The Straight Path
ہم سے بشربن محمد نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بیان کیا‘ ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کردی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا حال بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔
صحیح البخاری حدیث نمبر 1418
06/06/2025
📌 ذی الحجہ کے دنوں میں ذکر کی اقسام میں سے سب سے خاص الخاص قسم جو ہے وہ تکبیرات ہیں۔
🔖 اور تمھیں کیا معلوم کہ تکبیرات کیا ہیں؟
• اے پریشان حال!
• اے غمزدہ انسان!
• اے اجر و ثواب میں رغبت رکھنے والے!
🔖 اے بندے اپنے تمام تر حالات کے ساتھ تمہارے سوا کون ہے جس کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ جان لے اللہ تعالی سب سے بڑا ہے۔
🔖 اور تمہیں پتہ چل جائے کہ اللہ اکبر کے کلمات تمہارے ساتھ کیا کریں گے۔
🌷 اللہ اکبر کے کلمات تمہارے دل کی بنجر زمین اور قحط سالی کے لئے سیرابی ہے اور دلوں کی قحط سالی اور ان کا بنجر ہونا کیا ہی زیادہ شدید ہے۔
🌷 اللہ اکبر یہ وہ میٹھے پانی کی سیرابی ہے اگر وہ زبان سے پہلے دل سے گزرے تو دل کی میل کچیل اور اس کے زنگ دھو دے گی، پھر پاکیزہ مکان پر چوکڑی جما کر بیٹھ جائے گی۔
🌷 اللہ اکبر اگر آپ اپنے غور و فکر کو موقع دیں کہ اس سے پوچھا جائے۔۔۔
• اور آپ جواب دیں اللہ سب سے بڑا ہے تو اللہ کس سے بڑا ہے؟
❣️ اللہ تمھاری پریشانیوں سے بڑا ہے۔
❣️ اللہ تمھارے خوف و خطرات سے بڑا ہے۔
❣️ اللہ تمھارے گناہوں سے بڑا ہے۔
❣️ اللہ تمھاری اطاعت سے بڑا ہے۔
❣️ اللہ تمھاری رغبت و دلچسپیوں سے بڑا ہے۔
🔖 اللہ سب سے بڑا ہے وہ ذات کہ جس کے ہاتھ میں تمہاری مصلحت و فائدہ ہے۔
• اور تم نے اس کے سائے میں اپنی امید کو چھپا رکھا ہے،
🔖 اللہ سب سے بڑا ہے اگر اللہ تمہارے لئے کسی چیز کا ارادہ کر لے تو وہ دوڑتی ہوئی تمہارے پاس آئے گی۔
🔖 اللہ سب سے بڑا ہے اس سے بڑا کہ وہ تمہیں دوسروں پر محتاج بنا کر نہ چھوڑ دے۔
• اللہ اس سے بڑا ہے کہ وہ تمھارے دل کے لئے اپنے سوا کوئی اور قبلہ مقرر کر دے حالانکہ تم اس کی مخلوق ہو۔
🔖 اللہ سب سےبڑا ہے کہ تمہاری وجہ سے نیکیوں کے موسم مقرر کئے گئے ہیں۔
• اور تمہاری خاطر ہی اجر و ثواب کو کئی گنا بڑھا دیا گیا ہے۔
🔖 اللہ سب سے بڑا ہے اگر تم اپنی حاجتوں اور ضرورتوں سے بےخبر ہو تو اللہ ان سے بے خبر نہیں ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔
06/06/2025
تکبیرات پڑھتے رہیں
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ،
واللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
وَلِلہِ الࣿحَمد
02/06/2025
29/05/2025
حسابِ عشق دیکھا ، عَجب دیکھا ، غضب دیکھا
سب نفِی ، تُجھے وَاحد ، خُود کو صِفر دیکھا
28/05/2025
رمضان کثرت سے ان دعاؤں کو پڑھتے رہیے جو بھی خواہشیں حاجتیں مشکلیں ہیں ان کو ذہن میں رکھیے اور ان کو پڑھتے رہیے ان شاءاللہ میرا اللہ آپ کو ہر الجھن،غم فکر، بے چینی کو سکون میں بدل دے گا ہر تنگی کو آسانی میں بدل دے گا اپکی دنیاو آخرت کی تمام دعائیں قبول ہوں گی بس ان اذکار سے تعلق بنالیں اور اس تعلق کو ٹوٹنے نہ دیں*
🌹🌹🌹💓💓💓
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ
’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت۔‘‘
سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ
’’پاک ہے اللہ عظمتوں والا اپنی تعریفوں کے ساتھ۔‘‘
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ
’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت، پاک ہے اللہ بہت عظمت والا۔‘‘
سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ
’’اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘
سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘
سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ
’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ
’’گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘
اَلْحَمْدُلِلّٰہ
’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ
’’اللہ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔‘‘
‘
َاللّٰہُ اَکْبَر
اللہ سب سے بڑا ہے
سُبْحَانَ اللّٰہِ
’’اللہ پاک ہے۔‘‘
اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
’’میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، وہ (اللہ) جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، کائنات کا نگران ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمۡ یَلِدۡ ۬ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ﴿۴﴾
’’اللہ تعالیٰ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘’’(آپ) کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدْ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدُ
’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جیسے تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقیناً تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جیسے تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقیناً تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔‘‘
حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
’’مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔‘‘
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ
’’اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد طلب کرتا ہوں
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ، وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ
’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی ذات کی رضا کے برابر، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔‘‘
