R-writes
25/06/2026
سبحان اللہ
25/06/2026
لوگ تب تک اچھے ہیں جب تک آپ ان کی سن اور مان رہے ہیں!
او تکدا اے بُھل جاندا اے
اگلا بندا رُل جاندا اے !!
#عمیرنجمی #اردو #اردوشاعری #شاعر #شاعری #پاکستان #پنجابی
بارہ سالہ بچے کی خــــود کـــشـــی!؟
یہ دردناک قصہ ہے ایک ایسے عرب ملک کا، جو خلیج کی سب سے مالدار ریاست ہے۔ جس کا نام کویت ہے۔ جہاں ایک خوفناک تماشا جاری ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں اس کا شاید تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
علی خالد ایک 12 سالہ بچہ ہے۔ اس نے اپنے والد سے صرف ایک کھلونا مانگا، جس کی قیمت 12 کویتی دینار تھی۔
مگر باپ کی استطاعت سے باہر۔ وہ یہ کھلونا نہ خرید سکا۔
علی اپنے والد کے پاس گیا، اس کے سر اور ہاتھ چومے اور کہا:
“ابّا، میں جانتا ہوں غربت نے آپ کی کمر توڑ دی ہے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔”
کیا علی مزدوری کرنے چلا گیا؟
نہیں۔
علی ایک حساس بچہ تھا۔
اسے لگا وہ اپنے باپ پر بوجھ ہے۔
اس کے ننھے ذہن کو ایک ہی راستہ نظر آیا…
اس نے اپنی زندگی ختم کر لی تاکہ غریب باپ کا بوجھ ہلکا ہوسکے۔
بارہ سال کا بچہ… اور خودکشی… وہ بھی غربت کی وجہ سے… ہے ناں بڑا عجیب!!
مگر کویت کے ایوانِ اقتدار میں کسی کی پلک نہ جھپکی۔
علی نے یہ صرف اس لیے کیا کیونکہ وہ البدون میں سے تھا۔ البدون وہ عرب لوگ کہلاتے ہیں، جو پچاس، ساٹھ برس سے کویت میں رہ رہے ہیں، جن کے آباء و اجداد جزیرۂ عرب اور اردن کے خانہ بدوش قبائل سے تھے، مگر انہیں آج تک شہریت نہیں دی گئی۔ ریاستِ کویت کے قیام کے وقت یا اس کے بعد مختلف انتظامی وجوہات، قبائلی شناخت کے مسائل، مردم شماری میں عدم اندراج یا دستاویزات کی کمی کے باعث ان کا شناختی کارڈ نہیں بنایا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ عارضی حیثیت مستقل محرومی میں بدل گئی۔
کیوں؟
بس… ایسے ہی۔
کیونکہ ان کا نسب “کویتِ مقدس” کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
بہت سے بدونوں کو شناختی کاغذات تک نہیں ملتے، نہ تعلیم، نہ علاج، نہ باعزت روزگار۔
اور اگر کوئی کام مل بھی جائے تو تنخواہ ڈیڑھ سو دینار سے آگے نہیں بڑھتی۔
علی خالد اکیلا نہیں تھا۔
ایک اور لڑکا بھی ہے، جس کا نام حمد عبید۔ زندگی نے اس کے تمام دروازے بند کر دیئے۔ پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں، بن ہی نہیں سکتا، اس لیے اسکول میں داخلہ نہیں اور اگر داخلہ ہو بھی جائے تو ڈگری نہیں اور اگر ڈگری ہو بھی جائے تو نوکری نہیں۔
یہ جہنم کا ایک ایسا دائرہ ہے، جس میں پیدا ہونا ہی جرم بن جاتا ہے۔
آخرکار حمد نے چوتھی منزل سے کود کر جان دے دی۔
ایک اور نوجوان نے بھی غربت اور مایوسی میں خودکشی کی کوشش کی۔
کویتی حکام نے کیا کیا؟
علاج؟ نوکری؟ نہیں جی… اس کے خلاف مقدمہ بنا دیا کہ اس نے خودکشی کی کوشش کی!
