Expose World Things

Expose World Things

Share

30/03/2026

جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔
چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔
لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کہاں قیام کریں گے؟"
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: "ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔"
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: "ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔"
اس پر ویت نامی نے کہا:
"ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔"
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
"ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔"
ایک دن جنرل "جیاب" جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے، نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی "انقلابی" تنظیمیں موجود تھیں۔
وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا:
"آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی !"

انہوں نے پوچھا: "کیوں؟"
جنرل جیاب نے جواب دیا:
"کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔
اور جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔

مستند حوالہ جات :
1) Stanley Karnow — Vietnam: A History
اس کتاب میں پیرس امن مذاکرات، ویت نامی قیادت کے اصولی رویّے، سادگی اور امریکی دباؤ کو مسترد کرنے کے واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
2) Vo Nguyen Giap — People’s War, People’s Army
جنرل جیاب کی یہ مستند تصنیف ہے جس میں وہ واضح کرتے ہیں کہ انقلاب کی کامیابی کے لیے اخلاقی دیانت، عوام سے قربت اور سادہ طرزِ زندگی ناگزیر ہے۔
3) Frantz Fanon — The Wretched of the Earth
یہ کتاب انقلابی تحریکوں کے زوال پر گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ جب انقلابی قیادت مراعات اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو جائے تو تحریک اپنی روح کھو دیتی ہے۔

27/03/2026

*اقوام متحدہ میں ایسی کمال تقریر… (اردو ترجمہ کے ساتھ)*
*ایمان افروز موقف…!*
*دل و دماغ روشن کردے…*
*سُبحان اللہ!!*

13/03/2026

🔴 “یہ زمین ہلا دینے والا واقعہ ہے" — بڑا دعویٰ

"یہ جو بارہ دن کی جنگ ہوئی، اس کا مقصد دراصل رجیم چینج تھا، جس میں اسرائیل قیادت کو ختم کر کے فوری نتیجہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ آخر میں امریکہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔ یہ سب ایک طرح کی چال تھی تاکہ جنگ بندی کروائی جا سکے، لیکن ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔ ایران اب اس طرح رکنے والا نہیں۔

دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل نے علی خامنہ ای کو قتل کیا۔ انہوں نے سپریم لیڈر کو قتل کیا۔ لوگوں کو یہ دکھاوا بند کرنا ہوگا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ ایک زمین ہلا دینے والا واقعہ ہے۔

ایرانی عوام شدید غصے میں ہیں۔ وہ اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک انہیں بدلہ نہیں مل جاتا۔ اور یہ بدلہ اسرائیل ریاست اور امریکہ کے خلاف ہوگا جنہوں نے یہ سب کیا۔

یہ معاملہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی برقرار ہے۔ ایران اب اسے ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی تمام فوجی افواج کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کے لیے تیار ہو جائیں تو شاید آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکے اور خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ امن بحال ہو سکے۔

لیکن اگر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی کا حق حاصل ہے — خاص طور پر اس وقت جب اسی فوجی موجودگی کو ایران پر اچانک حملے کے لیے استعمال کیا گیا — تو یہ ایک بے معنی بات ہے۔

اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل اسی طرح موجود رہ سکتا ہے جس طرح وہ ایران کے لیے خطرہ بنتا رہا ہے، تو ایسا نہیں ہوگا۔

اسرائیل نے سپریم لیڈر کو قتل کیا۔ اب ان کے بیٹے کو سپریم لیڈر بنایا گیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بیٹھ کر یہ کہیں گے کہ سب ٹھیک ہے؟ آپ نے میرے والد کو قتل کیا، میری بیٹی کو قتل کیا۔

لوگ اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ چودہ ماہ کی ایک پوتی بھی قتل ہوئی۔ اسرائیل نے قتل کیا۔ اور آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ کہیں گے سب ٹھیک ہے؟

170 اسکول کے بچوں کو امریکہ نے قتل کیا۔ اور آپ توقع کرتے ہیں کہ ایران کہے گا کہ سب ٹھیک ہے؟

انہوں نے ایک تیل کی تنصیب کو تباہ کیا۔ تہران میں تیزابیت والی بارش، آگ، دھواں اور تباہی ہے۔ اور آپ چاہتے ہیں کہ ایرانی کہیں کہ ٹھیک ہے، ماضی کو بھول جائیں؟

نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف وجودی جنگ شروع کی ہے۔ وجودی جنگ کا مطلب ہے ایسی جنگ جس کا مقصد کسی ریاست کو ختم کرنا ہو۔

ایران نے یہ چیلنج قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چلو کھیلتے ہیں۔ وہ اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک انہیں اپنے نتائج نہیں مل جاتے۔

اور ان کے نتائج واضح ہیں:
امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنا ہوگا، اور اسرائیل دوبارہ کبھی ایران کو دھمکی دینے کے قابل نہیں رہے گا۔

بنیامین نیتن یاہو کا ابراہام معاہدوں کا خواب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔

بھارت بھی ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے کہ شاید انڈیا–مشرقِ وسطیٰ–یورپ اقتصادی راہداری بن جائے گی۔ انہوں نے ایک ایرانی جہاز کو ڈوبنے دیا، جو برکس کا رکن تھا۔ بھارت کے لیے بھی یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔

یہ ایک بڑا کھیل ہے۔ ایران نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایران کے پاس برتری ہے۔ وہ جیت رہے ہیں۔ اور وہ جیتیں گے۔

ان کے پاس ایک منصوبہ ہے اور وہ منصوبہ تبدیل نہیں ہوا۔

امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صرف دس دن میں امریکی جنگی منصوبہ پانچ مرتبہ تبدیل کیا ہے۔

اب بتائیں امریکہ کیسے جیت رہا ہے؟
اور بتائیں اسرائیل کیسے جیت رہا ہے؟"

(اسکاٹ رِٹر — سابق امریکی میرین کور انٹیلیجنس افسر، اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ معائنہ کار (UN Weapons Inspector) اور فوجی و جیوپولیٹیکل تجزیہ کار۔)

08/03/2026

تل ابیب پر رات کو گرتے ہوئے ایرانی میزائل

08/03/2026

‏امریکی صحافی ریان گرم کا اہم ٹویٹ۔۔۔
ہندوستان نے ایران کے ایک غیر مسلح بحری جہاز کو امریکی جہازوں کے ساتھ ہندوستانی بحریہ کی مشق کا حصہ بننے کے لیے مدعو کیا اور اس کے ملاحوں نے بھارتی صدر کے سامنے انڈین سرزمین پر پریڈ کی امریکہ نے آخری لمحات میں اس فوجی مشق سے دستبرداری اختیار کی اور ایرانی جہاز پر تارپیڈو سے حملہ کر دیا جہاز ڈوبنے لگ گیا
تہذیب اور جنگ کے تمام اصولوں کو توڑتے ھوئے ہندوستان نے ڈوبتے ھوئے ایرانی فوجیوں کو بچانے سے انکار کر دیا اور اکیلے سری لنکا کی بحریہ کو پانی سے لاشیں نکالنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔۔۔
میرے لئے پوری تاریخ میں کسی دوسری قوم کے بارے میں سوچنا مشکل ھے جو اتنا بزدلانہ اور حقیر کام کرے گی۔۔۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Lahore
Lahore
40050