Muhammadi Colony
01/07/2026
محمدی کالونی کے تمام رہائشی ہوشیار رہیں۔
علاقے میں چوری اور موبائل چھیننے کی وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ آج بروز بدھ مل تقریباً عصر کے بعد شام 5:30 بجے کے آس پاس عمیر بلوچ (شاہ نیٹ والے) کے دفتر کے قریب ایک انٹرنیٹ کمپنی کا ورکر انٹرنیٹ ٹھیک کرنے آیا ہوا تھا۔ اسی دوران دو موٹر سائیکل سوار افراد نے اس سے موبائل فون اور گاڑی کی چابی چھین لی اور فرار ہوگئے۔
دونوں افراد نے کالی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جبکہ پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے کیپ بھی پہنی ہوئی تھی۔
اطلاع کے مطابق ملزمان محمدی مسجد اور لیاری ایکسپریس وے کی طرف دو چکر لگائے اور واردات کے بعد تین ہٹی کی جانب فرار ہوگئے۔
تمام اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ اپنے گھروں، اہلِ خانہ اور آنے والے مہمانوں کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں اور اپنے اردگرد کے ماحول پر خصوصی نظر رکھیں۔ خاص طور پر اپنے مہمانوں کو ضرور آگاہ کریں، کیونکہ باہر سے آنے والے لوگ اکثر علاقے کے مقامی افراد کو نہیں جانتے۔
اگر کسی جگہ واردات ہوتی نظر آئے اور ممکن ہو تو محفوظ فاصلے سے ان کی تصویر یا ویڈیو بنا لیں تاکہ بعد میں مؤثر کارروائی کرنے میں مدد مل سکے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ڈاکو یا واردات میں ملوث شخص کو پکڑنے کی کوشش کرے تو فوراً اس کی مدد کریں اور اس کا ساتھ دیں، تاکہ آئندہ کے لیے چوری اور ڈکیتی کا راستہ روکا جا سکے۔ کیونکہ اگر آج ہم سب نے مل کر احتیاط اور تعاون نہ کیا تو خدانخواستہ کل ہم خود یا ہمارے عزیز و اقارب بھی ایسی وارداتوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔
یکم جولائی 2026
یو سی 7، لیاقت آباد ٹاؤن میں عبید چکن کے قریب محمدی کالونی اور الیاس گوٹھ کی پانی کی لائن میں گزشتہ تین سال سے جاری لیکیج کے مسئلے کے حل کے لیے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا گیا۔ اس پرانی لیکیج کے باعث علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار تھے اور اس حوالے سے متعدد شکایات بھی درج کروائی گئی تھیں۔
واٹر بورڈ کے ایکس ای این جناب عامر صاحب کی ہدایت پر لیکیج بند کرنے اور پانی کی لائن کی مرمت کا کام شروع کیا گیا، جو واٹر بورڈ انتظامیہ، پاکستان پیپلز پارٹی PS-127 کے جنرل سیکرٹری جناب جاوید مرید بکک، پاکستان پیپلز پارٹی یو سی 7 کے جنرل سیکرٹری جناب امان بلوچ صاحب، اور الیاس گوٹھ کے سماجی کارکن جناب صدام بلوچ صاحب کی مسلسل کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
علاقہ مکینوں نے اس اہم عوامی مسئلے کے حل کے لیے کام کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، واٹر بورڈ حکام اور سماجی کارکنوں کی خدمات کو سراہا۔ اہلِ علاقہ نے امید ظاہر کی کہ لیکیج کا مسئلہ جلد مکمل طور پر حل کر لیا جائے گا تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
الیاس گوٹھ، سی ون ایریا، یوسی میں لیاقت آباد ٹاؤن کے سیوریج بورڈ کے ایکسین جناب ظہیر صاحب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کنڈی مین موقع پر بھجوا دیے۔
یہ گٹر گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بند تھا، جبکہ علاقائی اداروں کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی تھی، جس کے باعث اہلِ علاقہ کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
ایکسین ظہیر صاحب نے مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے اور گٹر کی صفائی کے لیے اپنے کنڈی مین روانہ کر دیے۔
الیاس گوٹھ کے مکینوں نے بروقت کارروائی پر ایکسین ظہیر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔
