Pakistan YOUTH Organization

Pakistan YOUTH Organization

Share

14/07/2014

M Shiraz Qadri Hi Aslamu Alikum i am Shiraz Ahmad

13/07/2014

مسلمان کہاں ہیں

جب بھی فلسطین کے بچوں کا خون دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے مسلمان کہاں ہیں، مسلمان کی غیرت کہاں ہے ۔ مجھے کوئی مسلمان کا پتہ بتا دے میں ان کو کہوں کہ فلسطین میں تمھارے بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے ان کو سنبھالو، ان کی بھی حفاظت کرو۔ مسلمانو تم تو سکون سے سو جاتے ہو مگر وہ مسلمان جن پر ظلم کی انتہا کر دی کفار نے وہ تو سوتے بھی اس وقت ہیں جس وقت ان کو ذبح کر کے سلا دیا جاتا ہے۔ کہاں رہتے ہیں مسلمان ذرا بتانا ، صعودیہ، عرب امارات، عمان، مصر، شام، ترکی، پاکستان، بنگلہ دیش ان ممالک میں رہتے ہیں کیا مسلمان؟ اگر ان ممالک میں رہتے ہیں تو مہربانی کر کے ذرا بتانا ان کو کہ بیت المقدس جل رہا ہے، فلسطین جل گیا ہے، ان کو بچا لو، ان کو بچا لو،

اچھا اچھا مسلمان آرام فرما رہے ہیں ان کو جگانا نہیں ہے نیند خراب ہو جائے گی۔ نہیں نہیں مسلمان کمزور ہیں کفار مسلمان کو مار دیں گے ، نہیں ایسا بھی نہیں مسلمان امن کی آشا کھیل رہے ہیں کوئی ان کے گھر کو جلاتا ہے تو جلائے بعد میں بنا لیں گے یہ گھر اپنا، اب محمد بن قاسم کو کہاں سے لائیں ، سلطان صلاح الدین ایوبی کہاں ملیں گے ، کیونکہ اب کے سلطانوں نے اپنی بادشاہت کا خطرہ ہے عوام سے نہیں کفار سے ،اب کے سلطان تو اپنے محل میں آرام فرما ہیں، اب کے سلطان تو مسلمانوں کے دشمنوں کے گھر اپنا ایمان گروی رکھ کر بیٹھے ہیں، کیونکہ اب کے سلطان اللہ سے نہیں امریکہ سے ڈرتے ہیں، کفار سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اب تو کفار ان کے گھروں میں اسلام نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، اچھا آپ کو یقین نہیں آتا تو پاکستان میں طالبان کو دیکھ لیں وہ امریکہ اسرائیل انڈیا سے لڑنے کی بجائے پاکستان سے لڑ رہے ہیں ، داعش کو دیکھ لیں وہ بھی خلافت صرف مسلمانو کے ملک میں ہی کر رہے ہیں، یہ طالبان پاکستان اور داعش کیوں نہیں لڑتے فلسطین میں جا کر اسرائیل کے خلاف ، کیوں کہ وہاں تو جہاد محمدی ہے انہیں وہان رقوم نہیں ملیں گی، یہ تو جہاد کفاری کر رہے ہیں مسلمانوں کے گھر میں کفار کے تعاون سے ،

جب میں یہ کہوں گا کہ مسلمانوں کی غیرت مر چکی ، مسلمانیت مر چکی تو بہت سے مولانا صاحبان فتوے بھی جاری کر دیں گے ۔ لیکن میں نہیں ڈرتا ان کے فتووں سے کیوں کہ کم سے کم مجھ پہ ہی سہی مسلمانیت تو جاگے ۔ مسلمانوں کا خون جو بہا یا جا رہا ہے وہ تو رکے، میں تو جہاد کی بات کروں گا ، میں تو کفار سے لڑنے کی بات کروں گا، جاگو مسلمانو جاگو،

