Columns and Editorials

Columns and Editorials

Share

Photos 21/01/2014

Sahafat Bra e Farokhat

29/12/2013

ثقافتی یلغار اور قوموں کا مستقبل؟
کالم نگار | فہمیدہ کوثر

تمام سیاسی مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ثقافتی رشتے سے دوری اور نظریات سے انحراف ایسے واقعات کو جنم دیتا ہے کہ قوموں کی قسمتوں پر یہ واقعات اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہیگل اسی نظریہ کی تائید کرتا ہے کہ جب تک ریاستیں اپنی ثقافتی روایات اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل رہتی ہیں، وہ قوت اور اتحاد کے جذبے سے سرشار رہتی ہیں، معاشرے کا مورال بلند رہتا ہے اور سازشی عناصر کو پنپنے کا موقع نہیں ملتا۔ وہ کتنی ہی ریاستوں کی مثالیں پیش کرتا ہے جنہوں نے تاریخ پر ان مٹ نقوٹ چھوڑے، لیکن اگر اس کے برعکس صورت حال ہو تو ریاستیں انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مشرقی پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے اور ہمارے لئے سیکھنے کے بہت سے مواقع ہیں۔ سازشی عناصر اس بات سے آگاہ تھے کہ دونوں بازوﺅں کے مسلمان عوام کی اسلام سے وابستگی پاکستان کی یک جہتی اور اتحاد کو برقرار رکھے گی۔ چنانچہ یہاں پر دو محاذوں پر کام کیا گیا۔ سب سے پہلے تو ثقافتی رشتے کو کمزور کیا گیا جس کیلئے بنگالی زبان کے مسئلہ کو شدو مد کے ساتھ اٹھایا گیا۔ یہ مسئلہ اس نہج پر جا پہنچا کہ پاکستان اس دن سے آج تک لسانی بحران میں مبتلا ہے۔ اس لسانی بحران نے کبھی بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہونے دیا۔ سازشی عناصر جس میں بھارت سراول تھا، بنگالی زبان کے اندر ہندی سے زیادہ سنسکرت کے الفاظ بھر دیئے، یہاں تک کہ بنگالی زبان کا کسی پاکستانی زبان سے تعلق منقطع ہوگیا۔ مذہبی جذبات کی جگہ علاقائی مفادات نے لے لی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہم ہندوﺅں کی چالوں اور مسلمانوں کے ثقافتی اور مذہبی اقدار کی بیخ کنی کو سمجھنے کا ادراک رکھتے، اقتدار کے حصول کی دوڑ میں ہم بنگالی، پنجابی، ٹھان، بلوچی اور سندھی بن کر رہ گئے۔ قائدؒ نے اپنے خطابات میں فروعی اختلافات کے خاتمے پر زور دیا، لیکن ہمارے ہاں یہ اختلافات اتنی شدت سے ابھر کر سامنے آئے کہ آج بھی ہم ان کی زد میں ہیں۔ ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں کے علاوہ ہندو کی تنگ نظری اور تعصب نے ان مسائل کو ہوا دی اور مشرقی پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں مغربی پاکستان کے لوگوں کیخلاف نفرت کی وہ فضا پیدا کردی کہ آج بھی وہاں پاکستان کے حامی یا متحدہ پاکستان کیلئے آواز اٹھانے والوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا، لیکن دونوں بازوﺅں کے درمیان اسلام کا مضبوط اور مشترکہ رشتہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے مشرقی پاکستان ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح لامذہبوں کی گود میں جاگرا۔ مشرقی پاکستان کے لیڈروں کے سامنے دو راستے تھے، ایک تو یہ کہ ایمانداری سے کام لیتے اور اپنی خامیوں کو درست کرتے۔ تعلیمی اور تکنیکی ادارے قائم کرتے اور ایسا سماجی اور اقتصادی محاذ بناتے جہاں صوبے کے نوجوانوں کو اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ملک کے دوسرے نوجوانوں کے ساتھ مقابلہ کیلئے تیار کرتے۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ سیاسی دباﺅ ڈالا جاتا۔ سیاسی لیڈروں نے اسی راستے کو اپنایا۔ جبکہ مغربی پاکستان میں جمہوری ادار ے تباہ ہوجانے کے بعد انتظامیہ کا محاسبہ کرنیوالا کوئی نہ رہا۔ عوام نے عشرہ ترقی منا کر عوام کے سینوں میں دبی نفرتوں کو بھڑکا دیا۔ اس صورتحال کا فائدہ بھارت نے اٹھایا، وہ نومبر 1971ءکے آخیر تک پاکستان کیخلاف جنگ کی تیاریاں مکمل کر چکا تھا۔ اگر بھارت فوجی مداخلت نہ کرتا تو بنگلہ دیش بننے کیلئے طویل عرصہ درکار ہوتا۔ ہماری ناعاقبت اندیشی تو یہ ہے کہ ہم آج بھی بھارت سے دوستی کے خواہاں ہیں۔ ہم آپکے اختلافات، سیاسی کشمکش اور ملکی انتشار سے ہٹ کر اس طرف توجہ کیوں مبذول نہیں کرتے کہ ہمارے درمیان وہی عناصر پنپ رہے ہیں جو سقوطِ ڈھاکہ کا سبب بنے۔ اس المیہ کے پس پردہ جتنے داخلی و خارجی عناصر کارفرما تھے، ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بنگالی سیکولر نیشنلزم کو بھارتی حکومت کا بھرپور تعاون حاصل تھا

Want your business to be the top-listed Shop in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Wapda Town
Lahore