Apna Rishta Junction

Apna Rishta Junction

Share

08/06/2026

السلام علیکم!
میں بہت پریشان اور ٹوٹی ہوئی ہوں۔ میری عم27 سال ہے اور میں گریجویٹ ہوں۔ میری شادی کو 6 سال ہو چکے ہیں۔ مسلسل جھگڑوں، لڑائیوں اور ذہنی اذیت کے باوجود میری دو بیٹیاں پیدا ہوئیں اور اب میں تیسری بار حاملہ ہوں۔
میرا رشتہ گھر والوں کی مرضی سے میری خالہ کے گھر ہوا۔ منگنی تین سال تک رہی۔ اس دوران لڑکے کے گھر والے آہستہ آہستہ رشتہ ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن لڑکا بظاہر یہی کہتا تھا کہ وہ مجھے نہیں چھوڑے گا۔ اسی وجہ سے میرے گھر والوں نے رشتہ برقرار رکھا۔
شادی کے بعد پہلے ہی دن سے میری ساس میرے شوہر کو میرے خلاف بھڑکاتی رہی۔ ہر روز کسی نہ کسی بات پر جھگڑا کروایا جاتا تھا۔ شادی کے صرف پندرہ دن بعد میرے شوہر نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب بھی گھر آتا، پہلے اپنی ماں کے کمرے میں جاتا اور پھر آ کر مجھے مارتا۔ میرے چہرے سے خون نکلتا، جسم پر تشدد کے نشانات ہوتے اور میں شدید تکلیف میں رہتی۔
حمل کے دوران بھی مجھے بری طرح مارا پیٹا گیا۔ میری ساس کہتی تھی کہ مجھے میرے میکے بھیج دیا جائے تاکہ علاج اور خرچ میرے والدین اٹھائیں۔ کئی بار میں ناراض ہو کر میکے گئی، پھر صلح ہو گئی، لیکن حالات کبھی نہ بدلے۔
سات ماہ کی حاملہ تھی جب میرے شوہر نے وعدہ کیا کہ الگ گھر لے گا، لیکن دھوکے سے دوبارہ اپنے گھر لے جانا چاہا۔ وہاں میری ساس نے میرا سامان دینے سے انکار کر دیا، چیزیں توڑ دیں اور مجھے بھوکا پیاسا رکھا۔ تین دن تک مجھے کھانا تک نہیں دیا گیا جبکہ میں حاملہ تھی۔
ایک دن میرے والد میرے لیے کچھ پھل لائے۔ اس بات پر میری ساس، دیور اور نندوں نے مل کر مجھ پر حملہ کر دیا۔ ایک بزرگ خاتون نے مجھے خبردار کیا کہ یہ لوگ مجھے اور میرے بچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے میں جان بچا کر وہاں سے بھاگی۔ راستے میں گر گئی، شدید تشدد کا نشانہ بنی اور خون میں لت پت حالت میں گھر پہنچی۔
میرے والد مجھے ہسپتال لے گئے۔ میری حالت اتنی خراب تھی کہ میں چل بھی نہیں سکتی تھی اور وہیل چیئر پر منتقل کیا گیا۔ رپورٹ بھی درج کروائی گئی لیکن کوئی انصاف نہ ملا۔
اس دوران میرے شوہر نے دوسری منگنی بھی کر لی۔ بعد میں وہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔ میرے والد نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا۔ پھر جب میری ڈیلیوری کا وقت آیا تو میرا شوہر معافیاں مانگنے لگا اور دوبارہ صلح کی کوشش کی۔
میں نے کئی بار گھر بچانے کی خاطر اسے معاف کیا، لیکن اس کا رویہ کبھی نہ بدلا۔ دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی میرے والدین ہی تمام اخراجات اٹھاتے رہے۔ میرے شوہر نے نہ بچوں کی ذمہ داری لی، نہ مناسب خرچ دیا اور نہ ہی محبت یا عزت سے پیش آیا۔
مسلسل ذہنی دباؤ، تشدد اور اذیت کی وجہ سے میری ذہنی حالت بھی متاثر ہوئی۔ مجھے نفسیاتی علاج کروانا پڑا۔ ڈاکٹروں نے بھی میرے شوہر کو سمجھایا کہ میری صحت کا خیال رکھے، لیکن اس نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔
آج بھی وہ معمولی بات پر جھگڑا کرتا ہے، خرچ دینے سے کتراتا ہے، بیماری میں میرا خیال نہیں رکھتا اور اکثر لڑ کر مہینوں کے لیے چلا جاتا ہے۔ جب اس کا دل کرتا ہے واپس آ کر معافیاں مانگتا ہے، اور میں بچوں کے مستقبل کی خاطر اسے معاف کر دیتی ہوں۔
اب میں بہت تھک چکی ہوں۔ میری زندگی میں سکون، محبت اور خوشی کا کوئی لمحہ نہیں آیا۔ مجھے ڈپریشن، ذہنی دباؤ، بے چینی اور جسمانی بیماریوں کا سامنا ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ کیا ایسی زندگی سے علیحدگی بہتر نہیں؟ لیکن پھر اپنی بیٹیوں کے مستقبل کا خیال آ جاتا ہے۔
آخر میرا قصور کیا ہے؟ میں نے صرف اپنا گھر بچانے کی کوشش کی، لیکن بدلے میں مجھے ہمیشہ اذیت، ظلم اور بے قدری ہی ملی۔
Mery Liye dua kry or mjhy achi nasehat or Raye dedy