ارے مسلمان کیسے جاگیں گے یہ تو تقسیم ہیں ، فرقوں میں، جماعتوں میں، ملکوں میں، یہ نہیں جاگنے والے ، ان کا کلم حق تو ایک ہے لیکن کلمہ کی بنیاد پہ یہ کیوں ایک ہوں ، ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ مسلمان تو صرف ایک دوسرے کو مرنے مارنے والے ہیں، ایک دوسرے کو یہ گالی گلوچ دینے والے ہیں، فلسطین کے مسلمان مرتے ہیں تو مریں، صعودیہ، بحرین، عرب امارات ، شام ، اردن، عمان،پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان کیوں اپنی جان کو خطرے میں ڈالیں کیوں مریں ، کیونکہ ان کو تو کبھی موت نہیں آئے گی یہ تو ہمیشہ ہی زندہ رہیں گے ،

ارے امن کی آشا جھولی میں لیکر پھرنے والے مسلمان حکمرانوں زرا ہوش کے ناخن لو اس قوم کی سر براہی اللہ نے تمھیں دی ہے مت ڈرو اپنی معاشیات سے ، مت ڈرو تباہ ہونے سے ، کیونکہ مر تو تم چکے، تباہ تو تم ہو چکے ، اب اسلامی زندگی کو اپنے منشور میں داخل کریں، اپنے مسلمانوں کی سربراہی کریں، یہ احتجاج کر کے ہم اپنے ہی ملک میں امن برباد کر دیتے ہیں کوئی عملی کام کریں اب، کوئی عملی کام،

