Zafar bablo

Zafar bablo

Share

24/08/2025

دو بھائیوں پہ بہیمانہ تشدّد- ایک جان کی بازی ہار گیا اور دوسرا ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہے-
تفصیلات کے مطابق یہ دونوں بھائی گاؤں رتی پنڈی (ضلع قصور) کے ہیں- دونوں لاہور سے اپنے گھر آ رہے تھے- مبیّنہ طور پر انہوں نے راستے میں رائیونڈ کے ساتھ ایک گاؤں بھمبھ (جائے وقوعہ) سے ایک درجن کیلے خریدے جو 130 روپے کے تھے- ان کے پاس ایک نوٹ سو والا تھا اور باقی 5 5 ہزار والے تھے- فروٹ والے کے پاس پانچ ہزار کا کھلّا نہیں تھا- انہوں فروٹ والے سے کہا کہ ہمارے پاس سو روپے ہیں- یہ لے لو یا اپنے باقی 30 روپے کے کیلے واپس نکال لو- اس بات پر تکرار ہوئی اور فروٹ والا گالیاں دینے لگا- یوں جھگڑا بڑھ گیا اور فروٹ والے نے اپنے دوست کو فون کر دیا کہ یہاں لڑائی ہو گئی ہے- فروٹ والے کے دوست نزدیک ہی کرکٹ کھیل رہے تھے جو سب کے سب اکٹھے ہو کر آ گئے اور بنا تحقیق ان دونوں بھائیوں کو ملکر مارنے لگے- دونوں بھائی شدید زخمی ہوۓ جس پر انہیں قریبی ہسپتال لیجایا گیا- دونوں میں سے چھوٹا بھائی زخموں کی تاب نا لا سکا- اسنے ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ دیا جبکہ بڑا بھائی (جسے آخر میں بیٹ لگا) ابھی تک کومے کی حالت میں ہے-

میں ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس واقعے کی مکمّل تحقیقات کروا کر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں- شکریہ

16/07/2025
16/06/2025

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اور آپ کی دعاؤں سے ۔۔۔۔۔
بغیر کسی بنک سے قرضہ لئے ۔۔۔ اپنی پوری زندگی دن رات محنت ، لگن اور انتھک کوشش کے بعد الحمداللہ آج اس مقام پر پہنچا ہوں ۔۔۔۔

راہ میں کئ رکاوٹیں بھی آئیں ۔۔۔۔
بہت بار ایسا ہوا کہ دل نے کہا اب ہمت نہیں ۔۔۔
لوگ ہنستے تھے کہ تن تنہا یہ سب ممکن نہیں ۔۔۔

کسی کی پرواہ کئے بغیر محض لگن اور ارادے کی پختگی کی بدولت آج بچپن کے ایک دوست نے ون پلس نائن موبائل مجھے گفٹ کردیا اور یہ اسی موبائل سے download کی ہوئی پہلی تصویر ۔۔۔۔ 😋
جزاک اللّہ خیر

27/05/2025

غزہ میں سکول پر اسرائیلی بمباری، 30 فلسطینی شہید
https://ptv.com.pk/ptvnews/urdunewsdetail/7087

26/05/2025

اسرائی- لی ہول-و کاس-ٹ سے زندہ بچ جانے والی بچی!

26 مئی 2025ء

25/05/2025

سیر پر جانا ہے تو پہلے یہ باتیں پلے سے باندھ لیں !
سانحہ سکردو ایک دل دہلا دینے والا حادثہ ہے ۔جس میں گجرات کے چار دوست المناک حادثے کا شکار ہوئے۔۔۔نہ جانے کتنی دیر تکلیف سے گزرنے کے بعد موت کی آغوش میں گئے ہوں گے ۔۔۔اور پھر سات دن تک ان کے اجسام کھلے آسمان تلے پڑے رہے اور کسی کو خبر نہ ہوئی ۔
زندگی کا محافظ رب کریم ہے لیکن حفاظتی اسباب اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ کبھی بھی دوستوں یا فیملی کے ساتھ سیر کرنے جائیں تو یہ باتیں یاد رکھیں ۔
سب سے پہلے تو ڈرائیونگ !
یاد رکھیں شاہراہ ریشم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں ۔۔جبکہ جگلوٹ سکردو روڈ اس سے بھی بڑا عجوبہ ہے ۔۔ایسے بے پناہ راستے اب شمالی علاقہ جات میں جا بجا بن چکے ہیں ۔۔۔گلگت سے چترال سڑک بن رہی ہے ۔۔شمشال کا ٹریک بذات خود ایک عجوبہ ہے ۔۔استور سڑک کا ابتدائی بیس پچیس کلو میٹر کا حصہ شدید خطرناک ہے ۔۔۔یہاں سڑکیں پہاڑوں کے ساتھ گھومتی ہوئ جاتی ہیں ۔۔سڑک خالی ہے تو گاڑی بھگانے کا جی چاہتا ہے ، تب ساٹھ ستر کی سپیڈ پر چلتی گاڑی کے سامنے یک دم سڑک ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔اگر ڈرائیور نے سڑک پر رہنا ہے تو اسے اسی رفتار پر موڑ کاٹنا ہوگا ۔۔۔اور اگر نہ کاٹ سکا تو پھر سینکڑوں فٹ گہری کھائی یا پھر ٹھاٹھیں مارتا دریا اس کا مقدر ہے ۔

