Asad Mukhtar Jootah
22/04/2026
عنوان: ٹوکسک وجود جذباتی دیمک و زوال روح
تحریر ملک اسد جوتہ
انسانی زندگی کے طویل اور کٹھن سفر میں جہاں ہمیں محبت کے ٹھنڈے چشمے میسر آتے ہیں،
وہیں کچھ ایسے تپتے ہوئے صحرا بھی ملتے ہیں جن کی لو انسان کے اندر کے گلستان کو جھلسا کر رکھ دیتی ہے۔
ان صحراؤں کا نام زہریلے لوگ ہے۔
یہ وہ نفوس ہیں جو ہمارے گرد و پیش میں بظاہر رشتوں، دوستیوں اور مصلحتوں کے خوشنما لبادے اوڑھ کر رہتے ہیں،
لیکن ان کی جبلت میں ایک ایسا منفی مادہ چھپا ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے وجود کی بنیادیں کھوکھلی کرنے لگتا ہے۔ ایک ادیب کی نظر میں، زہریلا انسان محض ایک برا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو زندگی کی معصومیت اور سکون کو نگلنے کا ہنر جانتی ہے۔
جب ہم سادہ لفظوں میں بات کرتے ہیں تو زہریلا پن دراصل کسی کی انا کا وہ بے لگام پھیلاؤ ہے جو دوسرے کی ہستی کو مٹانے پر تلا ہوا ہو۔
یہ لوگ آپ کی زندگی میں ایک خاموش دیمک کی طرح داخل ہوتے ہیں۔ آغاز میں یہ آپ کے سب سے بڑے خیر خواہ بن کر سامنے آئیں گے، آپ کی تعریفوں کے پل باندھیں گے اور آپ کو یہ یقین دلائیں گے کہ ان جیسا مخلص تو کوئی ہے ہی نہیں۔ لیکن یہ دراصل وہ جال ہوتا ہے جس میں شکار کو پہلے ذہنی طور پر اسیر کیا جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ ان کی محبت یا توجہ کے عادی ہوتے ہیں، ان کا اصل چہرہ نمودار ہونے لگتا ہے۔ وہ آپ کے اعتماد کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتے ہیں اور پھر شروع ہوتا ہے تنقید اور تضحیک کا وہ سلسلہ جو بظاہر مشورے کی شکل میں ہوتا ہے، مگر اس کی روح میں زہر بھرا ہوتا ہے۔
زہریلے وجود کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ آپ کے سورج کو گرہن لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی کامیابی ملی ہے، آپ نے کوئی نیا سنگِ میل عبور کیا ہے، تو ایک سچا دوست آپ کی خوشی میں نہال ہو جائے گا، مگر ایک زہریلا شخص فورا کوئی ایسی بات کہے گا جس سے آپ کی خوشی ماند پڑ جائے۔ وہ آپ کی محنت کو قسمت کا کھیل کہہ دے گا یا آپ کی کامیابی میں ہزار کیڑے نکال کر آپ کو یہ باور کروا دے گا کہ آپ ابھی بھی ادھورے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی خود اعتمادی کے محل کو ایک ایک اینٹ کر کے گراتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دن آپ آئینے میں کھڑے ہو کر خود سے ہی سوال کرنے لگتے ہیں کہ کیا واقعی میں کسی کام کا ہوں؟
ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلقات ایک دوسرے کی نمو کا نام ہیں، لیکن زہریلے تعلق میں صرف ایک کی انا نمو پاتی ہے اور دوسرے کا سکون قربان ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا سب سے خطرناک حربہ احساسِ جرم ہے۔
وہ اپنی ہر غلطی، اپنی ہر ناکامی اور اپنی ہر تلخی کا ذمہ دار آپ کو ٹھہرائیں گے۔ اگر وہ غصے میں ہیں تو قصور آپ کا ہے، اگر وہ اداس ہیں تو وجہ آپ ہیں، اور اگر وہ زندگی میں ناکام ہیں تو اس کا بوجھ بھی آپ کے کندھوں پر ڈال دیا جائے گا۔ وہ آپ کو اس قدر نفسیاتی طور پر اپاہج کر دیتے ہیں کہ آپ ہر وقت ان سے معافیاں مانگتے نظر آتے ہیں، چاہے غلطی آپ کی ہو ہی نہ۔ یہ ایک ایسا جذباتی قید خانہ ہے جس کی سلاخیں نظر نہیں آتیں مگر ان کی سختی ہڈیوں تک محسوس ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنی زندگیوں کا وسیع تر مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم نے کتنی ہی شامیں ان لوگوں کو مطمئن کرنے کی نذر کر دیں جو کبھی مطمئن ہونے کے لیے بنے ہی نہ تھے۔ ہم نے اپنے قہقہے ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیے، اپنی نیندیں ان کی تلخیوں کی بھینٹ چڑھا دیں، اور بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ صرف ایک گہری تنہائی اور یہ خوف کہ کہیں ہم سے پھر کوئی بھول نہ ہو جائے۔ زہریلے لوگ دراصل وہ شکاری ہیں جو آپ کے سکون کا گوشت کھا کر توانا ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی توانائی کو نچوڑ لیتے ہیں اور جب آپ ایک خالی برتن کی طرح رہ جاتے ہیں، تو وہ بڑی بے رخی سے نیا شکار ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب اور اخلاق ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہم ان زہریلے لوگوں کو برداشت کرتے رہیں؟ ہرگز نہیں۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو اپنی روح پامال کرنے کی اجازت دے دیں۔ انسانی جان اور انسانی وقار کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ جس طرح ایک باغبان اپنے چمن کی حفاظت کے لیے زہریلی جھاڑیوں کو کاٹ پھینکتا ہے، اسی طرح ایک انسان کو اپنے ذہنی سکون کے لیے اپنی زندگی سے ان لوگوں کا اخراج کرنا پڑتا ہے جو اس کے اندر کی ہریالی کو چاٹ رہے ہوں۔ یہ بدتمیزی نہیں، یہ خود ترحمی نہیں، بلکہ یہ اپنی ذات کا تحفظ ہے۔
تحریر کا خلاصہ یہی ہے کہ رشتہ وہ ہے جو آپ کو زندگی کی طرف رغبت دلائے، جو آپ کو اپنے آپ سے محبت کرنا سکھائے، جو آپ کی خامیوں کو ڈھانپے اور آپ کی خوبیوں کو جلا بخشے۔ جو تعلق آپ کو سسکنے پر مجبور کر دے، جو آپ کی آنکھوں میں نمی اور دل میں بوجھ بھر دے، وہ رشتہ نہیں بلکہ ایک بوجھ ہے جسے اتار پھینکنا ہی دانش مندی ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے، اتنی مختصر کہ اسے کسی زہریلے انسان کی انا کی بھٹی میں نہیں جلایا جا سکتا۔ اپنے گرد بلند دیواریں کھڑی کیجیے، اپنی حدیں مقرر کیجیے اور ان لوگوں کو الوداع کہنے کا حوصلہ پیدا کیجیے جو آپ کی قدر نہیں جانتے۔ یاد رکھیے، کٹی ہوئی پتنگ کو جانے دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ اگر آپ اسے تھامے رکھنے کی ضد کریں گے تو اس کی تیز ڈور آپ کے اپنے ہاتھوں کو لہولہان کر دے گی۔ سکون وہ مہنگا سودا ہے جسے کسی بھی سستے انسان کے لیے قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔
29/01/2026
تعلیم، سیاست اور شعور کا سنگم
ایک فکری مطالعہ
تعلیمی ادارے کی فضائیں جب تک کتابوں کی خوشبو اور علمی مکالمے کی تپش سے مہکتی رہتی ہیں، قوم کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ مقدس ایوان ہیں جہاں انسانیت کی معراج کا سفر شروع ہوتا ہے، مگر جیسے ہی ان ایوانوں میں سیاست کا لفظ گونجتا ہے، ذہنوں میں خدشات اور سوالات کے طوفان اٹھنے لگتے ہیں۔ ایک لکھاری کی حیثیت سے جب میں اس منظرنامے کا گہرا مشاہدہ کرتا ہوں تو مجھے سیاست اور طالب علم کا رشتہ ایک ایسی دو دھاری تلوار کی مانند نظر آتا ہے جو شعور کی جلا بھی کر سکتی ہے اور زندگی کی امنگوں کا لہو بھی۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ سیاست محض اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی دوڑ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے عہد کے سماجی، معاشی اور نظریاتی مسائل کو سمجھنے کا دوسرا نام ہے۔ اگر ایک طالب علم خود کو محض نصابی کتابوں تک محدود کر لے اور اپنے گرد و پیش کی بدلتی ہوئی سیاسی رتوں سے بے خبر رہے، تو وہ ایک ڈگری یافتہ فرد تو بن سکتا ہے مگر ایک حساس اور بیدار مغز شہری کہلانے کا حقدار نہیں ٹھہرتا۔ علم وہی ہے جو انسان کو گرد و پیش سے باخبر رکھے اور اسے حق کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ عطا کرے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم کی جڑوں میں آمریت کا زہر اترا یا ناانصافی نے ڈیرے ڈالے، تو یہ طلبہ ہی تھے جنہوں نے اپنے لہو سے چراغِ سحر روشن کیا۔ تحریکِ پاکستان کے ہراول دستے سے لے کر دنیا کی عظیم انقلابی تحریکوں تک، نوجوانوں کا سیاسی شعور ہی وہ ایندھن ثابت ہوا جس نے تبدیلی کی مشعل کو جلائے رکھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی طلبہ کی طاقت کو پہچانا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نوجوانوں کا جذبہ اگر درست سمت میں مڑ جائے تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہاں ایک نہایت باریک اور نازک لکیر کھینچنا لازم ہے۔ سیاست اگر فکر کی آبیاری کرے، اگر یہ نوجوانوں کو دلیل سے بات کرنا، اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اور ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنا سکھائے، تو یہ ان کے کردار کی تعمیر کرتی ہے۔ سیاست کا اصل مقصد تو انسان کے اندر وہ ملکہ پیدا کرنا ہے جس سے وہ خیر اور شر کے درمیان تمیز کر سکے اور معاشرے کی فلاح کے لیے اپنا حصہ ڈال سکے۔
المیہ تب جنم لیتا ہے جب سیاست کے نام پر ان معصوم ذہنوں کو نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ جب تعلیمی ادارے سیاسی جماعتوں کی تجربہ گاہیں بن جاتے ہیں اور قلم کی جگہ جذباتیت اور تشدد لے لیتی ہے، تو علم کا سفر وہیں رک جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیاسی لیڈر اپنے مفادات کی خاطر طلبہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی حرج ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرے میں تقسیم اور تعصب کا بیج بھی بو دیتے ہیں۔ ایک طالب علم کے لیے سب سے بڑی سیاست یہ ہے کہ وہ پہلے خود کو علم کے زیور سے آراستہ کرے، کیونکہ وہ علم ہی ہے جو اسے حق اور باطل کے درمیان تمیز سکھاتا ہے۔ اسے ملکی حالات پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اسے پارلیمان کے فیصلوں پر تعمیری بحث کرنی چاہیے اور اسے ایک فعال شہری کے طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے، مگر اس کا اصل میدان اور اس کی پہلی ترجیح لائبریری اور تجربہ گاہ ہی ہونی چاہیے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جب سیاست تعلیم کے تابع ہوتی ہے تو معاشرے کو بلند پایہ مدبر، دوراندیش سیاستدان اور عظیم دانشور میسر آتے ہیں، لیکن جب تعلیم سیاست کے تابع ہو جائے تو پھر تعصب اور جہالت کے اندھیرے ہمارا مقدر بن جاتے ہیں۔ ہمیں آج ایک ایسے توازن کی ضرورت ہے جہاں طالب علم کے ایک ہاتھ میں کتاب ہو اور دوسرے ہاتھ میں شعور کا پرچم۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کل جب عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھنا ہے، تو اسے کس سمت میں چلنا ہے اور اپنی قوم کی کشتی کو کن بھنوروں سے نکالنا ہے۔ اگر طالب علم اپنی جوانی کے ولولوں کو علم کی روشنی میں ڈھال لے، تو وہ نہ صرف اپنا مستقبل روشن کرے گا بلکہ پوری قوم کے لیے ایک مینارِ نور ثابت ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں قلم کی حرمت بھی سلامت رہے اور شعور کی تپش بھی ماند نہ پڑے۔
~اسد مختار
16/12/2025
Alhamdulilah ❤️
Inshallah 🏆
Click here to claim your Sponsored Listing.