Rai Nadeem Riaz Advocate

Rai Nadeem Riaz Advocate

Share

06/07/2025

بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!

اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔
لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ "سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں، محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اہم نکات: بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔.

Photos from Rai Nadeem Riaz Advocate's post 27/04/2025

متوفی کی نیم کھلی آنکھیں اور منہ پوسٹ مارٹم کے وقت اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ مقتول کی لاش وقوعہ کے مقام پر غیر دھیان میں پڑی رہی۔ اگر مدعی وقوعہ کے وقت موقع پر موجود ہوتا تو وہ لازمی طور پر اپنے بیٹے کی لاش کی آنکھیں اور منہ بند کر دیتا۔

ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر۔

پوسٹ مارٹم میں تاخیر۔

بد نیتی پر مبنی قید۔

مدعی نے جرم کی رپورٹ میں کسی قدرتی (مثلاً چاندنی) یا مصنوعی (جیسے برقی بلب وغیرہ) روشنی کے موجود ہونے کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کی مدد سے اس نے اندھیرے میں ملزم کو شناخت کیا ہو۔ مدعی کے بیان کے مطابق وقوعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا تھا۔ تفتیشی افسر نے بھی کوئی بلب وغیرہ موقع سے قبضہ میں نہیں لیا اور نہ ہی استغاثہ یہ ثابت کر سکا کہ وقوعہ کے وقت کوئی برقی روشنی موجود تھی۔ اس تناظر میں اندھیرے میں ملزم کی شناخت انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔

علاوہ ازیں، مدعی کا طرزِ عمل بھی غیر فطری معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ خوف کے باعث موقع پر خاموش تماشائی بنا رہا اور اپنے پوتے سے اپنے بیٹے کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی۔ ایک باپ یا دادا سے ایسے غیر معمولی طرز عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ صورتحال مدعی کی موقع پر موجودگی پر سنجیدہ شکوک پیدا کرتی ہے۔

موقع کا نقشہ بھی مدعی کے بیان کی تردید کرتا ہے۔ تفتیشی افسر نے مقتول کے بستر کے نیچے سے خون کے نشانات اکٹھے کیے، تاہم اس نے بستر سے لے کر اس مقام تک جہاں مقتول کی لاش پھینکی گئی، خون کے نشانات کا کوئی سراغ نہیں دکھایا۔ مدعی کے بیان کے مطابق ملزم نے مقتول کی لاش کو تقریباً ایک ایکڑ کے فاصلے تک گھسیٹا، لیکن ایکڑ بھر کے علاقے سے بھی کوئی خون کے نشانات برآمد نہیں کیے گئے۔ مزید برآں، پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے مقتول کے جسم پر کسی قسم کی خراش، رگڑ یا چوٹ کا ذکر نہیں کیا جو کہ مدعی کے لاش گھسیٹے جانے کے دعوے کی تصدیق کر سکے۔

Semi open eyes and mouth of the deceased at the time of the postmortem reflects that the dead body of the deceased remained unattended at the spot. Had the complainant been present at the spot, he would have managed to close the mouth and eyes of his deceased son.

Delay in lodging FIR.

Delay in Post Mortem.

Dishonest Imprisonments.

Complainant has not stated a single word in crime report about availability of any source of light either natural such as moon or artificial such as electric bulb etc in which he identified the petitioner at the spot. As per version of the complainant, the occurrence took place at the dark hours of night . No source of light i.e bulb has been taken into possession by the I.O. nor has any source of electricity been established by the prosecution in order to imply that the bulb was lit at the time of the occurrence. In this view of the matter, identification of the assailant(s) in the dark hours is highly doubtful.

Even otherwise, the conduct of the complainant appears to be unnatural as he kept mum at the spot due to fear like a silent spectator and did not react to rescue his son from his grandson. A father or grandfather cannot be expected to react in such a way as demonstrated by the complainant. This circumstance cast serious doubt about the presence of the complainant at the spot.

The site plan also belies the version of the complainant. The Investigating Officer has secured blood from beneath the bed/Cot of the deceased, however, he did not reflect any trail of blood from the place of Cot of the deceased till the place where the dead body of the deceased was thrown in a field. According to statement of complainant when the dead body of the deceased was thrown in the field, the petitioner dragged his dead body for a distance of one acre. No blood has also been shown in the site plan or recovered by the 1.0. from the said area of one acre. No scratch, bruise and abrasion have been noted by Dr. who conducted autopsy on the dead body of the deceased so as to substantiate the version of complainant in respect of dragging the dead body of the deceased.
JAIL PETITION NO.539 OF 2017
Waqas Ahmad vs The State
09-04-2025

21/04/2025

والدہ نے بغیر اجازت کے بچہ کو بیرون ملک لے گئی باپ نے گارڈین کورٹ سے والدہ کا کارڈ بلاک کروا دیا
ماں نے اپیل کی ہائی کورٹ سندھ نے اپیل خارج کر دی اور حکم صادر فرمایا کہ ٹرائل کورٹ میں شناختی کارڈ کے ان بلاکنگ کے لیے و بچہ کو بیرون ملک لے جانے کے لئے رجوع کرے وہ بھی بچہ کے فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت فیصلہ کرے گی
2025 CLC 544
والدہ کو ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو نابالغ کو تعلیمی مقاصد کے لیے امریکہ لے جانے کی اجازت دینا مناسب سمجھا- آئینی درخواست کی اجازت دی گئی، حالات میں، درخواست گزار کو اس ہدایت کے ساتھ کہ وہ وکیل کے طور پر حاضر ہونے کے لیے ماتحت عدالت میں پیش ہوں اور گارڈین کورٹ سے اجازت نامہ لے کر باہر جا سکتے ہے
2025 CLC 478

20/04/2025

PLD 2023 ISLAMABAD 124

کسی دستاویز کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنا اور اسے "نمائش" (Exhibit) کے طور پر نشان زد کرنا، دوسری فریق کو اس کی قبولیت (admissibility) کو چیلنج کرنے سے نہیں روکتا۔

کسی دستاویز کو بعد میں چیلنج کیا جا سکتا ہے — اسی طرح، محض کسی دستاویز کو بطور "نمائش" پیش کرنا، اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری (onus of proof) سے بری نہیں کرتا۔

کسی دستاویز کو بطور ثبوت قبول کرنا نہ تو اس کی شہادتی (evidentiary) حیثیت کو طے کرتا ہے اور نہ ہی اس کی قبولیت کو حتمی قرار دیتا ہے؛ یہ عمل صرف اسے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بناتا ہے اور ایک "نمائش" کے طور پر نشان زد کرتا ہے۔

کسی دستاویز کو بطور ثبوت پیش کرنا اور اسے نمائش کے طور پر عدالت میں جمع کروانا بذاتِ خود اس دستاویز کو ثابت نہیں کرتا؛ اسے قانونِ شہادت 1984 (Qanun-e-Shahadat, 1984) کے تحت باقاعدہ طور پر ثابت کیا جانا ضروری ہے۔

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Mian Law Associates Teh. Courts Chunian. . M. Bilal Khan & Associates Office 6, 2nd Floor SAF Centre, 8 Fane Road, Near High Court
Lahore