جاگ جاؤ مسلمانو، جاگ جاؤ مسلمانوں،

Photos 11/07/2014

جب بھی خیال مسلمانوں پر ظلم کا آتا ہے دل بہت ہی غمگین ہوتا ہے، پھر یاد آتے ہیں، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، عثمان و غنی رضی اللہ عنہ،علی حیدر رضی اللہ عنہ، حسن و حسین رضوان اللہ علیہ، محمد بن قاسم، سلطان محمد فاتح قسططین،صلاح و الدین ایوبی، محمود غزنوی،قطب الدین ایبک اور تمام مسلم فاتحین یا د آ جاتے ہیں۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں اس وقت کے عام مسلمانوں کو جو اللہ سے ڈرتے تھے، جو اللہ کی مانتے تھے، جو اللہ کے حبیب آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا پیار کرتے تھے، جو موت سے ڈرتے نہیں تھے، جو ایک دوسرے مسلمان کو کافر قرار نہیں دیتے تھے، جن میں کوئی تفرقہ نہیں تھا، جن کی قوم صرف ایک مسلمان تھی، جن کی سرحد ایک اسلامی سلطنت تھی، جو سچ بولا کرتے تھے، جو جھوٹ سے پر ہیز کرتے تھے، جو پانچ وقت کی نماز کے ساتھ تہجد کا قیام بھی کرتے تھے، جو انسا نیت کے درد کو اپنا درد سمجھتے تھے، جو رشوت نہیں لیتے تھے ، جو سود نہیں لیتے تھے، جو کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے ، جو محبت پھیلاتے تھے، جو اپنا بناتے تھے، یاد آ جاتے ہیں وہ لوگ یاد آ جاتے ہیں جن کے لیے اللہ کی مدد آسمان سے آتی تھی،
لیکن آج کیوں ایسا نہیں محسوس کر رہے کہ آسمان سے اللہ کی مدد کیوں نہیں آ رہی، کیونکہ ہم ذاتوں میں تقسیم ھو گئے ، ہم گروہوں میں بٹ کر رہ گئے، ہم پاکستان میں پنجابی، سندھی ، بلوچی، پٹھان، کشمیری بن کر رہ گئے، کبھی ہم نے ایک پاکستانی بننے کی کوشش ہی نہیں کی آج کے دور میں، اور ہم ایک پاکستانی ، افغانی، اماراتی، عمانی،صعودی اور مختلف ممالک کی صورت میں تقسیم ہو کر رہ گئے کبھی سچا مسلمان بننے کی کوشش تک نہیں کرتے ، تو اس لیے میرے خیال کے مطابق مسلمان کفار کے نشانہ پر ہیں، کفار کے لیے مسلمان دہشت گر آج سے نہیں 1400 سال سے ہیں، لیکن مسلمان کے لیے مسلمان دہشت گر اس چودھویں صدی میں بنا ہے، اگر ہم سچے مسلمان ہوتے تو پہلے ہم پاکستان میں صوبوں میں تقسیم نہ ھوتے، اور پھر ہم سرحدوں میں نہ بٹتے،اور پھر جو مسلمانوں پہ ہونے والے جو یہ ظلم کی داستانیں بن رہی ہیں یہ بھی نہ بنتی،نہ چیچنیا پر ظلم ہو نہ فلسطین میں ، نہ عراق میں ، نہ افغان میں ، نہ کشمیر میں ایسا ظلم ھو ، دین اسلام کا آغاز عرب سے ھوا، اور اگر ھم عرب میں جائیں تو ہمیں کتنی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں عرب والے یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن آپ غیر مسلم ممالک میں دیکھیں وہ اپنے ہم مذہب کے لیے ویسا ہی محسوس کرتے ہیں جو وہ اپنے ملک کے رہنے والوں کے لیے محسوس کرتے ہیں۔ یہ تعلیم تو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی تھیں لیکن اپنائی غیروں نے تو اس لیے ہم آج ناکام دکھائی دیتے ہیں،مگر ہم پھر بھی سوچتے نہیں ، سمجھتے نہیں،
مسلمانوں پر اور پاکستان میں امن صرف ایک طریقے سے آ سکتا ہے۔ وہ طریقہ جو ہمیں 1400 قبل ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اس پر عمل کر کے ، سب سے پہلے ہم پاکستانی گروہوں، فرقوں، صوبوں، شہروں کی تقسیم کے تعصب سے نکل کر ایک پاکستانی بنیں، نماز پڑھیں پانچ وقت ، لوگوں پر رحم کریں، ظالم نہ بنیں، ایک دوسرے کا احترام کریں، ہماری عورتیں اپنے سطور کی حفاظت کریں ، ننگی ہونے سےدوری اختیا ر کریں، جو آج کل فیشن کے نام پر ہماری عورتوں میں لباس آگیا ہے اس لباس میں وہ عیاں ھوتی ہیں، عورت کے لیے فیشن ہے لیکن وہ یہ فیشن صرف اپنے مرد کے لیے کر سکتی ہیں دنیا کے لیے نہیں، ہمارے مرد لوگ اپنی نظروں میں حیا پیدا کریں ، یہ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بننے بنانے سے دور رہیں ، اسلامی دائرے میں رہیں، ہمیں حیا آ جائے گی ، ہم امن سے رہیں،ایک دوسرے کی عزت و احترام کریں، تو ہم ایک پاکستانی بن سکتے ہیں اور ہمارے ملک سے جرائم کا خاتمہ بھی ممکن ہے اگر ہم رشوت ، اور سود جیسے مرض سے دور رہیں،
اور مسلمانوں پر ظلم جو ہو رہا ہے وہ بھی ختم ہو سکتا ہے اگر ہم سرحدوں بٹنے کی بجائے ایک مسلمان بن کر رہیں، ہم یہ نا بنیں، پاکستانی ، افغانی، اماراتی، صعودی، فلسطینی، شامی، سوری، مصری ، عراقی وٖغیرہ وغیرہ، جب ہم ایک ہو گئے تو کفار میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ مسلمانوں سے لڑ سکے ، کیونکہ پھر مسلمانوں میں ،غزنوی بھی ہونگے اور ایوبی بھی ، لیکن شرط صرف ایک ہے کہ ہم دنیاوی اختلافات کو بھلا کر ہم آخرت کے خوف سے ، اللہ کے خوف سے اتحاد پیدا کر لیں

ہاں آخر میں میں ایک بات ضرور بتانا چاہوں گا کہ یہ میری اپنی سوچ ہے، کوئی اس سے اختلاف بھی کر سکتا ہے ، اور اختلاف نہیں بھی کر سکتا،