مقامی افراد اور ڈرائیور بھی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں لیکن بہت کم ۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سینکڑوں بار ان راہوں پر سفر کیا ہوتا ہے ۔۔ایک ایک کھڈا اور ایک ایک موڑ ان کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے ۔۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار پر کس موڑ سے قابو رکھتے ہوے گاڑی موڑی جاسکتی ہے ۔۔۔مقامی افراد جب بھی حادثہ کا شکار ہونگے اس کی پچانوے فیصد وجہ اوور لوڈنگ یا حدرفتار سے زیادتی ہوگی ۔۔۔
اب تمام بڑے شہروں سے گلگت ،استور ،سکردو وغیرہ کے لیے بس ،کوسٹر اور ویگنیں چلتی ہیں ۔۔مطلوبہ مقام پر پہنچ کر مقامی ڈرائیور اور گاڑی کرایہ پر حاصل کریں اور جہاں جی چاہے وہاں جائیں ۔۔۔مقامی ڈرائیور آپ کا محافظ بھی ہوگا اور گائیڈ بھی ۔۔۔اور آپ کو بالکل کہیں بھی یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ گاڑی خراب ہوگئ تو کیا ہوگا ۔۔۔یہ نئی گاڑیاں ۔۔۔بیسویں صدی کی دلہن کی طرح اکڑ جائیں تو جلدی مانتی بھی نہیں ہیں ۔۔۔کیونکہ ان کی پوری مشین ایک کمپیوٹر سے منسلک ہوتی ہے اور ان کا مستری بھی شمالی علاقہ میں ہر جگہ نہیں ملتا ۔۔۔اور ایسی صورت میں یا گاڑی لاد کر لے جائیں یا پھر خراب حالت میں چلانے کی کوشش کریں جوکہ سیدھا سیدھا موت سے پنگا لینے والی بات ہے ۔۔۔
اگر جیپ کرایہ پر لینا جیب پر بھاری ہو تو قریباً ہر جگہ سواریوں والی جیپیں چلتی ہیں جو آپ کو معاشی استحکام بھی دیتی ہیں اور مقامی افراد اور ان کی اقدار کو سمجھنے کا موقع بھی ۔۔۔
فیری میڈوز کا ٹریک چیخیں نکلوانے والا ٹریک مشہور ہے ۔۔لیکن حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں مقامی افراد کے علاؤہ کسی کو گاڑی لیجانے کی اجازت نہیں ۔۔۔بھلے آپ کے پاس V8 انجن کی حامل جدید گاڑی ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔گذشتہ دنوں جدید ترین فرانسیسی رافیل جہاز کے خاک نشین ہونے کی وجہ بھی طیارے کی خامی نہیں بلکہ اس کو اڑانے والے پائلٹوں کی نااہلی اور مدمقابل کی قابلیت تھی ۔۔۔یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے ۔۔جدید گاڑی نہیں بلکہ قابل ڈرائیور ۔۔۔۔اس بات کو تمام حضرات پلے باندھ لیں ۔۔۔کبھی بھی آپ حضرات ایسے ڈرائیور کے ساتھ سفر نہ کریں جو پہلی دوسری یا تیسری بار ان علاقوں کی جانب جارہا ہو۔۔۔جس کے ہمراہ جارہے ہیں اس سے ضرور پوچھیں ۔۔۔
بھائ پہلے کتنی بار گئے ہو ؟
ٹریول کمپنیوں کی اکثریت بھی ناتجربہ کار ڈرائیور بھرتی کرکے کام چلاتی ہے تاکہ کم زیادہ سے زیادہ رقم بٹوری جاسکے ۔۔۔
تو پہلا اصول یہ سمجھ لیں کہ ڈرائیور چاہے آپ خود ہیں یا کوئ اور انتہائ کہنہ مشق ہونا چاہیے ۔۔۔اور اگر کوئ تیس سال سے گاڑی چلا رہا ہے لیکن ان راہوں سے ناآشنا ہے تو اناڑی ہے ۔۔۔
پھر بھی اگر خود گاڑی چلا کر لیجانا ضروری ہے تو جہاں اتنا خرچ ہوتا ہے وہاں جانے سے پہلے گاڑی کے بریک پیڈز ،کلچ پلیٹ ودیگر ضروری پرزہ جات کی جانچ ضرور کروا لی جائے ۔۔
ضروری معلومات لیتے وقت یہ ضرور معلوم کریں کہ وہاں کون سے نیٹ ورک کے سگنل آتے ہیں ۔۔اس کی سم ساتھ ضرور رکھیں ۔۔اور اگر ایسی جگہ جارہے ہیں جہاں صرف ایس کام چلتا ہے تو وہاں ایس کام یا یو فون کی سم استعمال کریں ۔۔۔
اسی طرح آئ فون اور دیگر ایسے مہنگے فون جن میں سم نہیں چلتی ان کے ساتھ بٹن والا نوکیا کو ضرور رکھیں ۔۔۔سگنل کھینچنے کے معاملہ میں آج بھی نوکیا پہلے نمبر پر ہے ۔
گاڑی چلاتے تصاویر بنانا ،گانے لگانا اور پھر من پسند گانے بدلنا ،سٹیک ،سنیپ ،لائیو وڈیو ،ٹک ٹاک ،واٹس ایپ اسٹیٹس ،فیس بک سٹوری ۔۔۔۔۔یہ سب دور حاضر کے وہ خوفناک جن ہیں جو پلک جھپکتے میں ہمیں کسی گہری آندھی کھائ یا کسی ٹھاٹھیں مارتے مچلتے دریا میں دھکیل سکتے ہیں ۔۔۔ان جنات سے ضرور دوستی رکھیں لیکن گاڑی چلانے کے دوران نہیں ۔۔۔
انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کریں ۔۔جہاں آپ کو اندراج کے لیے روکا جائے وہاں رکیں اور مکمل معلومات فراہم کریں ۔۔۔
بارش یا خراب موسم میں فورا کوشش کریں کسی محفوظ جگہ پر رک جائیں ۔۔کوئ بھی ایسی جگہ جو قدرے کشادہ ہو ۔۔یہاڑ کے دامن میں گاڑی کھڑی کرنے سے گریز کریں ۔۔۔
آجکل بہت سی جگہوں پر نیٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے ۔۔۔اپنی لائیو لوکیشن اپنے کسی قابل بھروسہ آدمی کے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔۔۔یہ بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔۔۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ طویل سفر ،تھکاوٹ اور نیند کا مکمل نہ ہونا بھی ہے ۔۔
سوشل میڈیا پر دکھائ جانیوالی دیگر چیزوں کی طرح سیاحت کا بھی صرف ایک پہلو دکھایا جاتا ہے ۔۔۔پہاڑ ،دریا ،جھیلیں ،جنگل ،برف زار ،سرسبز میدانوں میں گھومتے رنگ برنگی تصاویر ۔۔۔اور پھر سوشل میڈیا جو کہ پچاس فیصد دکھاوے اور حقیقت سے دور جعل سازی وملمع کاری کا ایک دلکش مجموعہ ہے اس سے متاثر ہوکر لوگ دھڑا دھڑ سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔کوشش کریں اپنے قریب ترین مقام کا انتخاب کریں ۔۔۔یقین مانیں ہمارے اردگرد پورے ملک میں بہت خوبصورتی ہے ۔۔۔

