Anmool Motti

Anmool Motti

Share

18/04/2020

تصوف؟

جنید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:= تصوف کی بناء 8 خصائل پر ہیں
(جو8 پیغمبروں کی اقتداءہے)

1۔سخاوت جس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو فدا کیا۔

2۔رضا جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کہ انہوں نے برضائے خداوندی اپنی جان اللہ کو پیش کی۔

3۔صبر جس میں حضرت ایوب علیہ السلام کہ انہوں نے غیرت خداوندی پر صبر کیا اور کیڑوں کی مصیبت برداشت کی۔

4۔اشارات جس میں حضرت ذکریا علیہ السلام کہ جن کے لئے اللہ نے فرمایا (ال عمران:41)"تین دن لوگوں سے بات مت کرو مگر اشارے سے۔"

5۔غربت جس میں حضرت یحی علیہ السلام کہ وہ اپنے وطن میں بھی اپنوں سے بےگانہ تھے۔

6۔صوف پوشی جس میں حضرت موسی علیہ السلام کہ ان کا تمام لباس اون کا تھا۔

7۔سیر جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کہ وہ راہ خدا میں اتنے مجرواورتنہا تھے کہ سامان زندگی میں سے صرف پیالہ اور کنگھی رکھتے تھے اور جب دیکھا کہ ایک آدمی ہاتھ سے پانی پی رہا ہے تو پیالہ پھینک دیا اور جب دیکھا کہ ایک آدمی انگیوں سے بال درست کر رہا ہے تو کنگھی بھی پھینک دی۔

8۔فقر جس میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہ جن کو اللہ نے روئے زمین کے سب خزانوں کی چابیاں عطا فرمائیں اور حکم دیا کہ محنت و مشقت چھور کر شان و شوکت سے بسر کرو مگر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عرض کی اللہ میں خزانے نہیں چاہتا۔مجھے ایک روز سیر ہو کر کھانے کو دے اور دوسرے دن بھوکا رکھ۔
یہ آٹھ اصول راہ طریقت میں بہترین ہیں۔

(کشف المحجوب صفحہ 90۔)

05/04/2020

جب حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ ﷲ علیہ نے دعا کی کہ اے خدا شمس تبریز کا وقت آخر معلوم ہوتا ہے۔ میرے سینے میں آپ کی محبت کی آگ کی جو امانت ہے کوئی بندہ ایسا عطا فرما کہ اس کے سینے میں امانت کو منتقل کردوں، کوئی ایسا سینہ عطا کر دے جو اس قیمتی امانت کا اہل ہو، الہام ہوا کہ "اے شمس الدین ! قونیہ جاؤ، میرا ایک بندہ جلال الدین رومی ہے میری محبت کی آگ کی اس امانت کو جو زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہے اس کے سینے میں منتقل کردو، اس کا سینہ اس کے قابل ہے۔ اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ امانت زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان نے انکار کر دیا تھا۔ زمین و آسمان جیسی عظیم القامت مخلوق نے جن امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا، ﷲ کے عاشقوں کے دل نے اسے قبول کرلیا جو ڈیڑھ چھٹانک کا ہے مگر اس کو ڈیڑھ چھٹانک کا نہ سمجھو۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں ؎

در فراخ عرصۂ آں پاک جاں
تنگ آید عرصۂ ہفت آسماں

ﷲ والوں کی جانوں میں، ان کے قلوب میں اتنا پھیلاؤ اتنی وسعت ہے کہ ساتوں آسمان کی وسعت اس کے سامنے تنگ ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ ﷲ کے خاص بندے ہیں۔ ﷲ ان کے قلب میں ایسی وسعت پیدا کردیتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے قیدی معلوم ہوتے ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Kasur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Kasur