آپ کا دوست آپ کا بھائی
عبدالواجد راؤ

06/07/2014

اسلام علیکم کے بعد ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے میں بالکل ٹھیک ہوں، امید ہے کہ آپ سب بھی بالکل ٹھیک ہونگے، بہت دن ہو گئے آپ کے خط نہیں ملے ، آپ سب کی یاد بہت آ رہی تھی ، سوچا خط لکھ کر حال احوال لے لوں۔ آپ سب سنائیں گھر میں سب کیسے ہیں، اخبارات میں گھر کی خبر پڑھتا ہوں دل خون کے آنسو روتا ہے ، آپ سب تو وہاں پر رہ رہے ہیں، سنتا ہوں کہ آج کل آگ لگی ہوئی ہے ہر طرف ، اور کوئی گھر کے افراد میں سے آگ بجھانے کی کوشش بھی نہیں کر رہے۔ جو کرتے ہیں ان سے پانی کی بالٹی چھین لیتے ہیں، یہ سننے میں آیا ہے کہ بھائی ہی بھائیوں کو مارتے پیٹتے ہیں، اور دوسرا بھائی چھڑاتا بھی نہیں، بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے گھر میں کبھی محبت ہوا کرتی تھی اس نے کہیں اور ڈیرے ڈال لیے ہیں،اس کی جگہ نفرت نے لے لی ہے، یہ سب کیسے ہوا مہربانی کر کے بتانا بھائیو۔ آج کل ہمارے نوجوان گھر کے بڑوں کا احترام بھی نہیں کرے ، سنا ہے ، باقی میری گزارش ہے ہمارے اس سوہنے سے گھر کے سر براہوں سے کہ مہر بانی کر کے گھر میں رہنے والوں پر ظلم نہ کریں کہیں یہ نہ ہو کہ گھر کی بدنامی ہو، گھر میں رہنے والوں کا خیال کریں، آج کل گھر کے لوگوں سے آپ جو ناجائز پیسہ چھین رہے ہیں مہر بانی کرکے ایسا نہ کریں، باقی میری گھر کے تمام لوگوں سے ، بھائیوں، بہنوں، بزرگوں،بچوں سے گزارش ہے کہ اس سوہنے گھر کا نام روشن کریں، جس سوہنے گھر کا نام پاکستان ہے اس کا خیال کریں، ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے پیار کے بیج بوئیں،محبت جو ہم سے روٹھ کر دور جا بسی اس کی منت سماجت کرکے واپس اپنے اس سوہنے گھر پاکستان میں لائیں، ایک دوسرے کا خیال کریں، ایک دوسرے کی عزت کریں، اور ہم سب مل کر اس گھر کو عظیم سے عظیم تر بنائیں، کسی کا دل نہ دکھائیں، اور اپنے اس گھر کے دشمنوں سے اس گھر کو محفوظ بنائیں، اگر یہ گھر نہ رہا تو ہم کہاں رہیں گے۔ گھر کے وہ لوگ جو رابطے کا کام کرتے ہیں، ایک دوسرے تک آگاہی دیتے ہیں، خدارا وہ اپنے گھر کی آگ کو مٹانے میں اپنا کردار ادا کریں، آگاہی دینے والے کافی لوگ دشمن نے خرید لییے ہیں ان سے بھی گھر کو محفوظ کریں، ہم کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس سے جگ ہنسائی ہو اپنے اس سوہنے گھر پاکستان کی ، ایسے کاموں سے بچیں، آج کل تو رمضان کا با برکت مہینہ ہے اس مہینے میں اپنے گھر کے وہ لوگ جو بھوکے ، پیاسے ، مجبور، بے کس ، بے سہارا ہیں ہم ان کا سہارا بنیں، ہم اپنے بالکل قریب کے لوگوں کو دیکھیں تو پورے پاکستان میں تمام لوگوں کو آگاہی دیں کہ اپنے قریب رہنے والے لوگوں کا خیال کریں، ان کی خدمت کریں، ان کا سہارا بنیں، تو پورے پاکستان میں خوشحالی آ جائے گی اور ہمارا سوہنا گھر پاکستان خشحال ہو جائے گا، ہم بری باتوں سے بچیں، گالی گلوچ دینے سے دور رہیں، صرف محبت کی باتیں کریں، تو محبت ہمارے گھر میں آ جائے گی، باقی میرے دوستو، بزرگو، بہنو، بھائیو اپنا خیال رکھیں اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں، اگر کوئی غلطی گستاخی جانے انجانے میں ہو گئی ہو تو مجھے معاف کرنا میر طرف سے اپنا دل صاف کرنا، میری طرف سے میرے تمام سوہنے گھرپاکستان والوں کو سلام،دعا،
فقط
آپ کی دعاؤں کا طالب : عبدالواجد راؤ

Want your business to be the top-listed Furniture Store in Lodhran?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Distic Lodhran
Lodhran
63000