🚨 الیاس گوٹھ سی ون ایریا، یو سی 7 لیاقت آباد ٹاؤن کراچی کے مکین گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے شدید سیوریج کے مسئلے کا شکار ہیں۔
منگل 30 جون 2026 دوپہر 3:30۔
انجمن والی گلی، آزاد پلازہ کے سامنے سیوریج لائنیں مکمل طور پر بلاک ہیں، مگر بار بار شکایات کے باوجود نہ سیوریج بورڈ کا کوئی عملہ یہاں پہنچا اور نہ ہی یو سی کا کوئی نمائندہ اس مسئلے کو حل کرنے آیا۔
گندگی اور بدبو کی وجہ سے اہلِ علاقہ کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اگر فوری طور پر صفائی نہ کی گئی تو یہ گندا پانی قبرستان والے راستے تک پہنچ جائے گا، جبکہ قریبی مسجد میں آنے والے نمازی بھی شدید متاثر ہوں گے۔
اہلِ علاقہ کی متعلقہ حکام، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور یو سی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ فوری نوٹس لے کر سیوریج لائنوں کی صفائی کروائی جائے۔
29/06/2026
محمدی کالونی، سی ون ایریا، یو سی 7، لیاقت آباد ٹاؤن کراچی کا ایک بڑا حصہ گزشتہ 25 سال سے میٹھے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ علاقہ گجر نالے اور لیاری ایکسپریس وے سے متصل ہے جہاں کے رہائشی مسلسل بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار ہیں۔
علاقے کے رہائشی گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی مدد آپ کے تحت پانی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ 1999 سے 2004 تک لوگوں نے اپنے گھروں میں بورنگ کروائیں اور انہی کے ذریعے پانی کی ضروریات پوری کرتے رہے۔ بعد ازاں جب زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہوئی اور گھریلو بورنگیں خشک ہونا شروع ہوئیں تو 2005 سے 2016 تک علاقے کے انہی مکینوں نے گلیوں میں مل کر اجتماعی بورنگ کروائیں تاکہ پانی کی فراہمی جاری رہ سکے۔ مگر جب کالے پائپوں کے ذریعے غیر قانونی پانی فروخت کرنے والے مافیا نے ایک ہزار فٹ سے زائد گہرائی تک بورنگ کرنا شروع کی تو علاقے کی مقامی بورنگیں مکمل طور پر ناکارہ اور خشک ہوگئیں۔ اس مجبوری کے تحت انہی رہائشیوں نے 2016 سے آج تک کالے پائپوں کے ذریعے فراہم کیے جانے والے پانی کے کنکشن لینے شروع کیے، کیونکہ ان کے پاس پانی حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا تھا۔
یہ پانی بھی کبھی مستقل بنیادوں پر فراہم نہیں کیا گیا۔ اکثر کئی کئی دن سپلائی بند رہتی، مختلف بہانوں سے پانی روکا جاتا اور وقتاً فوقتاً کنکشن بھی کاٹے جاتے رہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان کالے پائپوں کے تمام کنکشن مکمل طور پر منقطع کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد پورا علاقہ شدید پانی کی قلت کا شکار ہو چکا ہے اور لوگ پینے کے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔
اسی دوران جب لوگوں نے متعلقہ عہدے داروں اور واٹر بورڈ کے دفاتر کے ہر دروازے پر دستک دی اور ہر ممکن جگہ اپنی فریاد پہنچانے کی کوشش کی تو کہیں سے کوئی شنوائی نہ ہوئی، کیونکہ اقتدار پر ایسے لوگوں کا قبضہ تھا جو اپنی مرضی سے اپنے ہی لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے عادی تھے۔
یہ وہی علاقہ ہے جہاں انتخابات کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے کارنر میٹنگز کیں، بڑے بڑے وعدے کیے، اعلیٰ عہدیداران آئے اور یقین دہانیاں کرائیں کہ “چاہے ہم جیتیں یا ہاریں، آپ کے مسائل حل کریں گے”۔ مگر الیکشن ختم ہوتے ہی نہ کوئی نمائندہ واپس آیا اور نہ ہی کسی نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا۔
