Coding with Shahroz
21/10/2024
20 اکتوبر کو رات گئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور ہوا تو پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ہفتوں سے جاری اگر، مگر، کیونکہ اور چنانچہ کی گردان اور وسوسوں کی گرد بیٹھتی دکھائی دی۔
26ویں آئینی ترمیم کے نکات پر سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے لے کر منظوری تک تقریباً دو ماہ کے عرصے میں سیاستدانوں کی ملاقاتیں، تجاویز، اختلافات، پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، مسودے، روٹھنا منانا یہ سب کچھ شہہ سرخیوں میں زیر بحث رہا۔ تاہم اب ترمیم کی منظوری کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ اس تمام تر عمل سے حکومت اور اپوزیشن جماعتیں سیاسی طور پر کیا حاصل کر پائی۔
مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے درمیان دن میں کئی بار ملاقات کے مناظر ہوں، حکومتی وزرا کے ’نمبر گیم‘ پوری ہونے کے دعوے اور ’اتفاق رائے‘ پر بیان بازی ہو یا پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کے باوجود سفارشات پیش نہ کرنے کی بحث۔۔۔اس آئینی ترمیم کے لیے ہونے والی بیٹھکوں میں پارلیمان کی سب ہی جماعتیں پیش پیش دکھائی دیں۔
مگر یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس تمام تر ہلچل کے دوران سیاسی طور پر کس کے ہاتھ کیا آیا ؟ حکومت کو کتنا سمجھوتہ کرنا پڑا اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے کون سب کا منظور نظر رہا؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Culinary Team
Attire
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
54000