Naila Rathore- Poetess
07/03/2026
ماہنامہ بیاض میں شامل میری غزل اور نثری نظم
10/02/2026
ادب لطیف میں شامل نثری نظم اور غزل
28/12/2025
ایسا نہ ہو کہ زندگی میری محال ہو
کچھ تو کرو کہ رابطہ پھر سے بحال ہو
کھویا اسے تو جیسے مکمل ہے پا لیا
لگتا ہے اسکا ہجر بھی جیسے وصال ہو
دیکھا اسے تو دیر تلک دیکھتے رہے
لگتا نہیں تھا اسکو بھی کوئی ملال ہو
سمجھا زمانہ ہم کو نہ سمجھے اسے ہی ہم
الجھا ہوا سا جیسے کوئی اک سوال ہو
کھونے کو کیا تھا پاس کروں جسکا میں ملال
چاہے ملے عروج ،کہ مجھ کو زوال ہو
ہر شخص بدگمان ہے ہر شخص ہے خفا
اتنا بھی چاہتوں کا جہاں میں نہ کال ہو
دل اس کا مستحق تھا کیا اس نے جو کیا
کھلتا نہیں سلوک اگر حسبِ حال ہو
ہم نے تو جیسے تیسے گزارا تھاکر لیا
اللہ کرے ترے لئے اچھا یہ سال ہو
نائلہ راٹھور
تمہارے خواب سے رستہ جدا ہے
دیا تھا زخم جو اب تک ہرا ہے
بھلی لگنے لگی ہے تیری فرقت
کہ تیرے ہجر کا اپنا مزا ہے
زمانہ پوچھتا ہے کون ہو تم
بتاؤ کیا کہیں اب کیا چھپا ہے
زباں بندی میں بھی ہے حشر برپا
وہ چپ رہ کر بھی سب کچھ کہہ گیا ہے
کسی کے واسطے گر کچھ نہیں میں
تو کیوں گھر گھر میں میرا تزکرہ ہے
ترے لہجے میں کیوں ہے زہر اتنا
نجانے کون نفرت بو گیا ہے
اسیران وفا ڈرتے نہیں ہیں
کہ جاں سے پیارا یہ عہد وفا ہے
جلاتا کون ہے یوں گھر کو اپنے
مرا دشمن بھی مجھ پر ہنس رہا ہے
یہ تخت و تاج ہیں اسکی امانت
مرا حاکم فقط میرا خدا ہے
جو پس منظر میں بھی رہ کر عیاں ہوں
مرے ایقان کا ہی یہ صلہ ہے
نائلہ راٹھور
Click here to claim your Sponsored Listing.