Entertainment Asi
20/08/2024
*بچیوں کو محفوظ کریں!*
1: اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں۔ بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان، بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی۔
2: جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں، خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو۔ اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں۔
3: بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں، بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں۔ گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں۔
4: بچیوں کو چھوٹے بچوں، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں اور نہ ہی پیشاب وغیرہ کروائیں، حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں۔ بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہئیں۔
5: بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں۔ سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں۔ میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں، پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں۔
6: بالغ لڑکیوں کو یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں۔ اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔
7: بچیاں ہوں یا بچے، ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد، نہ کوئی بڑا انکل، نہ ہی قریبی رشتے دار۔ اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا، گود میں بٹھانا، گدگدی کرنا وغیرہ یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں!
8: بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہئیں۔ بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں۔ بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھ ہونا بالکل غلط ہے، بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے۔
9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے، قریب سے آئے یا دور سے،،
جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں گی۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا۔ اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ۔
10: بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں۔ دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے۔ اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں۔ بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی، اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے، تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے۔
یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں۔ یہ پاکستان ہے یہاں سب سے زیادہ فحش ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں، اور اب تو فحش نگاری کے باقاعدہ مصنفین موجود ہیں جو محرم رشتوں کے آپسی جنسی تعلقات سے متعلق گندی کہانیاں لکھ رہے ہیں اور ویڈیوز بنا رہے ہیں، اور پاکستان کے لوگ سب سے زیادہ ایسی ویڈیوز اور کہانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے یہاں کے لوگ آہستہ آہستہ بھیڑیے بنتے جا رہے ہیں۔ اپنی بچیاں خود بچالیں،
ورنہ یاد رکھیں کسی کو آپ کی بچیوں پر ہونے والی زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ان کی لاش گٹر میں ملے، ندی نالوں میں ملے یا کسی ویرانے میں ملے تو یہ صرف اخبار کی ایک خبر ہے، یا ٹی وی کی نیوز!