29/05/2026

💔 ایک ادھورا اعتراف

میں یہ کہانی کسی کو الزام دینے کے لیے نہیں لکھ رہا… بس دل میں بہت کچھ جمع ہو چکا ہے جو اب لفظوں میں نکلنا چاہتا ہے۔

یہ بات چند سال پہلے کی ہے۔ میں ایک عام سی زندگی گزار رہا تھا، نہ زیادہ خوش قسمت نہ زیادہ بدقسمت۔ اسی دوران میری زندگی میں ایک لڑکی آئی۔ وہ بہت سادہ، خاموش اور اپنے کام سے کام رکھنے والی تھی۔ اس کی یہی سادگی مجھے آہستہ آہستہ اس کے قریب لے آئی۔

شروع میں سب کچھ نارمل تھا۔ صرف سلام دعا، چھوٹی چھوٹی باتیں، اور روزمرہ کی بات چیت۔ مگر وقت کے ساتھ وہ باتیں دل تک پہنچنے لگیں۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ میری عادت نہیں بلکہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

میں نے کبھی اسے یہ نہیں بتایا کہ میں اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہوں۔ شاید ڈر تھا کہ کہیں وہ دور نہ ہو جائے… یا شاید یہ امید کہ وقت خود سب کچھ واضح کر دے گا۔

مگر وقت ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوتا۔

ایک دن اچانک اس نے وہ جگہ چھوڑ دی جہاں ہم ملتے تھے۔ نہ کوئی الوداع، نہ کوئی وضاحت۔ بس ایک خاموشی… جو آج تک میرے اندر موجود ہے۔ میں نے پہلے سوچا شاید وہ واپس آ جائے گی، لیکن دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔

میں نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی راستہ نہ ملا۔ نہ سوشل میڈیا پر، نہ کسی جاننے والے کے ذریعے۔ جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔

اس کے بعد زندگی چلتی رہی، مگر میرے اندر کچھ رک گیا تھا۔ میں ہنستا رہا، لوگوں سے ملتا رہا، مگر دل کہیں پیچھے رہ گیا۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک ادھورا پن تھا۔

آج بھی کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید وہ بھی کچھ کہنا چاہتی تھی… شاید وہ بھی رکی ہوئی تھی… مگر ہم دونوں ہی وقت پر بات نہ کر سکے۔

مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہے، کیسی ہے، خوش ہے یا نہیں۔ مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کچھ لوگ زندگی میں آ کر ہمیں بدل دیتے ہیں، اور پھر ہمیشہ کے لیے یاد بن جاتے ہیں۔

یہ کوئی محبت کی کامیابی نہیں… بلکہ ایک خاموش سی ناکامی ہے۔

اور شاید یہی زندگی ہے—سب کچھ کہنے کا موقع نہیں ملتا، اور جو دل میں رہ جائے وہ ہمیشہ کے لیے دل میں رہ جاتا ہے۔ 💔

Want your business to be the top-listed Business in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address

Johar Town B Block Lahore
Lahore
54782