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
’’میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے یقیناً میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، اَلْمَنَّانُ، یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ)*
’’اے اللہ! یقیناً میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا کوئی حصے دار نہیں، (تو) بے حد احسان کرنے والا ہے۔ اے آسمانوں اور زمین کو بے مثل پیدا کرنے والے، اے صاحبِ جلال اور عزت والے! اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنِّیْٓ اَشْھَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ*
’’اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔‘‘
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ
’’اے اللہ! میں پناہ چاہتا ہوں تیرے ذریعے سے پریشانی اور غم سے، عاجز ہوجانے اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘
اَللّٰھُمَّ لَا سَھْلَ اِلَّا مَا جَعَلْتَہٗ سَھْلًا وَّاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ اِذَا شِئْتَ سَھْلًا
’’اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں ہے مگر وہی جسے تو آسان کردے اور تو مشکل کام جب چاہے، آسان کردیتا ہے۔‘‘
اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّیْ لَآ اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘
حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ
’’ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور (وہ) بہترین کارساز ہے۔‘‘*
جانتے ہیں "وٙاجبُرنِی" کا مطلب کیا ہوتا ہے؟
جب دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں نا،
تو اس دعا میں کہتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَارْفَعْنِیْ
جب کبھی انسان کو کہیں چیرا لگ جائے،
گرم خون تیزی کے ساتھ بھل بھل بہہ رہا ہو،
شدت سے رگوں کو کاٹ دینے والا درد ہو رہا ہو تو ایسے میں اگر کوئی اس جلتے ہوئے زخم پر ٹھنڈے مرہم کا پھاہا رکھ دے
تو اس مرہم رکھنے کے عمل کو کہتے ہیں وٙاجبُرنِی
جب بندہ اللہ سے دونوں سجدوں کے درمیان والی پوزیشن میں بیٹھ کر دل سے کہتا ہے کہ "واجبُرنِی"
تو اس وقت وہ اپنی جسمانی، ذہنی اور روحانی ہر طرح کی شکستگی کا مرہم الله سے مانگ رہا ہوتا ہے،
انسان کے سارے زخموں کےمرہم نماز میں موجود ہوتے ہیں۔
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ❤️
حالات کوئی بھی ہوں
شکر ہمیشہ شِکوے سے بہتر ہوتا ہے
اللّٰہ تعالیٰ کو شکر کرنے والی زبان پسند ہے ۔۔
شکر ادا کریں اپنی نعمتوں کی بقاء کے لیئے کیونکہ ناشکری عذاب ہے ۔
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعَالَمِیۡنَ۔۔۔🤲
اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں
تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں___
تو ہمیں شعور عطاء فرما کے ہم
راہ راست پہ چل پائیں ___
ہماری آنکھوں سے گناہوں کی پٹی اتار دے
ہماری اصلاح فرما___
اےہمارے رب
روز محشر ہمیں اپنے غضب سے بچا
ہم پر رحم فرما___
آمین یا رب العالمین🤲
اپنے خلاف بات خاموشی سے سن لیں
اور جواب دینے کا حق وقت کو دیں
یقین مانیں وقت سے بہتر جواب کوئی
نہیں دے سکتا۔۔
(حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ)
”ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے۔“
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے یہ کلمہ کہا تھا۔ (صحيح البخاري : ٤٥٦٣)
جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کو خبر ملی کہ قریش نے اُن سے لڑائی کیلیے ایک بڑا لشکر تیار کر لیا ہے تو انہوں نے یہی کلمہ کہا تھا۔ (سورة آل عمران : ١٧٣، صحيح البخاري : ٤٥٦٣)
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ صور کا فرشتہ صور پھونکنے کیلیے اس پر منہ لگائے ہوئے اللہ کے حکم کا منتظر ہے۔ یہ سن کر صحابہ کرام کو خوف لاحق ہوا اور انہوں نے پوچھا کہ ہمیں کیا پڑھنا چاہیے؟! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا" - ”ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے، ہمارا اعتماد اللہ ہی پر ہے۔“ (صحيح ابن حبان : ٨٢٣، مسند أبي يعلى : ١٠٨٤)
نبی کریم ﷺ کی ایک طویل حدیث ہے جس میں ماں کی گود میں کلام کرنے والے بچوں کا ذکر ہے۔ اس میں ایک باندی کا ذکر ہے جسے لوگ ناحق پیٹ رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ تو چور اور بدکارہ ہے۔ اور وہ آگے سے یہی کہتی تھی : حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ! (صحيح مسلم : ٢٥٥٠)
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قافلے سے پیچھے رہ گئیں اور سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے انہیں سواری پر سوار کر لیا تو انہوں نے یہی کلمہ کہا تھا۔ (تفسير الطبري : ١٩٤/١٧)
امام مالک رحمہ اللہ (١٧٩ھ) کی انگوٹھی پر (حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ) نقش تھا۔ انہیں دیکھ کر ان کے شاگرد مطرف بن عبداللہ الیساری رحمہ اللہ (٢٢٠ھ) نے بھی اپنی انگوٹھی پر یہی نقش کروا لیا تھا۔ (طبقات ابن سعد : ٥٧٠/٧، ٥٧١/٧)
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (٧٩٥ھ) فرماتے ہیں : "وَهِي كلمة الْمُؤْمِنِينَ" - ”یہ اہلِ ایمان کا کلمہ ہے۔“ (شرح حديث لبيك اللهم لبيك : ١٢٢)
پس ہر طرح کے خوف، گھبراہٹ، ظلم اور مشکل کے موقع پر یہ کلمہ (حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ) کہنا اہلِ ایمان کا شعار ہے۔ یہ توکل اور اللہ پر اعتماد کا کلمہ ہے۔ شیخنا صالح سندی حفظہ اللہ فرماتے ہیں : ”مشکل اوقات میں یہ کلمہ کہنے کی تاثیر حیرت انگیز ہے، اور یہ بات وہی جانتا ہے جس نے صدق کے ساتھ یہ کلمہ کہا ہو۔“
Click here to claim your Sponsored Listing.