FN Point

FN Point

Share

31/05/2026

بجلی کے بلوں میں ریلیف ختم۔۔! بل پر موجود QR CODE آخر ہے کیا۔۔۔؟؟

30/05/2026

اس سال عیدالاضحیٰ پر قربانیوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سفید پوش طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جو لوگ ہر سال سنتِ ابراہیمی ادا کرتے تھے، ان میں سے بہت سے اس بار معاشی مجبوریوں کے باعث ایسا نہ کر سکے۔

30/05/2026

محرم الحرام کے حوالے سے چنیوٹ پولیس نے سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کر دیا ہے

شہری احتیاط کریں! خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

29/05/2026

پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر بڑی کمی

پٹرول 22 روپے سستا
ڈیزل 22 روپے سستا

29/05/2026

ہم چنیوٹ کو روتے ہیں۔۔! جھمرہ کی حالت اس سے بھی ابتر ہے۔ میونسپل کمیٹی تحصیل جھمرہ کی رکشہ انٹری کی پرچی چیک کریں۔

29/05/2026

علی موسیٰ گیلانی کے عمران خان کو چیلنج پر چنیوٹ کی عوام کی رائے سامنے آگئی

28/05/2026

ڈی جی خان ستھرا پنجاب پروگرام کے ملازمین کی دہائی۔۔"ہم بندے ہیں یا گٹر"

28/05/2026

شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی لٹکتی تاریں سرعام موت بانٹ رہی ہیں لیکن واپڈا ترجمان سالوں سے خاموش۔ کون سنے گا اس لاوارث شہر کی آواز

28/05/2026

گزشتہ رات کے وقوعے پر ہسپتال انتظامیہ کا موقف۔۔"سب کچھ بہترین تھا بس بچی کا وقت آگیا تھا"

28/05/2026

چنیوٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایک دفعہ پھر انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ایک معصوم بچہ جو ابھی دنیا میں آیا ہی تھا، نازک حالت کے باعث ڈاکٹرز نے اُسے فوری طور پر نرسری میں آکسیجن کے ساتھ رکھنے کی ہدایت کی، مگر مبینہ طور پر متعلقہ عملے نے بچہ داخل کرنے سے انکار کر دیا۔ والدین ہاتھ جوڑتے رہے، دہائیاں دیتے رہے، چیختے چلاتے رہے لیکن کسی کو اس ننھی جان پر ترس نہ آیا۔ بالآخر وہ معصوم زندگی کی جنگ ہار گیا۔

سوال یہ ہے کہ آخر اُس معصوم کا قصور کیا تھا؟ کیا صرف یہ کہ وہ ایک ایسے سرکاری نظام میں پیدا ہوا جہاں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں؟ کیا غریب کا بچہ زندہ رہنے کا حق بھی نہیں رکھتا؟ ایک ماں کی گود اُجڑ گئی، ایک باپ کے خواب دفن ہو گئے، مگر افسوس کہ ہمارے ذمہ دار ادارے اور عوامی نمائندے آج بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

چنیوٹ کے عوام اب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر کب تک غفلت، لاپرواہی اور نااہلی کی قیمت معصوم جانیں دیتی رہیں گی؟ اگر یہی صورتحال رہی تو وہ دن دور نہیں جب سرکاری ہسپتال علاج گاہ کم اور غریبوں کے لیے موت کے مراکز زیادہ بن جائیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہو اور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں صحت کی بنیادی سہولیات کو فوری بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود اس طرح ویران نہ ہو۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Lahore