Muhammad Zahid-1
جب حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو یزید کے دربار میں لایا گیا تو یزید نے یہ آیت پڑھی:
"وتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ "
اور کہا: "دیکھ لو! آج اللہ نے مجھے عزت دی ہے اور تم اس حال میں ہو۔ اللہ نے مجھے اختیار اور حکومت عطا کی ہے جبکہ تم بے بس اور قیدی ہو۔"
حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
"ہوا کا شور بہت ہے، تمہاری آواز ٹھیک طرح سنائی نہیں دے رہی، اگر تم صاحبِ اختیار ہو تو اس ہوا کو روک دو۔"
یزید نے کہا: "یہ میرے اختیار میں نہیں۔"
آپؑ نے فرمایا:
"یہ گھوڑے زمین پر ٹاپیں مار رہے ہیں، ان کو روک دو۔"
یزید نے جواب دیا:
"یہ بھی میرے اختیار میں نہیں۔"
پھر فرمایا:
"اونٹوں کے گلے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، اس شور میں بات سمجھ نہیں آ رہی، انہیں خاموش کرو۔"
یزید نے کہا:
"یہ بھی میرے بس میں نہیں۔"
تب حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا:
"خاموش ہو جاؤ!"
روایت کے مطابق ہوا کا شور تھم گیا، گھوڑے ساکت ہو گئے اور اونٹ بھی ٹھہر گئے۔
آپؑ نے فرمایا:
"یہ ہوتا ہے اختیار! تم آج بھی بے اختیار اور بے بس ہو۔ تم ہماری آزمائش کو اپنی عزت سمجھ بیٹھے ہو۔"
سلام ہو اے دخترِ علیؑ!
سلام ہو اے نواسیِ رسول ﷺ!
آپ کی جرأت، استقامت اور عظمت کو سلام۔
*لوگ مسجد نبویﷺ جیسے مقدس مقام پر بھی جھگڑنے سے باز نہیں آتے، ایک نوجوان نے بزرگ شہری کو دبوچے رکھا، بعد میں گارڈز نے آ کر چھڑایا، بزرگ تو پاکستانی لگ رہے ہیں۔۔!!*
کراچی سہراب گوٹھ میں ماں اور تین بچےچھت سےلٹکے ہوئے پائے گئے افغان فیملی کے ساتھ ہوئے اس ثانیے کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ابھی سندھ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔۔۔۔۔💫✨
ملتان گھنٹہ گھر چوک پر ڈکیتی کی واردات کی ویڈیو وائرل
Click here to claim your Sponsored Listing.