انصاف وغیرہ کو بھول جائیں! وہ یہاں نہیں ملتا۔ اس لیے بہتر ہے کہ خود ہی احتیاط کریں!
゚
اسلام علیکم ، یہ کہانی نہیں میرا وہ گناہ ہے جس کا ازالہ میں کبھی نہیں کر سکوں گا 🙂
مجھے یاد نہیں کہ میں نے فیس بک کب استعمال کرنی شروع کی اور کس نے مجھے فیس بک کے بارے میں بتایا، خیر 2011 کا سال تھا جب میں نے اپنی فیس بک آئ ڈی بنائی شروع میں میں نے اسے کبھی سیریس نہی لیا مگر آہستہ آہستہ اس میں دلچسپی لینے لگ گیا۔
مجھے اندازہ ہونے لگا کہ یہاں تو آپ کچھ بھی بن سکتے ہیں آپ ہر وہ شخصیت بن سکتے ہیں جو آپ اصلی زندگی میں بننا چاہتے ہیں آپ سمارٹ بن سکتے ہیں خوب صورت بن سکتے ہیں امیر بن سکتے ہیں زہین بن سکتے ہیں جو آج کل 18 سے 25 سال کا ہر لڑکا بننا چاہتا ہے۔
بس اسی خواہش نے مجھے بھی مجبور کیا اور میں نے سال 2011 میں ہی اپنی ایک فیک(نقلی) آئ ڈی بنا لی اور اس نقلی آئ ڈی پر میرا نام نقلی تھا میری تصویر نقلی تھی میری تعلیم نقلی تھی میرا نام سٹائلش تھا میری تصویر خوبصورت تھی میری تعلیم اچھی تھی۔
اور یہ سب کچھ کرنے کی وجہ صرف اور صرف سب کو خاص کر کہ لڑکیوں کو امپرس کرنا تھی میں نے پوسٹنگ کرنا شروع کی اور میرے دوست بننا شروع ہوے اور میرا فیس بک کو استعمال کرنے کا جنون اور زیادہ بڑھنے لگا۔لڑکیاں میری آئ ڈی میں ایڈ ہونا شروع ہوئیں مجھے گروپس میں ایڈ کیا جانے لگا اور یہں سے مکافات عمل کی پہیلی کا آغاز ہونا شروع ہوا ۔
گروپس کو جوائن کرنے کے بعد میری فرینڈز لسٹ میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور ہوتا بھی کیوں نہ میری اس اپنی بنائی دنیا میں میں ایک ایسا لڑکا تھا جو امیر ہے خوب صورت ہے زہین ہے شرارتی ہے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا ک کب میری بات چیت لڑکیوں سے ہونا شروع ہو گئ بہت سی لڑکیاں میری دوست بنی اور بنا کسی تحقیق کہ میری اس نقلی دنیا کو اصلی سمجھنے لگ گئیں ۔
فیس بک پر میری پہلی گرل فرینڈ بنی اور مجھے بنا دیکھے بنا کسی تحقیق کے مجھ پر بھروسہ کرنے لگ گئی 2011 میں سمارٹ فونز اتنے عام نہیں تھے ک کسی کو بھی وٹس ایپ یا وڈیو کال کر لو بس ایس ایم ایس یا فیس بک یا آڈیو کال۔
وہ میری 2 یا 2 سال سے کچھ عرصہ زیادہ تک میری گرل فرینڈ رہی اور اس دوران میں اس سے اس حد تک بیزار ہو چکا تھا کہ میں نے اسی 2 سال کے عرصہ میں 2 گرل فرینڈز اور بنا لی اور بل آخر میں اس کی سب امیدوں سب خواہشات کا قتل یہ کہ کر کیا کہ ہماری شادی نہیں ہو گی گھر والے نہیں مان رہے ۔ اور اسی طرح سے باقی دونوں کے ساتھ کیا۔
اس بات کا اندازہ کیے بغیر کہ یہ گناہ ہے۔ خیر ان سب تینوں لڑکیوں نے اپنی ہر وہ کوشش کی جو ان سے کی جا سکتی تھی مجھ سے شادی کرنے کے لیے اور میں نے بھی اپنی ہر کوشش کی جان چھڑانے کے لیے اور آخر میں کامیاب ہو گیا ان کے جزبات احساسات خوابوں اور خواہشوں کا قتل کرنے میں۔
اور ایک بار پھر سے ایک گرل فرینڈ بنا لی میں اپنی ہر گرل فرینڈ کو الگ الگ مختلف لڑکوں کی تصویر بھیجتا تھا ایسا نہیں کہ میں خود کو اتنا ہینڈ سم نہیں سمجھتا تھا بس اس لیے کہ مجھ میں اپنی اصلی دنیا کو سامنے لانے کی ہمت نہیں تھی۔
اور لڑکیاں اس حد تک مجھ پر بھروسہ کر لیتی تھی کہ نیوڈز یا سمی نیوڈز تصاویر بھی بھیج دیتی تھیں۔ خیر اس گرل فرینڈ کے ساتھ بھی میں سریس نہیں تھا پر کچھ عرصہ بعد وہ بھی سیریس نہی رہی خدا جانے وجہ کیا تھی پر وہ خود ہی مجھ سے بات کرنا چھوڑ گئی اور میں بھی یہی چاہتا تھا۔