اور سزا…؟
جیل… تاکہ آئندہ خاموشی سے مرنا سیکھ لے۔
اکیسویں صدی میں ایک لاکھ بدون یہ عذاب جھیل رہے ہیں۔
اور ہم سمجھتے تھے یہی المیہ ہے…
مگر اب اس پر مزید ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ جو پکے شہری ہیں، جن کے پاس دستاویز سب موجود… مگر شہریت سے محروم… کویت نے اچانک شہریت چھیننے کی مہم شروع کر دی ہے۔ اب تک 5000 ہزار لوگ شہریت سے محروم ہوچکے ہیں… یہ 5000 لوگ دنیا کے 195 ممالک میں سے کسی ریاست کے شہری نہیں رہے… حد تو یہ ہے کہ ان میں نامی گرامی شخصیات بھی موجود… ڈاکٹر طارق السویدان کے نام کون ناواقف ہوگا؟ مشہور اسلامی مبلغ، مصنف اور ٹی وی شخصیت، جو کویتی شہریت سے محروم کر دیئے گئے… مشہور کویتی فٹ بالر مؤید الحداد… بین الاقوامی فٹ بال ریفری سعد کمیل الفضلی… معروف اداکار عبدالمحسن السہیل اور عبدالرازاق ابراہیم الخلیف… معروف ادیب عبد العزیز السریعی… مشہور گلوکارہ نوال الکویتیہ (جس کی شہرت ہی کویتی ہونے کی تھی) … اداکار اور ٹی وی شخصیت داؤد حسین… سوشل میڈیا انفلوئنسر نہا نبیل اور اپوزیشن لیڈر اور پروفیسر حکیم المطیری وغیرہ بھی اب کسی ملک کے شہری نہیں رہے۔
ذرا سوچیے…
1982 کے ورلڈ کپ میں کویت کے گول کیپر علی الطرابلسي، جس نے کویت کا نام روشن کیا، آج 74 سال کی عمر میں بے وطن کر دیا گیا۔
کویت کے پہلے سرٹیفائیڈ ڈاکٹر یحییٰ الحديدی، جنہوں نے تین نسلوں کے ڈاکٹر تیار کیے… ان سے بھی شہریت چھین لی گئی… بڑھاپے میں اب دربدر… جائیں تو کہاں جائیں…؟ شناخت ختم… پاسپورٹ منسوخ۔
فوج کے افسر ترکی المطیری، جنہوں نے ملک کا دفاع کیا… اچانک غیر کویتی قرار دے دیئے گئے۔
یہاں تک کہ برطانیہ میں کویت کے سابق سفیر بدر العوضی… جو کویت کی نمائندگی کر رہے تھے… پچھلے دنوں صبح اٹھے تو پتا چلا کہ وہ اب کویتی نہیں رہے۔ یعنی کویت کا سفیر بھی کویتی نہیں رہا؟
کویتی ریاست کا مؤقف ہے کہ ماضی میں بڑی تعداد میں شہریت غلط معلومات، جعلی دستاویزات یا غلط بیانی کی بنیاد پر دی گئی تھی۔ بعض افراد نے دوہری شہریت حاصل کی جو کویتی قانون کے خلاف ہے، جبکہ شادی کے ذریعے دی گئی شہریت سے متعلق قانون (آرٹیکل آٹھ) کے غلط استعمال کے شواہد بھی سامنے آئے۔ ان نکات کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے پرانی فائلوں کا ازسرنو جائزہ لیا اور شہریت منسوخی کے فیصلے جاری کیے۔
تاہم ناقدین اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ عمل شفاف نہیں، متاثرہ افراد کو مؤثر اپیل کا حق نہیں دیا جا رہا اور کئی کیسز میں دہائیوں پرانی شہریت اچانک ختم کر دی گئی، جس کے نتیجے میں لوگ مکمل طور پر بے وطن ہوگئے۔
شہریت کی منسوخی کے بعد ہزاروں افراد اچانک بے وطن ہو گئے ہیں۔ پاسپورٹ ختم ہونے کے ساتھ ہی ان کی نقل و حرکت، روزگار، بینکنگ، جائیداد، تعلیم اور علاج سب غیر یقینی ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر متاثرین نے پوری زندگی کویت میں گزاری ہے اور ان کا کسی اور ملک سے کوئی عملی یا قانونی تعلق نہیں۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں فیصلے سے قبل نہ سنا گیا اور نہ واضح وجہ بتائی گئی۔ ان کے مطابق شہریت انہیں کویتی قوانین کے تحت دی گئی تھی، جسے ریاست نے دہائیوں تک تسلیم کیا، اس لیے اس کی اچانک منسوخی کی ذمہ داری بھی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ وہ کسی اور ملک کی شہریت یا سیاسی پناہ نہیں چاہتے، بلکہ اپنے ہی وطن میں باعزت قانونی زندگی کے خواہاں ہیں۔