ان پہاڑوں پر دل کے قافلے چلا کرتے تھے اور میلوں پیدل چلا کرتے تھے ۔۔۔گاڑیوں کے قافلوں نے جہاں ان کا حسن گہنا دیا ہے وہاں ہمہ وقت سر پر لٹکتی ایک تلوار بھی موجود ہے ۔۔۔نہ جانے کب فون کی گھنٹہ بجے اور کب کیا اطلاع آئے ۔۔۔یا فون ملنا ہی بند ہو جائے ۔۔۔۔
بہت کچھ ہے کہنے کو ۔۔۔۔لیکن شاید میں کہہ نہ پاؤں
اپنی غلطی کو انتظامیہ اور اداروں کے کھاتے ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوا جاسکتا ۔۔۔اداروں میں خامیاں ضرور ہیں ۔۔لیکن ہمیں بھی اپنا احتساب ضرور کرنا چاہیے ۔

تحریر: نوید اشرف خان ( ٹور گائیڈ ۔ شمالی علاقہ جات)

( لوگوں کی کثیر تعداد شمالی علاقوں کا رخ کر رہی ہے ۔۔ سیاحوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اس پوسٹ کو جتنا شئیر کرسکتے ہیں کیجیے ۔۔۔یہ بھی صدقہ جاریہ ہے )

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Mailsi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Trade Center Shop Nmbr 71/72
Mailsi
ZAFARNAWAZ