Dar ul Uloom Faiz ur Rasool

Dar ul Uloom Faiz ur Rasool

Share

01/05/2026

11/03/2023

*ساری عمر دوائیں کھانےکانام علاج نہیں*

ماضی میں اگر کوٸی شخص نشہ کاعادی ہوجاتاتھا تو لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔لیکن نصف صدی گزرنے کے بعد اب حالات زمانہ میں ایسی تبدیلی اور ترقی ہوٸی کہ وہی نشہ جو شراب اور ہیروئین کی شکل میں تھا اب کیپسول اور گولیوں کی شکل میں میڈیسن کےنام پرآگیا۔پہلے نشہ خریدنا اور استعمال کرنا مشکل تھا اب خریدنا اور استعمال کرنا دونوں آسان ہو گئے ہیں۔مثلاجسے گولی کے بغیر نیند نہیں آتی وہ بظاہر تو یہی کہتا ہے کہ میں نیند کی ایک گولی کھالوں تو سکون سے نیند آتی ہے اور کئی سالوں سے کھا رہا ہوں اس سے میں بہت پرسکون ہوں اسی طرح نشہ کرنے والےبھی کہتے ہیں جب تک ہم یہ نشہ آور چیز نہ کھائیں اس وقت تک ہمیں سکون نہیں آتا۔بالکل اسی طرح درد کےمریض کو درد کی دوا کا نام دے کر نشہ دیاجارہاہے۔جونہی وہ دوا کھاتا ہے اس کا درد کہیں غائب ہو جاتا ہے۔جب اس دوا کا نشہ ختم ہو جاتا ہے تو دوبارہ کھا لیتا ہے۔اور پھر جوں جوں وقت گزرتا ہے۔نشے کی مقدار بڑھا دی جاتی ہے۔جس طرح شروع میں ایک چاول افیون کا نشہ شروع کرنے والے کی خوراک دو تین سال بعد پندرہ سولہ چاول تک پہنچ جاتی ہے اسی طرح نشہ آور دواؤں کی مقدار بھی بڑھانی پڑتی ہے پہلے اگر ایک گولی سے نیند آتی ہے یا ایک گولی سے بلڈ پریشر نارمل ہو جاتا تھا اب دو تین کھاتے ہیں تو اثر ہوتا ہے اس طرح زندگی کی گاڑی اور نشہ آور دوا دونوں چلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ مریض زندگی کی بازی ہار جا تا ہے۔ہر چوتھا پانچواں شخص کسی نہ کسی مرض کی دوائیں لمبے عرصے سے کھا رہا ہے ہر وقت دوائیں اس کی جیب میں ہوتی ہر گھر میں ایک دوافراد دوائیاں کھا رہے ہیں۔غذائی طور پر جتنا خرچ ہوتا ہے اس کا چوتھا حصہ لازمی دواؤں پر خرچ ہو رہا ہوتا ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی فرد خطرناک مرض میں مبتلا ہے تو یہ خرچہ بڑھتے بڑھتے غذائی ضروریات سے بھی آگے نکل جاتا ہے یعنی اس قدر کھانے پینے پر خرچ نہیں ہوتا جتنا دواؤں پر خرچ ہوتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ بس ایک خوراک کھاتے ہی اسے آرام آ جائے اگرچہ اسےمعلوم بھی ہو کہ فوری اثر دوائیں نقصان دہ ہوتی ہیں۔کون ایسا شخص ہے جسے ان دواؤں کے نقصان کے متعلق معلوم نہیں؟لیکن اس کے باوجود وہ یہ چاہتا ہے کہ بس ادھر دوا جسم میں جائے اور ادھر فائدہ شروع ہو جائے خواہ مرض کتنا ہی پرانا اور سیریس ہو۔بس ایک ہی خوراک سے فرق پڑتا چاہئے۔ تو عوام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کمپنیوں نے بھی نشہ کا سہارا لیا۔ ہماری دیسی دوائیں دو دن کھانے کے بعد مریض کہتے ہیں کہ دودن ہو گئے ابھی تک میرا مرض ختم نہیں ہوا۔لیکن نشہ آور دوائیں جن کی ایک ہی خوراک فورا مرض کودبادیتی ہے بے شک ساری زندگی کھانی پڑے وہ قبول ہے۔دراصل مریض اپنی مرض کا علاج کرنا ہی پسند نہیں کرتا بس فوری فائدہ کے چکر میں ساری عمر دوائیں کھاتا رہتا ہے۔دو تین ماہ مرض کا علاج کرنا برداشت نہیں کرتا۔مثلا شوگر کے مریض ہروقت اپنی دوا جیب میں رکھتے ہیں زیادہ بگڑ نے والے صبح دو پہر شام انسولین کے انجیکشن لگاتے ہیں حیرانگی اور افسوس اس بات کا ہے کہ جب کسی مریض کو کہا جائےکہ تین چار ماہ دیسی دواؤں سے شوگر کا علاج کیا جائے تو مرض مکمل ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ آج دوا کھاؤں تو آج ہی فائدہ ہونا چاہئے۔بس اسی آج کےوقتی فائدہ کے لئے ساری عمر دوائیں کھاتا رہتا ہے۔پھر دو چار سال بعد جب دوائیں کھا کر تھک جاتاہےاور مرض بڑھتاہی جاتاہے،جسمانی قوتیں بھی کمزور ہوجاتی ہیں تو دیسی علاج یاد آجاتاہے۔دواٸیں کھا کھا کر اعضا ٕ اس قدر متاثر ہو چکے ہوتے ہیں کہ مرض کے علاج سے ان دواؤں کےاثرات کا خاتمہ مشکل ہوجاتاہے۔اس طرح بے شمار مریض ہیں جو ہر روز سالوں سے دوائیں کھا رہے ہیں۔سالہا سال دوائیں کھانا کامیاب علاج نہیں بلکہ ناکامی ہے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Darul Uloom Faiz Ur Rassol Mohala Mustafabad Fateh Jang Rod Tarno
Karachi
45230