Raja Shahid Rashid
13/05/2026
Great officier
#ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس آزاد جموں وکشمیر #عرفان مسعود کشفی صاحب
#ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس آزاد جموں و کشمیر، عرفان مسعود کشفی ، ایک ایسا نام جو جرات، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کی پہچان بن چکا ہے۔
آپ نے ہمیشہ محکمہ پولیس کا نام روشن کیا اور اپنی بہترین کارکردگی سے ثابت کیا کہ محنت، بہادری اور خلوصِ نیت ہی اصل کامیابی ہے۔
#اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا آپ کی صلاحیتوں، وژن اور عالمی معیار کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بطور ایس ایس پی مظفرآباد، آپ نے جرات و بہادری کی ایسی مثالیں قائم کیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
#آپ نہ صرف ایک باکمال آفیسر ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے حوصلے، فرض شناسی اور حب الوطنی کی روشن علامت بھی ہیں۔
#اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں، عزت اور بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین
07/05/2026
#سیکشن 169 کی وضاحت
#سیکشن 169 ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر دورانِ تفتیش کسی ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کیلئے خاطر خواہ شواہد موجود نہ ہوں یا مزید حراست کی ضرورت محسوس نہ ہو تو اسے رہا کر دیا جائے، تاہم یہ رہائی حتمی بریت تصور نہیں ہوتی کیونکہ کسی بھی ملزم کو مکمل طور پر بری کرنے کا اختیار صرف #عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ پولیس رولز 1934 کے مطابق تفتیشی افسر پر لازم ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور قانون کے مطابق تفتیش کرے اور اگر شواہد ناکافی ہوں تو وہ اپنی رپورٹ میں ملزم کو بے گناہ یا غیر ملوث قرار دیتے ہوئے سیکشن 169 کے تحت ریلیف تجویز کر سکتا ہے یا اسے چالان کے کالم نمبر 2 میں شامل کر سکتا ہے۔
#تاہم پولیس کی یہ رائے عدالت پر لازم نہیں ہوتی کیونکہ عدالت سیکشن 173 ضابطہ فوجداری کے تحت پیش کیے گئے تمام ریکارڈ، شواہد اور گواہوں کا آزادانہ جائزہ لیتی ہے۔ اگر جج پولیس کی رائے سے اتفاق کرے تو ملزم کو مقدمہ سے خارج یا ڈسچارج کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر عدالت یہ سمجھے کہ بادی النظر میں جرم کے شواہد موجود ہیں یا مزید ٹرائل ضروری ہے تو عدالت ملزم کو طلب کر سکتی ہے، وارنٹ جاری کر سکتی ہے اور مقدمہ چلانے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
#پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ متعدد فیصلوں میں یہ اصول واضح کر چکی ہے کہ تفتیشی افسر کی رپورٹ صرف ایک رائے ہوتی ہے جبکہ اصل فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ اسی لئے اگر بعد میں نئے شواہد سامنے آ جائیں تو پولیس مزید تفتیش کر سکتی ہے، ضمنی چالان پیش کیا جا سکتا ہے اور پہلے رہا ہونے والا ملزم دوبارہ مقدمہ میں شامل بھی ہو سکتا ہے۔
#لہٰذا قانون کی رو سے سیکشن 169 کے تحت پولیس صرف رہائی کی سفارش یا عارضی ریلیف دے سکتی ہے جبکہ حتمی فیصلہ اور بریت کا اختیار ہمیشہ عدالت کے پاس ہی رہتا ہے۔