Kitab-e-Mazi
”مگر اِس دِل کی ویرانی“
تمہارا ھاتھ میرے ھاتھ میں ھے
اور اِس کی خوش اَثر حِدّت
مرے اندر طلسمی رنگ پھولوں کی
نئی دُنیا کھلانے میں مگن ھے.
تمہارے لبوں پہ
میرے نام کا تارہ چمکتا ھے
تو میری روح ایسے جگمگا اُٹھتی ھے
جیسے آئینے میں چاند اُتر آئے.
مری پلکوں سے آنسو چُوم کر
تم نے انہیں موتی بنانے کی جو ضد کی ھے
وہ ضد مجھ کو بہت اچھی لگی ھے.
بہت خوش ھُوں !!
کہ میرے سر پہ چادر رکھنے والا ھاتھ
میرے ھاتھ میں پھر آ گیا ھے۔
یہ پھول ، یہ ستارے اور یہ موتی
مجھ کو قسمت سے ملے ھیں
اور اتنے ھیں کہ گنتی میں نہیں آتے۔
مگر ، اِس دِل کی ویرانی
مگر ، اِس دِل کی ویرانی
''
پروین شاکر''
تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو
فکرِ ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ
اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو
نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہمراہ ہے تو
جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو
میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
میں کہ رہتا ہوں بصد ناز گریزاں تجھ سے
تو نہ ہوگا تو بہت یاد کروں گا تجھ کو
جون ایلیا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Lahore
54950