2024 اور 2025 کے بلدیاتی اور ضمنی انتخابات کے دوران علاقے کے لوگوں میں ایک بار پھر امید جاگی کہ شاید اس بار ان کے پانی کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مقامی سیاسی عہدیداران اور متعلقہ افراد کی جانب سے عوام کو یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ پانی کا مستقل حل نکالا جائے گا اور نئی لائن کے ذریعے علاقے تک باقاعدہ فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اسی امید میں علاقے کے انہی مکینوں سے کھدائی، لائن بچھانے اور دیگر کاموں کے نام پر اچھی خاصی رقم بھی وصول کی گئی۔ کچھ جگہوں پر لائنیں بچھا کر اور کھدائی کر کے وقتی طور پر کام کا تاثر دیا گیا، مگر حقیقت میں پانی آج تک علاقے میں نہ پہنچ سکا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی عہدیداران مسلسل بڑے بڑے دعوے کرتے رہے اور عوام کو جھوٹی تسلیاں دیتے رہے، مگر عملی طور پر وہ اس بنیادی مسئلے کو حل کروانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ کام کروانے کی نہ صلاحیت دکھائی گئی اور نہ سنجیدگی، جبکہ علاقے کے بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔
علاقے میں پانی کی فراہمی کے لیے نئی لائن بچھائی گئی، مگر واٹر بورڈ کے عملے کی ناقص منصوبہ بندی اور غفلت کے باعث لائن کو تکنیکی معیار کے مطابق تقریباً تین فٹ گہرائی میں ڈالنے کے بجائے صرف ایک سے ڈیڑھ فٹ گہرائی میں بچھایا گیا، جس کی وجہ سے پانی کا مناسب پریشر ممکن نہ ہو سکا۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ اس نئی لائن کو اصل سپلائی لائن سے مکمل طور پر منسلک بھی نہیں کیا گیا۔
علاقے میں مزید تقریباً دو سے تین سو فٹ نئی پانی کی لائن بچھانے کی بھی اشد ضرورت ہے، تاکہ پانی بہتر انداز میں علاقے تک پہنچ سکے اور پورے علاقے میں مناسب طریقے سے سرکولیٹ ہو سکے۔ اگر یہ اضافی لائن بچھا دی جائے تو پانی کی فراہمی میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔
دوسری جانب پرانی بوسیدہ لائنیں آج بھی جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی اور لیکیج کا شکار ہیں، جن میں اکثر سیوریج کا گندا پانی شامل ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف پانی کے پریشر کو کم کیا بلکہ عوام کی صحت کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
علاقہ مکین مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1۔ فوری طور پر پانی کی مستقل اور قانونی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
2۔ نئی پانی کی لائن کو تکنیکی معیار کے مطابق درست کیا جائے۔
3۔ مزید دو سے تین سو فٹ نئی لائن بچھا کر پانی کی مناسب سرکولیشن یقینی بنائی جائے۔
4۔ بوسیدہ اور لیکیج والی پرانی لائنوں کو فوری تبدیل کیا جائے۔
5۔ سیوریج اور صاف پانی کی لائنوں کو الگ اور محفوظ بنایا جائے۔
6۔ منتخب نمائندے فوری طور پر علاقے کا دورہ کریں اور عوام کو جواب دیں۔
اگر اب بھی اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو علاقہ مکین احتجاج، میڈیا مہم اور قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
29/06/2026
آج ہمارے علاقے الیاس گوٹھ، سی ون ایریا، لیاقت آباد ٹاؤن کے مرحوم جلال باغ والے کے *بیٹے* کا
اکبر کے *بھائی*
*عبدالصمد* کا انتقال ہوگیا ہے
اللہ انکی مغفرت فرمائے
لواحقین کو صبر عطا فرمائے
ایک بار سورہ فاتحہ
تین بار سورہ اخلاص اول آخر درود کے ساتھ ایصال کردیں
اے دنیا چند روچے گِ خدایا یاد کنِ براتاں
*نماز جنازہ : ظہر کی نماز کے بعد الیاس گوٹھ میں ہوگا*
۲۸ جون 2026 بروز پیر
۱۳ محرم ۱۴۴۸
Aaj Humare Elaqe ke Marhoom Jalal bagh wale ke *Bete* ka
Akbar ke *Bhai*
*Abdus Samad* ka
intiqal huwa hy
ALLAH inki magfirat farmae Lawaheqeen ko Sabar At a farmae
Aik bar Surah Fatiha
3 bar Surah iklas Awal Aakir Durood ke saath parhkar Esal karein
