازوں میں کوتاہی تو نہیں ہو رہی؟
اور انسان انہیں کھل کر بتا سکے.
ہاں... ہورہی ہے.
اور وہ
جواباً تھوڑی سی موٹیویشن دے دیں.
ہمت کر.... جنت میں ساتھ نہیں جانا کیا.
اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے ایسے نیک لوگوں کا ساتھ دے. آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.