QASIM Rajput The Great Scholar

QASIM Rajput The Great Scholar

Share

13/03/2026

Find the mistake

13/03/2025

"اور تم سمجھتے ہو کہ تم مزاحمت کر رہے ہو، لیکن حقیقت میں تم خود کو بجھا رہے ہو!"

تشریح:
یہ جملہ ایک گہری حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض اوقات ہم کسی چیز کے خلاف لڑنے یا مزاحمت کرنے میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم اپنی ہی توانائی ختم کر رہے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی جدوجہد میں حد سے زیادہ مشغول ہو جاتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ آیا یہ جدوجہد ہمارے لیے فائدہ مند بھی ہے یا نہیں۔

یہ بات زندگی کے مختلف پہلوؤں پر لاگو ہو سکتی ہے، جیسے کہ:

کوئی شخص سخت محنت کر کے خود کو ختم کر رہا ہو، لیکن وہ سمجھتا ہو کہ وہ کامیابی کے قریب ہے۔

کوئی رشتہ، جو زبردستی چلانے کی کوشش کی جا رہی ہو، حالانکہ وہ اندر سے ختم ہو رہا ہو۔

کوئی نظریہ یا عقیدہ، جسے بچانے کے لیے انسان اپنی ہی خوشیوں اور سکون کو قربان کر رہا ہو۔

یہ جملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہماری مزاحمت، ہماری اپنی بربادی کا سبب تو نہیں بن رہی؟

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address

DHA
Lahore
54000