پھر میری اس نقلی سی دنیا میں ایک ایسی لڑکی آئی کہ جس کے وسیلے سے مجھے میرے اس گناہ کا احساس ہونا شروع ہوا یہ آخری لڑکی تھی جس سے میری اپنی اس نقلی آئی ڈی پر بات چیت ہوئی ۔
سال 2012 کے آخر پر اس لڑکی سے جان پہچان ہوئی کسی گروپ میں اور آہستہ آہستہ دوستی ہو گئی وہ لڑکی مجھ سے 2 سال بڑی تھی اور بینک میں کام کرتی تھی خوب صورت سادہ مزاج تھی اسے پہلے میری طرح کے کسی نے دھوکا دیا ہوا تھا فرق بس اتنا تھا ک اس لڑکی کی دوستی اس لڑکے سے یو فون کی کسی سروس کے زریعے سے ہوئی تھی اس سروس پر آپ اجنبی لوگوں سے بات کرتے اور دوست بناتے تھے خیر اس لڑکے نے 2 سال اس کے ساتھ رلیشن رکھا اس دوران دونوں بہت بار ملے بھی مگر اس لڑکے نے اسے میرے بہانوں جیسا بہانہ دے کر اسے چھوڑ دیا۔
یہ لڑکی اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرتی تھی ہم بہت اچھے دوست بن گئے تھے ہم ان لائن 8 بال پول نام کی ایک گیم کھیلتے رہتے تھے ایک دوسرے سے ہسی مزاق کرتے رہتے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہم بہت اچھے دوست بن گئے تھے بنا ایک دوسرے کو دیکھے بنا ملے۔
پھر آہستہ آہستہ وہ مجھے پسند کرنے لگ گئی اور ایک دن اس نے مجھے اپنی تصویر بھیج دی اور چاہتی تھی کہ میں بھی اپنی تصویر بھیجوں۔ میں نے ہر بار کی طرح اسے کسی اور کی تصویر بھیج دی اور ہر بار اسے اسی انسان کی تصویریں بھیجنے لگ گیا جس کو میں جانتا بھی نہیں تھا بس کسی فیس بک ڈی پی پیج سے اس کی پروفائل نکالی تھی۔
سال 2013 کے آخر پر اس لڑکی نے مجھے اپنی خواہش بتائی کہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے اور میں بھی اس بات پر خوش ہوا مگر مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ وہ مجھے نہیں جانتی کسی بہروپیے کو جانتی ہے جو میں نہیں ہوں۔
اس لیے میں اسے اسی وقت کہ دیا کہ یہ ممکن نہیں اور بہت بہانے بھی دیے کہ میرے گھر والوں نے میرے لیے کوئی ڈھونڈ رکھی ہے۔
لیکن وہ زد پر تھی اور میں نےبھی اس کی اس زد کا فائدہ اٹھاتے ہوے کہ دیا کہ ٹھیک ہے ہم کوشش کریں گے باقی جو قسمت۔ اور یہ سلسلہ شروع ہو گیا، ہم بہت اچھے دوست بھی تھے اس لیے میں نے کبھی بھی اس سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی تصویر نہیں مانگی جبکہ وہ مجھے کبھی کبھی اپنی ایک سادہ سی تصویر بھیجا کرتی تھی جب کبھی کسی شادی یا فنکشن پر جاتی، اس کی عمر مجھ سے 2 سال زیادہ تھی اور لڑکیوں کے رشتے بھی جلدی آتے ہیں تو وہ مجھے بتایا کرتی تھی کہ اس کے لیے رشتہ آیا تھا اس نے انکار کر دیا۔ مجھے اس لڑکی کی عادت سی ہو گئی تھی میں بس اتنا چاہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسے ہی رہے یہ جانتے ہوے بھی کہ یہ میں غلط کر رہا ہوں۔
وقت گزرتا رہا اور وہ کسی نہ کسی طرح اپنے لیے آئے ہوے رشتوں کو منع کرتی رہی اور آخر کار اس نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ باہر کے ایک
Copy
ملازم: سر آج میرا موڈ اچھا نہیں آج میں
آفس نہیں آوں گا۔😌😌
باس: جب میرا موڈ آف ہوتا ہے تو میں اپنی
بیوی کو دیکھتا ہوں جس سے میرا موڈ ٹھیک
ہو جاتا ہے۔تم بھی ایسا کرو۔
دو گھنٹے بعد ملازم بولا:
سر میرا موڈ ٹھیک ہو گیا،
آپ کی بیوی
تو
واقعی کمال ہے 😉😅😅
05/02/2024
Hacker Movies💻🛜
- Blackhat
- The Matrix Reloaded
- Who Am I
- The Net
- Nerve
- WarGames
- The Takeover
- M:I-4
- The Throwaways
- Tron:Legacy