اگرچہ عدالت سے رجوع کا حق موجود ہے، مگر شہریت کے معاملات میں ریاست کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، جس کے باعث عدالتی راستہ غیر یقینی سمجھا جاتا ہے، جہاں کامیابی کا امکان بہت محدود ہے۔ اب یہ بحران ایک خاموش انسانی المیہ بن چکا ہے، جس کا درد قانونی فائلوں سے زیادہ متاثرہ گھروں اور زندگیوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے ہفتے ایک حاضر سروس فوجی اہلکار کے خاندان کی شہریت اچانک ختم کردی گئی۔ یہ خبر سنتے ہی اس نوجوان کا برین ہیمبرج سے انتقال ہوگیا۔
کویت وہ ملک ہے جسے بطور ریاست وجود میں آئے صرف پینسٹھ سال ہوئے ہیں۔ قاہرہ اور دمشق میں ایسی کئی عمارتیں ہیں جو اس سے زیادہ پرانی ہیں۔
یہ وہ ملک ہے جو مہاجرین کے سہارے کھڑا ہوا، جس کے اسکول مصری اساتذہ نے چلائے، جن کے لیے مصر نے چالیس اور پچاس کی دہائی میں قلم، کاپیاں اور کتابیں بھیجیں۔
یہ وہی کویت ہے جو عراقی قبضے کے وقت دنیا کے سامنے رویا اور اگر پڑوسی ممالک اس کے شہریوں کو پناہ نہ دیتے تو شاید آج نقشے پر بھی نہ ہوتا۔
آج کویت میں امریکیوں کا سب سے بڑا فوجی اڈہ عریفجان موجود ہے۔ کویت ان امریکی فوجیوں کی تفریح کے لیے گلوکار بلاتا ہے، ان کے لیے پانی، بجلی، انفرا اسٹرکچر پر کروڑوں خرچ کرتا ہے۔
لیکن
ایک بچے کے کھلونے کے لیے پیسے نہیں… ایک نوجوان کی تنخواہ کے لیے گنجائش نہیں… اپنے ہی لوگوں کے لیے زمین تنگ ہے۔
وجہ؟
کہتے ہیں شہریت کے کاغذات جعلی تھے۔
نہیں۔
اصل وجہ یہ ہے کہ کویت کی معیشت تیل کے سوا کچھ پیدا نہیں کر سکی اور حکومت چاہتی ہے کہ شہری کم ہوں تاکہ فی کس آمدنی زیادہ نظر آئے۔
یہ اگر کسی ایک لفظ میں بیان ہو سکتا ہے تو وہ ہے: خالص عار۔
سنگین مسائل سے دوچار ان کویتیوں کے حق میں کوئی نہیں بولتا۔ چند ایک انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلکی سی آواز بلند کی ہے۔ باقی ہر سو خامشی۔
تصور کریں کہ کوئی صبح اٹھے اور بے وطن ہو جائے… اور یہ شرم ہے کہ ایک ملک، جس کے پاس دولت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں… وہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل۔ یومیہ تیل پیداوار اوسطاً 26 سے 27 لاکھ بیرل کے درمیان۔ جس کا بڑا حصہ برآمد کیا جاتا ہے۔ ملکی معیشت میں تیل کا حصہ تقریباً 90 فیصد ہے۔ مطلب قدرت کا دیا مفت کا خزانہ بہہ رہا ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) تقریباً 175 ارب امریکی ڈالر۔ قوتِ خرید (PPP) کے لحاظ سے فی کس آمدنی دنیا کے بلند ترین درجوں میں۔ خودمختار سرمایہ کاری فنڈ Kuwait Investment Authority (KIA) دنیا کے سب سے بڑے سرکاری فنڈز میں سے ایک، جس کے مجموعی اثاثے 1000 ارب امریکی ڈالر سے زائد۔ کویتی دینار دنیا کی سب سے قیمتی کرنسی۔
اسی ملک میں ایک بچہ صرف اس لیے خودکشی کر لے کہ وہ اپنے باپ کو غربت کے درد سے بچانا چاہتا تھا۔
کتنی دردناک کہانی ہے؟!
#منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.