Saif

Saif

Share

06/07/2019

*مطالعہ سے کیا ملتا ہے؟*

۔۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔ *(ڈاکٹر اقبال)*

۔۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ *(امام غزالی)*

۔۔۔ تیل کے لئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہوکر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ *(حکیم ابو نصر فارابی)*

۔۔۔ورزش سے جسم مضبوط ہوتا ہے اور مطالعے کی دماغ کے لئے وہی اہمیت ہے جو ورزش کی جسم کے لئے۔ *(ایڈیسن)*

۔۔۔ مطالعہ سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے۔ *(بیکن)*

۔۔۔مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔
*(سمر سٹ ماہم)*

۔۔۔ تین دن بغیر مطالعہ گزار لینے کے بعد چوتھے روز گفتگو میں پھیکا پن آجاتا ہے۔
*(چینی ضرب المثل)*

۔۔۔انسان قدرتی مناظر اور کتابوں کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ *(سسرو)*

۔۔۔مطالعے کی بدولت ایک طرف تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا اوردوسری طرف تمہاری شخصیت دلچسپ بن جائے گی۔ *(وائٹی)*

۔۔۔دماغ کے لئے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لئے پانی کی۔ *(تلسی داس)*

۔۔۔مطالعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ ’’تولنے‘‘ اور ’’سوچنے‘‘ کی خاطر کرو۔ *(بیکن)*

۔۔۔جس طرح کئی قسم کے بیج کی کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہو جاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور بنادیتا ہے۔ *(ملٹن)*

۔۔۔ جو نوجوان ایمانداری سے کچھ وقت مطالعے میں صرف کرتا ہے، تو اسے اپنے نتائج کے بارے میں بالکل متفکر نہ ہونا چاہئے۔ *( ولیم جیمز)*

۔۔۔ مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب وتدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ *(بیکن)

۔۔۔وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں. *(میکالے)*

۔۔۔مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لئے اوراس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ *(شیلے)*

*۔۔۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ اچھی اور موزوں کتابوں کے مطالعہ نے انسان کے مستقبل کو سنوار دیا*.

06/07/2019

ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ-
ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ‘
ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ‘
ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ‘
ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ‘
ﺟﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ‘
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ‘
ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ‘
ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ‘
ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎؤ‘
ﻣﻔﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ‘
ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ-
ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ‘ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ-
ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ-
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤ‘ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ-
ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ‘
ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ‘ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎؤ ﮔﮯ- ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﮔﮯ‘
ﺳﺎﺩﮬﻮؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ-
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ-

06/07/2019

موسی علیہ سلام کی سرگوشی
موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا اے پروردگار ! تیرا چہرا کدھر ہے؟
شمال یا جنوب کی جانب؟
تاکہ میں اس کی طرف منہ کرکے تیری عبادت کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی:
اے موسیٰ! آپ آ گ جلائیں، پھر اس کے اردگرد چکر لگا کر دیکھیں کہ آگ کا رخ کس جانب ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے آ گ روشن کی اور اس کے اردگرد چکر لگایا، دیکھا تو آ گ کی روشنی ہر چار سو یکساں ہے۔
چنانچہ دربارِ الٰہی میں عرض کیا: پروردگا ! میں نے آگ کا رخ ہر جانب یکساں ہی دیکھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ میری مثال بھی ویسی ہی ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ؛
اے پرودگار! تو سوتا ہے یا نہیں؟
اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی:
اے موسیٰ! پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ لو، پھر میرے سامنے کھڑے رہو اور نیند کی آغوش میں مت جاؤ۔
موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالٰی نے ان پر ہلکی سی اونگھ ڈالی، پیالہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا اور پانی بہہ گیا۔
موسیٰ علیہ السلام کی چیخ نکل گئی اور وہ گھبرا گئے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی ! میں آنکھ کی ایک جھپک بھی سو جاؤں تو یہ آسمان زمین پر دھڑام سے گر پڑے گا جیسے تیرا پیالہ زمین پر گر پڑا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اِشارہ ہے۔۔
۔"یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانون اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائے تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا، وہ حلیم و غفور ہے۔(فاطر۔41)۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے پروردگار ! تو نے مخلوق کی تخلیق کیوں کی جبکہ ان سے تجھے کوئی ضرورت نہیں پڑتی؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں نے ان کی تخلیق اس لیے فرمائی ہے تاکہ یہ مجھے پہچانیں، مجھ سے اپنی مرادیں مانگیں اور میں ان کی مرادیں پوری کروں،اور میری نافرمانی کے بعد مغفرت و بخشش کی درخواست لے کر میری خدمت میں حاضر ہوں اور میں ان کے لیے مغفرت و بخشش کا پروانہ جاری کروں۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا میرے رب ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے جو تیری ہی جستجو میں رہتی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں مومن بندے کا دل جو میرے لیے خالص ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یہ کیسے اے پروردگار؟
اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا:جب مومن بندہ مجھے نہیں بھولتا تو اس کا دل میری یاد سےلبریز رہتا ہے اور میری عظمت اس پر محیط ہوتی ہے اور مجھے جو یاد کرتا ہے میں اس کا ساتھی بن جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔
(کتاب سنہرے اوراق صفحہ نمبر269)

06/07/2019

بچوں کی اچھی یا بری عادت کا ذمہ دار کون؟

بچے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیںبلکہ بچے وہ کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں ۔ عادات وہ روٹین اورمعمول ہیں جو انسان مسلسل سرانجام دیتاہے۔کسی بھی انسان میں 65%عادات بطورِ وراثت کے ملتی ہیں ۔کسی بھی بچے کا مہذب گفتگو ،اچھے آداب ، صحیح ،غلط میں تمیز نافرمانی اورضد ، والدین کی عادات اور معاملاتِ زندگی کا نتیجہ ہے ۔

بقولِ واصف علی واصفؒ:
’’ ذہن پختہ ہوجائیں تو ان میں اصلاح کا امکان کم ہوجاتاہے۔‘‘

اسی لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کوصحیح عادات کے چنائو میں رہنمائی فراہم کریں اور ان کی اصلاح اور تربیت کے لیے احتساب ، بقدرِ ضرورت تنبیہ ،اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی، روشن مستقبل کی دعا نیز اپنے قول وفعل میں موافقت برقرار رکھیں۔تاکہ بچہ صحیح عمر میں مناسب عادات کا چنائو کرکے ایک خوش آئند مستقبل کو ممکن بناسکے۔
کیونکہ والدین کی جانب سے اولاد کے لیے بہترین وراثت ، اچھی عادات کی وراثت ہے اور بہترین عادات ہی روشن مستقبل کی ضامن ہیں ۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lahore