- The Girl in the Spider's Web
- Snowden
- Independence Day
- Criminal
- Cam
- Hackers
- The Fate of the Furious
- Hot Seat
- Anon
- Eagle Eye
- Johnny English Strikes Again
- Sneakers
- Ghost in the Shell
- Live Free or Die Hard
- Skyfall
- Trancendence
- Undersiege:Dark Territory
- Mercury Rising
- Catch Me if You Can
- Minority Report
- The Zero Theorem
- The Italian Job
- Inception
- The Great Hack
- Terminator:Judgement Day
- 21
- Ocean's 8
- The Imitation Game
- Entrapment
- The Thirteen Floor
- The Social Network
- Real Genius
- Disclosure
- Citizenfour
- The Social Dilemma
13/01/2024
ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔
سیو مارٹ سٹور سے 22431 بائیس ہزار چار سو اکتیس روپے کا راشن سامان لیا۔
ٹوٹل سامان میں سے انہوں نے کل ملا کے 221 دو سو اکیس روپے کا ڈسکاؤنٹ دیا۔
جب کہ ٹیکس کی مد میں 2194 اکیس سو چورانوے روپے وصول کئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سے سامان لینے کا کیا فائدہ ہوا۔
ہم لوگ ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور سے سامان لینے اس لئے جاتے ہیں کہ عام بازار سے سستا ملے گا اور معیاری ہوگا۔
مگر اس طرح ان ڈیپارٹمنٹل سٹور سے سامان لینے کا سراسر نقصان ہے کہ سامان پر منافع بھی لیتے ہیں اور ٹیکس بھی کسٹمر سے وصول کرتے ہیں۔
سیو مارٹ، امتیاز سٹور، گیلانی مارٹ، اٹالین مال، پنجاب کیش اینڈ کیری، مدینہ کیش اینڈ کیری وغیرہ اور ان جیسے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور بڑے ہوٹلز ریسٹورینٹ اپنا منافع بھی لیتے ہیں اور ٹیکس کی رقم بھی کسٹمرز سے لیتے ہیں۔
آپ چاہے ہزاروں روپے کا سامان لیں مگر ان کی ایڈورٹائزمنٹ والا بیگ لینا ضروری ہے یہ ایک الگ بدمعاشی ہے۔
ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا یہ کیا قاعدہ کلیہ بنتا ہے مثلاً ہر چیز پر ان کا ڈسکاؤنٹ دو چار روپے ہی ہوتا ہے مگر دوسری طرف سے ٹیکس لگا کر ڈسکاؤنٹ سے کہیں زیادہ نکال لیتے ہیں۔
اصولاً ٹیکس مالک کو ادا کرنا ہوتا ہے کیوں کہ وہ بزنس میں سے اپنا منافع وصول کرتا ہے لیکن یہاں ٹیکس کسٹمر سے نکالا جاتا ہے سارا نظام ہی کرپٹ ہے اور ہر بڑے مگرمچھ کے گناہوں اور عیاشیوں کا بوجھ عام عوام پر ہی لادا جاتا ہے۔
ہم جب ہر پروڈکٹ کا ٹیکس پہلے ہی ادا کر لیتے ہیں ہر چیز پر سیل ٹیکس لگ کر ہی قیمت لگائی جاتی ہے اور ہم ٹیکس کے بعد ہی رقم ادا کرتے ہیں تو پھر ہہ ڈیپارٹمنٹل سٹورز الگ سے سیل ٹیکس کس بات کا لیتے ہیں آپ کوئی بھی چیز خریدتے ہیں تو اس پر ریٹیل پرائس سے پہلے سیل ٹیکس اور جنرل ٹیکس وغیرہ ڈال کر رقم لکھی ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ہر چیز میں سے جب ریٹیل منافع لیتے ہیں تو پھر سیل ٹیکس یہاں کیوں لے رہے ہیں ہول سیل ڈیلر جب ریٹیل سٹور کو ہر چیز میں سے منافع دیتے ہیں اور ریٹیل سٹور آگے کسٹمرز سے ہر چیز میں جب منافع لے رہے ہیں تو پھر اس سیل ٹیکس کا کیا مقصد ہوا یہ تو سراسر بدمعاشی ہے سمجھ نہیں آتی بندہ کرے تو کیا کرے عام دکان سے سامان لو تو معیاری چیز نہیں ملتی ان بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا رخ کرو تو یہ شاپنگ بیگ سے لے کر ٹیکسس وغیرہ کی مد میں خون نکال لیتے ہیں۔
By ASI Malang
, , , , , , video 😅😂🤣🙏🙏 er mark, , , , , , ,
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
59250