Sharp Eye

Sharp Eye

Share

22/05/2026

22 May 2026

مزاہب نامی فراڈز کے متعارف کردہ جعلی دنیا کے مالک پر روزانہ لاتعداد لعنتیں بھیجا کریں۔۔۔

ڈاکٹر گاڈاِزٹ Dr. Godizt

a

اصل "مالک" تک پہنچنے کے لیے کتاب "گاڈاِزم" کا مطالعہ

کریں جو www.godizm.com پر مفت دستیاب ہے

مزاہب کے بیان کردہ ایسے جعلی اللہ ایشور گاڈ خدا بھگوان رب پر لاتعداد لعنتیں روزانہ طلوع آفتاب کے وقت بھیجا کریں جو کرپٹ درندہ صفت طاقتوروں کو ایمانداروں سچوں کی عزت جان مال لوٹنے، ہر قسم کی کرپشن اور جرائم کرنے کے لیے "صحت" اور "طاقت" لمبا عرصہ تک دیئے رکھتا ہے۔ اِن پر اور اِن کی آل پر کوئی عزاب نہیں آتا۔۔۔ ایسے درندوں میں پاکستانی تنخواہ دار نوکر بالخصوص فوج، ایجنسیاں، عدلیہ ، پولیس بیوروکریسی دنیا بھر میں سرِفہرست ثابت ہے۔ ان درندوں کی وجہ سے 99 فیصد سول معاشرہ بھی ہر طرح سے کرپٹ جھوٹا مکار فراڈیا جرائم پیشہ ہوچکا ہے۔ 99 فیصد سے زائد سرکاری نوکر بھرتی کے وقت غریب ترین تھے جنہیں ریاست نے گود لے کر ان کی زندگیاں اپنے ذمے لیں اس کے باوجود یہ کمی کمین ثابت ہوئے۔۔۔ یاد رہے میں کمی کمین کرپٹ بدکردار غدار لُٹیرے کو کہتا ہوں چاہے وہ کوئی نواب خاندان سے ہو۔ میں نے اپنے کئی کالمز یا وی لاگز میں کہا کہ یہ ملک کمیوں کے ہاتھ آگیا ہے تو بعض سرکاری نوکروں نے مجھے کہا کہ آپ غریب کو کمی کمین کہہ رہے ہیں تو میں نے وضاحت کی کہ ہمیشہ سے غریب یا چھوٹے کام کرنے والوں کو کمی کمین یا نیچ کہا جاتا تھا لیکن میں نے یہ ٹرمز کرپٹ ، بدکردر، جرائم پیشہ رشوت خور ، اختیارات کا غلط استعمال کرنے والوں، جھوٹوں مکاروں ، بے انصافوں، ظالموں، حاسدوں یعنی شیطانوں ابلیسوں راونوں کے لیے مختص کردی ہے۔

Photos from Sharp Eye 's post 14/05/2026
Photos from Sharp Eye 's post 08/05/2026

Corrected

“Today’s Column by Dr. Godizt … 8 May 2026
LAST WARNING----آخری وارننگ
پاکستانی عدلیہ ہر جرم میں شریک مجرم ہے
سہیل ظفر چٹھہ کو جی ایچ کیو نے قتلوں کے لیے کیسے قابو کیا
کرپٹ سرکاری سور درندے چوکیدار ہر قسم کی چوری درندگی غداری اسی کرپٹ نظام عدل کے سر پر کرتے ہیں
قارئین! آج ایک مرتبہ پھر میں پاکستان کی تباہی کے اصل مجرموں کے متعلق مختلف نئے ثبوتوں کی روشنی میں لکھ رہا ہوں کہ شاید کسی کو شرم و حیاء / خوفِ خدا پیدا ہو جائے اور کوئی کسی ادارے میں درندے سے انسان بن جائے۔ قارئین! میں جتنی بھی مثالیں یا ثبوت دیتا ہوں وہ اتنے مضبوط اور واضح ہوتے ہیں کہ کوئی بھی ان سے انکار نہیں کرسکتا اس کے باوجود یہ سرکاری سور اور حتی کہ بعض ججز بھی کھل کر ایسے ثبوتوں کو ضائع کرنے کے لیے اوپن ننگے سنگین جرائم کرتے ہیں اور جس کے خلاف جتنے مضبوط ثبوت ریکارڈ میں آجاتے ہیں وہ جی ایچ کیو اور اسکی ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی ، ایم آئی کا اتنا زیادہ چہیتا ہو جاتا ہے کیونکہ اب وہ بلا چوں چرا ہر قسم کی درندگی کے حکم کی تعمیل کرتا ہے جیسا کہ کچھ عرصہ قبل سہیل ظفر چٹھہ نامی ڈی جی اینٹی کرپشن کے خلاف ناقابل تردید دستاویزی ثبوت آئے جس میں اسے باقی زندگی جیل جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ خبر رساں ایجنسی شارپ آئی کو انتہائی معتبر اور عسکری ذرائع سے معلوم ہوا کہ جی ایچ کیو میں سہیل ظفر چٹھہ کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ آپکے خلاف جو پرچہ درج کرنے کا سیشن کورٹ اے ایس جے مدثر فرید کھوکھر کا حکم ہے اسے رپٹ میں تبدیل کردیا جائے گا اور جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور شہباز احمد کھگا کے کلیئر احکامات کی نافرمانی اور ناقابل تردید جعلی دستاویزات کیس میں آپ نے رشوت کھا کر مدعی کے ساتھ ظلم کی انتہاء کی اس کیس کو بھی دبا دیا جائے گا اس کے بعد سہیل ظفر چٹھہ کو حکم ملا کہ ایک نیا شعبہ سی سی ڈی کے نام سے بنایا جائے گا جس کے آپ سربراہ ہوں گے اور جتنے جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی اور ایم آئی حتی کہ پولیس کے بھی ٹاوٹ کریمنلز آوٹ آف کنٹرول ہو چکے ہیں یا اداروں کے لیے خطرہ ہیں کہ ان کے پاس افسروں کے جرائم کے بہت راز ہیں ان سب کو قتل کرنا ہے۔ سہیل ظفر چٹھہ نے اپنے جرائم پرجیل کی بجائے جی ایچ کیو کے لیے قتل و غارت کا فیصلہ کیا اور آج سب کچھ سب کے سامنے ہے۔ قارئین! ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہباز احمد کھگا کے سامنے یہ مقدمہ گیا تھا کہ مسٹر اے 2010 میں فوت ہو گیا اور اس کی پراپرٹی لوکل کمیشن، رجسٹری محرر، پٹواری اور پرائیویٹ افراد بشمول پراپرٹی ڈیلر نے جعلی رجسٹری مرحوم کو 2022 میں زندہ ظاہر کرکے رجسٹر کرلی ہے۔ اینٹی کرپشن لاہور کے انکوائری آفیسر ڈی ڈی لاہور نے تیس لاکھ روپیہ لے کر فائیل داخل دفتر کردی اور ڈائریکٹر لاہور اور ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ نے بھی داخل دفتر کردی جس کے بعد مدعی نے سیشن کورٹ 22 اے بی کا مقدمہ کیا جواے ایس جے شہباز احمد کھگا کے پاس لگا انہیں بتایا گیا کہ 2010 میں مرنے والا مسٹر اے 2022 میں قبر سے نکلا اور پٹواری کے پاس دستخط و نشان انگوٹھا لگا کر فرد بیع لی پھر لوکل کمیشن نے مُردے سے رجسٹری محرر کی موجودگی میں دستخط اور نشان انگوٹھے لے کر واپس قبر میں بھیج دیا ۔ اس مقدمہ پر جج صاحب نے ایف آئی آر درج کرنے کا کلیئر حکم دیا جس کے بعد اینٹی کرپشن افسران نے مدعی کے ساتھ اتنا ظلم کیا حتی کہ پولیس کو دباو ڈالا کی اسے کسی مقدمے میں جیل بھیجو اور ان حالات میں مدعی کا سارے سوشل میڈیا پر بیان آیا کہ میں خود کُشی کرلوں گا تو شراب کا گلاس پیتے ہوئے سہیل ظفر چٹھہ نے زور دار قہقہ لگایا کہ جا مر تیرے جیسے بلڈی سیولینز روز مرتے ہیں ہم ہی خدا ہیں ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔ اگر وہ خدا ہوتا جو سن اور دیکھ اور سب کرسکتا ہے تو کیا وہ عزاب نہ لاتا وہ تو نبیوں پر وقت کی ایسٹیبلشمنٹس کے مظالم حتی کہ قتل کرنے پر بھی کبھی نظر نہ آیا اور نہ ہی آل محمد کے ذبح ہونے پر نظر آیا لہزا ایسٹیبلشمنٹ ہی خدا ہوتی ہے۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی نے توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا تواس میں جناب اے ایس جے شہباز احمد کھگا نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن کو حکم دیا کہ وہ ڈائریکٹر اور ڈی ڈٰی لاہور پر پرچہ درج کرے (اس پر میں ڈاکٹر گاڈاِزٹ کھگا صاحب کی جرات ایمانداری پر سلام پیش کرتا ہوں) اس حکم کو بھی لپیٹ کر سہیل ظفر چٹھہ نے مدعی کے لیے اس سے ملاقات کرنے والوں کو کہا کہ حکم کی یہ بتی بنا دی ہے جاکر جج کی ڈیش میں دے دو۔۔۔ قارئین! اس کے بعد مدعی اور اس کی مدد کرنے والے تھک ہار کر خاموش ہو گئے۔ اب دو سال بعد اتفاق سے میری ملاقات موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور احسن بھٹی سے ہوئی جہاں میں اپنے ایک مقدمہ میں گیا ہوا تھا اور مجھے اس مرحوم والے مقدمہ کے مدعی کی ایک بیوہ خالہ (محلےدار) نے بتایا کہ ان کے بھانجے والے کیس کی فائیل نکلوا کر ملزمان سے نئے ڈائریکٹر کے لیے دس لاکھ روپیہ مانگا جارہا ہے۔ قارئین! جب میں اپنی ایک درخواست کے لیے احسن کے پاس گیا تو میں نے ان سے کہا کہ فلاں فائیل آپ کی ٹیبل پر دو ماہ سے واپس طلب ہو کر کیوں پڑی ہے وہ تو داخل دفتر تھی تو انہوں نے کہا مجھے علم نہیں میں عملہ سے پوچھتا ہوں تو عملہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو میں نے کہا کہ عملہ سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اب اس کیس میں آپ کی دیہاڑی لگنی ہے ورنہ مجھے بتائیں کہ 2010 میں مرنے والے نے 2022 میں رجسٹری کیسے کرائی تو وہ یہ بات سُن کر اُچھل پڑے اور فائیل منگوا کر پڑھی اور عملہ پر برس پڑے اور پھر اپنے ڈٰی جی کی دشمنی مول لے کراب کچھ عرصۃ قبل پرچہ درج کرلیا ہے۔ میں احسن چٹھہ کی جرات کو بھی سلام کرتا ہوں چاہے وہ میرے اس کیس سے بھی زیادہ مضبوط ترین درخواستوں پر کور کمانڈر لاہور اور ڈٰی جیز اینڈ سیکٹر ہیڈز آئی ایس آئی و ایم آئی کی ڈائریکٹ دھمکیوں کے باعث پرچے درج نہیں کر پا رہے اور دیگر ممتعدد محکموں کے افسران اور ججوں کی طرح انصاف نہیں دے پارہے۔۔۔ قارئین! آپ اندازہ کریں کہ سرکاری نوکر اس قسم کے کیسیز پر بھی غنڈا گردی کی انتہاء کرتے ہیں تو جہاں ان کی ڈسکریشن ہوتی ہے جہاں ان کے علم میں سچ آجاتا ہے لیکن مدعی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا وہاں یہ حرامی کوٹھے کی پیدائشیں کتنے ظلم اور بے انصافیاں جھوٹ مکاریاں کرتے ہیں۔ دکھ یہ ہے کہ میں 20 سال سے اصالتاً عدالتوں میں ایسے تگڑے ثبوت لے کر جارہا ہوں اور 98 فیصد جج بھی یہی درندگی جعلسازی فراڈ فائلیں چوری ثبوت چوری از خود کررہے ہیں اور میں تین درجن سے زائد ایسے مجرم ججوں کے خلاف آج تک متعدد کمپلینٹس داخل کرچکا ہو لیکن جس کے خلاف ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ کیس داخل کرتا ہوں وہ جی ایچ کیو کو پیارا ہوجاتا ہے جس کی اہم ترین مثال میرے ایک نامزد مجرم فراڈئیے جعلساز درندے جسٹس امین الدین خان کی ہے جب اس کے جرائم کی درخواست داخل ہوئی تب سے یہ غدار فوج غدار جرنیلوں کا ہردلعزیز ہوگیا حتی کہ اس کے لیے ایک نئی سپریم کورٹ ہی بنا دی گئی۔ جیسے سہیل ظفر چٹھہ کے لیے ایک نیا شعبہ سی سی ڈی بنا دیا گیا۔ کیا مزاہب کا بیان کردہ خدا کے نزدیک ایسے ہی درندے اسے عزیز ہیں جو وہ انہیں لمبا عرصہ تک سچوں ایمانداروں کی عزت جان مال لوٹنے کی طاقت اور صحت دیئے رکھتا ہے۔۔۔ قارئین!۔ ایسا ہی ایک مقدمہ تین چار سال سے پولیس نے درج کرنے سے روک رکھا ہے کہ ایک نامعلوم پولیس ملازم کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر اپنی فیملی کا سب کچھ اس پر لُٹانے والی ملزمہ ق نے یتیم بچے کی ایک پراپرٹی پر پولیس کا قبضہ کرایا جہاں 2008 سے پولیس مختلف کریمینلز کو پناہ دیتی ہے۔ یتیم مدعی الف نے یہ درخواست تھانہ سمن آباد اور تھانہ اسلام پورہ میں 2021 سے مسلسل دیں کہ اس کی پراپرٹی کے جعلی دستاویزات بنا کر سول کورٹ سے ڈگری لینے کی کوشش کی گئی سول کورٹ نے جعلی قرار دے کر مقدمہ خارج کردیا اور تمام اعلی عدالتوں سے اپیلیں بھی ملزمہ ق کو فراڈ جعلساز قرار دے کر خارج ہو گئیں ہیں لیکن پولیس نے 420 ، 468، 467، 471 ، 109 وغیرہ کا پرچہ نہ دیا ۔ پولیس افسران بشمول سی سی پی اور بلال صدیق کمیانہ نے پرچہ درج کرنے سے تھانہ کو روک دیا جس کی تصدیق ایس پی ڈاکٹر عمر کی باتوں سے بھی مجھے ہوئی اور اب ایس ایس پی آپریشن لاہور توقیر کی حرکات و سکنات سے ہو چکی ہے۔ پولیس افسران کے خلاف یتیم بچہ مدعی الف اینٹی کرپشن درخواست لے کرگیا جہاں انہی درندوں یعنی ڈٰی جی سہیل ظفر چٹھہ اور اے ڈی جی وقاص نے اپنے ساتھی پیٹی بھائیوں آئی جی ، سی سی پی او ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی، ایس پی ، ڈی ایس پی، ایس ایچ او پر پرچہ دینے سے انکار کردیا اینٹی کرپشن کے خلاف پیٹیشن اے ایس جے کامران کے پاس لگی لیکن وہ شہباز احمد کھگا کی طرح ایماندار جرات مند ثابت نہ ہوئے اور کمزور ڈائریکشن دی اور ڈٰی جی نے وہ بھی مدعی کے منہ پر مار دی۔ جبکہ پولیس کو یہ پرچہ درج کرنے والے احکامات کی پولیس بھی مسلسل آج تک توہین کررہی ہے بلکہ ایک انتہائی جرات مند قابل اور قابل تعریف جج اے ایس جے لاہور جناب محمد کاشف صاحب نے سی سی پی او لاہور کو یہ حکم بھی دیا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر ایس ایچ او پر پرچہ درج کرے جس پر سی سی پی او نے اس لیے عمل نہ کیا کیونکہ اسی کے حکم پر تو پرچہ درج نہ ہورہا تھا۔ اس وقت موجودہ ایس ایچ او سمن آباد انسپکٹر اعتزاز عارف توہین کررہا ہے اس ایچ او کو میں پولیس کی جاب کے لیے مس فٹ قرار دیتا ہوں انتہائی مغرور کپڑوں سے باہر شخص ہے ایس ایچ او کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے آپ کو منتخب وزیراعظم سے زیادہ سمجھتا ہے۔ انتہائی مغرور اور بد تمیز ہے جس کی تصدیق مجھے متعدد متاثرین کرچکے تھے لیکن اس کی جھلک میں نے ملاقات میں خود دیکھی۔۔ اسے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ بندوق پکڑانے سے پہلے بھرتی کے وقت ذہنی صحت چیک نہیں کی جاتی یا جان بوجھ کر ایسی ذہنیت کے درندے بھرتی کیے جاتے ہیں۔۔۔ قاارئین! ایس ایس پی آپریشنز توقیر کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ناقابل تردید ثبوت جعلی دستاویزات، جعلی کرائے نامے ہیں۔ تمام اعلی عدالتیں بھی جعلی قرار دے چکی ہیں اور عدالت کے حکم پر پرچہ درج نہ کرنے پر ایس ایچ او پر بھی پرچہ درج کرنے کا حکم ہوچکا ہے۔ میں یہ بات ایس ایس پی آپریشنز لاہور توقیر کو بار بار سمجھاتا اور اسے سمجھ نہیں آتی یا وہ سمجھنا نہیں چاہتا اور اب وہ میری بات سننے سے انکاری ہے شاید کہیں سے اسے ڈنڈا چڑھا ہے کہ وہ میری بات اتنی تسلی سے کیوں سنتا رہا۔۔۔ وقت آنے پر میں ایس ایس پی توقیر کا ریمانڈ لے کر اس کے منہ سے اس حرامی کا نام نکلوا کر اس درندے کے پورے خاندان کو چوک میں لٹکاوں گا جس نے اچھے بھلے یامانداری سے چلتے بات سنتے انکوائری کرتے توقیر کو ایمانداری کرنے اور مجھ سے بات سننے سے سے روکا۔۔۔۔ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور محمد کاشف صاحب کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جنہوں کچھ اور ایسے جرات مندانہ احکامات کئے جس پر فوجی ایسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ ظلم کیا جس کی مجھے اطلاع ملی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی اسی جرات ایمانداری کے ساتھ قائم ہیں۔۔۔ ایسی ایماندار جرات مند شخصیات کو میں "انسان" سمجھتا ہوں اور یہ ملک کا اصل اثاثۃ ہیں۔۔۔۔ قارئین! یہ دو مثالیں میں نے ایسی دی ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ان کمپلینٹس کا توڑ نہیں لا سکتا اس کے باوجود سرکاری کرسیوں پر بٹھائے گئے چوکیدار سر عام خوفناک جرائم کرتے ہیں جس کی وجہ عدلیہ ہے جو ان کو بچاتی ہے۔ قارئین! میرے پا س بے شمار مقدمات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ججوں نے سرکاری نوکروں اور پولیس کو بچانے کے لیے ظلم کی انتہاء کی۔ ایسے کئی مقدما ت ہیں کہ سول معاملے میں پولیس نے ٹھیکا اُٹھا کرغلط پرچہ دیا اور جب مظلوم نے پولیس افسران کے خلاف ایٹی کرپشن میں درخواست دی تو پولیس افسران نے سول ججوں کو اور پھر بعد میں اپیل عدالتوں کو مینیج کرکے سول کیس میں جرم کرایا تاکہ وہ اینٹی کرپشن میں کہہ سکیں کہ سول کورٹ نے مدعی کا پراپرٹی کا مقدمہ خارج کردیا ہے اور وہ جھوٹا ثابت ہو گیا اور تب تک اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے انکوائری دبائے رکھتی ہے تاکہ مجرم سرکاری نوکر کاونٹرایویڈنس تیار کرسکیں یا مدعی کو کہیں اور پھنسا کر بلیک میل کرسکیں۔۔ ایسے ایک کیس کا میں یہاں ذکر کروں گا جس میں تمام سول ججوں نے جرم کیے اور آخری فیصلہ دینے والے سول جج نے پولیس کو بچانے کے لیے سچے مظلوم کمزور اور غریب ترین مدعی کے ساتھ تو جرم کی انتہاء کردی اور اسکا مقدمہ ڈس مس کرکے پولیس کو پرچے سے بچایا۔ مقدمہ یہ تھا کہ مدعی نے لکھا کہ جناب جج صاحب ہمارا ڈیڑھ مرلہ کا مکان میں روڈ پر واقع مارکیٹ کی بیک پر ہے جہاں ان دکانداروں کو کسی بھی قیمت پر گودام کی جگہ بمشکل ملتی ہے۔ میرے والد 85 سالہ بوڑھے اور ذہنی طور پر 70 فیصد معزور ہیں یعنی بقائمی ہوش و حواس نہ ہیں۔ ان کی دوسری بیوی اور میری سوتیلی بہن دوسرے شہر رہتی ہیں اور ایک دکاندار سے ملی بھگت کرکے چار لاکھ لے کر مکان کے اشٹام پر میرے بوڑھے والد کے انگوٹھے لگا دئیے ہیں اور والد کو اپنے گھر قابو کررکھا ہے۔۔۔۔۔ یہ مقدمہ مدعی نے داخل کیا جبکہ اینٹی کرپش میں یہ درخواست دی کہ اس جعلی رجسٹری کے بعد دکاندار نے مجھ سے مکان چھننے کے لیے تھانہ سے 5 لاکھ روپیہ میں سودا کرکے جھوٹا پرچہ ناجائز قابض اور چوری کا درج کیا اور اندر کردیا یعنی جس گھر میں پیدا ہوا اسی میں ناجائز قابض پولیس نے کردیا اور لکھا کہ دکاندار کا کچھ سامان اس مکان میں پڑا تھا جو اس نے چوری کیا۔۔۔ لیکن قدرت کا معجزہ کہ سارا علاقہ تھانہ پر چڑھ دوڑا اور پولیس قبضہ نہ لے سکی اور پولیس نے زبردستی ایک راضی نامہ لکھوا کر ضمانت کرا دی۔ ان جرائم پر جب اینٹی کرپشن کو درخواست دی اور یہ بھی لکھا کہ پولیس کے سامنے ثابت ہوا کہ اسی نوے لاکھ کے ڈبل اسٹوری مکان کا دکاندار نے چار لاکھ دیا جبکہ رجسٹری میں دس لاکھ لکھا اور عدالت میں اپنے دعوی میں 20 لاکھ لکھا۔ پھر بھی اینٹی کرپشن نے پرچہ نہ دیا۔ اس کے بعد مدعی نے سول کورٹ میں 476 سی آر پی سی کے تحت درخواست دی کہ جو دعوی ارب پتی دکاندار نے دائر کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ 20 لاکھ میں خریدا اور جو رجسٹری ساتھ لگائی ہے اس میں لکھا ہے کہ 10 لاکھ میں مکان خریدا جو کہ عدالت سے کلیئر کٹ جھوٹ ثابت ہے پہلے تو عدالت 476 کی درخواست نہ لیتی رہی پھر جب لینا پڑی تو جج نے یہ حکم لکھ کر خارج کردی کہ 476 کا فیصلہ دعوی کے فیصلہ میں کیا جائے گا اور پر جب دعوی کا فیصلہ کیا تو اس میں دکاندار کو ڈگری دے دی اور 476 کے متعلق لکھا کہ اس کا فیصلہ تو پہلے ہو چکا ہے۔ یعنی جو اس سے پہلے والےسول جج نے لکھا تھا کہ 476 کا فیصلہ دعوے کے فیصلے کے ساتھ کیا جائے گا یعنی 476 کا فیصلہ تو ہوا ہی نہ تھا۔ خبر رساں ایجنسی شارپ آئی کے ذرائع کے مطابق اس دکاندار کے وکیل نے سول جج کے ساتھ اسے بٹھا کر 50 لاکھ روپے میں ڈیل کرائی جو اس نے ادا کیا اسے وکیل نے ثابت کیا کہ 476 میں اسے سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا تو اس نے خوفزدہ ہو کر جج کو بھی پیسے دیئے ور وکیل تو پہلے ہی لمبی دیہاڑٰی لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ اب اندازہ کریں کہ سرکاری نوکر اور جج سب ہی اپنی قانونی علم کا مکار دماغ کا کیسے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں تقریباً ہر مقدمہ میں ایسے جرائم موجود ہیں لیکن چونکہ مقدمات کرائے کے بدمعاشوں المروف وکلاء کے ذریعے ہوتے ہیں لہزا جج اور وکیل یہ جرم مل کر کرتے ہیں اور وکیل ایک گاہک کے لیے جج نہیں خراب کرتا ورنہ ہر جج پر ایک سائیڈ کا وکیل لازمی پرچہ درج کرائے لیکن جرم دونوں سائیڈ کے وکلاء اور جج کمرے میں بیٹھ کر طے کرکے کرتے ہیں۔۔۔ سول جج کے اس فیصلے کے بعد یہ قانون ہو گیا کہ عدالت میں جعلی دستاویز داخل کرنا یا جھوٹ لکھنا جرم نہ ہے۔ رجسٹری میں 10 لاکھ اور عدالت میں 20 لاکھ لکھنے والا معزز قرار پایا اور جو سچا مدعی جس وراثتی مکان میں پیدا ہوا جو اس کے باپ سے پہلے دادا کی ملیکت تھا ایسے مکان کا مالک عدالت نے چار لاکھ دے کر 85 سالہ ایسے بوڑھے سے ہتھیانے میں مدد کی جو بقائمی ہوش و حواس نہ تھا۔ قارئین! اسی لیول کے جرائم متعدد ججوں نے میرے ساتھ کیے ہیں لیکن ان کا بھی سرکاری سوروں کی طرح احتساب ممکن نہ ہے۔ جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ غدار فوج / آئی ایس آئی /ایم آئی کو اپنے ناجائز کاروبار ، دھندے ، ناجائز قبضے، اسمگلنگ ، اغوا برائے تاوان، چوریاں، ڈکیتیاں ، منشیات فروشی، ملک فروشی، بلیو فلم میکنگ سمیت تمام جرائم کے تحفظ کے لیے کرپٹ ترین سرکاری نوکر ہر محکمہ میں چاہیں اور انہیں کرپٹ سرکاری سوروں درندوں کو بچانے کے لیے کرپٹ تریم عدالتی نظام اور ججز اور کرپٹ ترین وکیل درکار ہیں۔۔۔ اورمزاہب کا بیان کردہ اللہ ایشور گاڈ خدا رب نامی کردار ان درندوں کو مستقل طاقت اور صحت دئے رکھتا ہے۔۔۔ میں آخر میں ججوں ، بیورو کریٹس اور پولیس سے کہوں گا کہ میرے پاس ہر نعمت اور طاقت تھی دس تگڑی قومی اور امریکی کمپنیاں میڈٰیا گروپس فوج نے اس لیے گرائے کہ میں نے ان کو بیرکوں میں واپس بھیجنے کے لیے 12 اکتوبر 1999 کی غداری کے بعد مسلسل جدو جہد شروع کی اس دوران فوج نے بڑی بڑی آفرز اور آخری نگران وزیراعظم کی دی۔ میرے انکار کے بعد کاکڑ کا نمبر آیا اور وہ نگران وزیرعظم بنا ۔ آج بھی جی ایچ کیو ، آئی ایس آئی ، ایم آئی پُر اُمید ہیں کہ آخر عدلیہ اور پولیس وغیرہ اداروں کے جرائم سے تنگ آخر ہمارے ہی قدموں میں گرے گا۔ اوئے جاہلو! ڈرو اُس وقت سے کہ یہ واحد پہلا اور آخری شخص جو غداروں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑا ہے اگر ٹوٹ کر غدار بلاک میں چلا گیا تو تم سب کا کیا حال ہو گا۔ لہزا اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے فوری انصاف عدالتوں اور پولیس نے ہر کیس میں نہ دیا تو اب آنے والی فوجی آفر میں قبول کرلوں گا اور شرط یہ رکھوں گا کہ میرے ساتھ جس جس جج وکیل اور افسر نے زیادتی کی سنگین جرائم کیے، پہلے اُن سب کو عبرت کا نشان بناوں گا۔۔۔۔ اوئے پھر سمجھو کہ میں اتنا کامیاب اور تگڑا صحآفی تھا کہ ملک کا صدر اور آرمی چیف مجھے از خود درخواست کرکے کبھی انڈٰیا آگرہ مزاکرات اور کبھی امریکہ دوروں پر ساتھ لے کر جاتا اور اربوں کے پلاٹوں و دیگر آفرز کرتا۔ میں نے ح سچ کی خاطر سب کچھ گنوایا، مجھے یاد ہے کہ جب میری 2002 میں پاکستان کے پہلے پرائیویٹ ٹی وی چینل کے سربراہ کے طور پر تمام اخبارات میں تصویر کے ساتھ خبریں شائع ہوئیں تو آئی ایس آئی کے حکم پر ڈٰی جی آئی ایس پی آر پنجاب شعیب بن عزیز نے مجھے خریدنے کے لیے ریسٹورنٹ میں کھانے کی دعوت پر بلایا اور مختلف آفرز دیں جن میں 100 ویڈیوکیمرے ، ڈی این جی ایل آرز، خفیہ فنڈز سمیت بہت کچھ شامل تھا جو میں نے شکریہ کے ساتھ انکار کردیا۔۔۔ اوئے کھوتو سوچو میں نے غدار فوج کی 12 اکتوبر 1999 کی غداری کے خلاف جب حق سچ کی لڑائی فوج سے اور ایجنسیوں سے شروع کردی تو اس کے بعد انجئنیرنگ کرکے مجھے مقدمات میں پھنسانا شروع کیا گیا۔ یہ سب وکیلوں ، پولیس اور ججوں کے ذریعے کیا گیا۔۔۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Sharp Eye Headquarter, Qurtaba Chowk
Lahore
54000