Aye Dunya Chand Rochay Khudaya yaad Kane birataah
*Namaze Janaza Zuhar ki namaz ke bad ILYAS Goth me hoga*
Date : 29 june 2026 Peer monday
13 - Muharram -1448
*Sunniyo ka Goth ILYAS Goth*
28/06/2026
کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری کمی کی جائے
کراچی کے عوام عرصہ دراز سے مہنگی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ جب بھی پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں میں 20 سے 50 روپے اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز فوری طور پر کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 100 سے 150 روپے تک کم ہو جاتی ہیں تب بھی کرایوں میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
یہ عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ایک بار بڑھایا گیا کرایہ مستقل کر دیا جاتا ہے اور غریب و متوسط طبقہ روزانہ اس اضافی بوجھ کو برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں واضح کمی کروائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
حکومت سے گزارش ہے کہ:
1۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا باقاعدہ نظام بنایا جائے۔
2۔ پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے مطابق کرایوں میں بھی فوری کمی کی جائے۔
3۔ زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے۔
4۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے موثر نظام قائم کیا جائے۔
اگر حکومت اس مسئلے پر فوری ایکشن نہیں لیتی تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حکومت بھی اس ناانصافی کی ذمہ دار ہے۔ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اس لیے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
28/06/2026
اب K-Electric نے محرم الحرام کے دوران شام کے اوقات کی لوڈشیڈنگ تو ملتوی کردی تھی، مگر اب لگتا ہے کہ 11 محرم کے بعد وہی لوڈشیڈنگ اضافی اور غیر اعلانیہ بندشوں کی صورت میں پوری کی جارہی ہے۔
آج صبح 7 بجے بجلی چلی گئی۔ ایپلیکیشن پر چیک کیا تو حسبِ معمول یہی لکھا تھا کہ “خرابی ہے، جلد بحال کردی جائے گی۔”
ان ہی حرکتوں کی وجہ سے ہم جیسے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے اور اسٹار کسٹمرز بھی میٹر کٹوانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ واقعی بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر الٹا اس کی ذمہ داری بھی عام صارفین پر ڈال دی جاتی ہے۔
27/06/2026
🧹 علاقے کی صفائی میں اپنا کردار ادا کریں — اضافی کچرا گاڑی میں ڈالنے سے گریز کریں
تمام اہلِ محلہ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ صفائی کے اوقات میں تعاون کا مظاہرہ کریں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب صفائی عملہ گلیوں سے کچرا اٹھا رہا ہوتا ہے تو بعض افراد گھروں کا اضافی یا بھاری کچرا بھی اسی گاڑی میں ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے گاڑی اپنی گنجائش سے زیادہ بھر جاتی ہے۔
یاد رکھیں کہ صفائی والی گاڑی محدود مقدار میں کچرا اٹھانے کے لیے مختص ہوتی ہے۔ جب اس میں غیر ضروری طور پر زیادہ سامان ڈال دیا جاتا ہے تو نہ صرف عملے کو دشواری پیش آتی ہے بلکہ وہ کچرا بھی وہیں رہ جاتا ہے جو صفائی کے دوران بعد میں اٹھانے کے لیے جمع کیا گیا ہوتا ہے۔
لہٰذا گزارش ہے کہ گھریلو کچرا صرف مقررہ کچرا پوائنٹ یا کچرا کنڈی میں ہی ڈالیں، جبکہ بڑے سائز کا سامان یا بھاری فضلہ صفائی کی گاڑی میں ڈالنے سے گریز کریں۔
اپنے علاقے کی صفائی اور خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ اور صفائی عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Karachi