Noman Mithani Posts
عنوان: بادشاہ اور فقیر
تحریر: نعمان مٹھانی (انڈا موڑ کراچی)
کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک بادشاہ تھا۔
مگر ایسا بادشاہ جس کے پاس نہ سلطنت، نہ وزیر، نہ وزیرِاعظم — صرف ایک پرانی سی جھونپڑی، ایک بوسیدہ بستر، اور ایک پلیٹ میں کل کے چاول۔
اس کے برابر میں رہتا تھا ایک فقیر رہتا تھا لیکن ایسا فقیر جس کا اپنا محل تھا! ہاں جی، چھت بھی پکی، دروازے بھی شیشے والے، اور ف*ج میں ہمیشہ دہی ٹھنڈی۔
فقیر کو بادشاہ کی جھونپڑی سے بڑی تکلیف تھی۔ "میرے محل کے ساتھ یہ جھونپڑی؟ یہ تو میری پرسنالٹی خراب کر رہی ہے!" وہ روز سوچتا۔
فقیر نے کئی حربے آزمائے:
ایک دن جھونپڑی کے سامنے خوشبو والا اسپرے مارا، کہ شاید بادشاہ بھاگ جائے۔
دوسرے دن اس کے دروازے پر ’’فروخت ہوچکی‘‘ کا بورڈ لگا دیا۔
لیکن اسے بھی کوئی کام نہ چلا
تیسرے دن یوٹیوب پر "جھونپڑی کیسے ہٹائیں" لکھا، لیکن سگنل ہی نہیں آیا۔
پھر ایک دن، فقیر نے بڑا پلان بنایا — جھونپڑی کو آگ لگا دی!
فقیر خوش! ناچتا پھرتا رہا: "اب میری شان میں کوئی خلل نہیں!"
لیکن، قسمت کی چال کچھ اور تھی۔
جھونپڑی سے آگ نکلی، اور سیدھی محل کو لپیٹ میں لے لیا۔
جھونپڑی جلی، محل جلا، دونوں جل کے خاک ہو گئے۔
اب بادشاہ بھی کنگلا، فقیر بھی بے گھر — دونوں سڑک پر، ایک ہی بینچ پر بیٹھے چنے کھا رہے تھے۔
وقت گزرتا گیا، دوست بن گئے۔
ایک دن فقیر نے پوچھا:
"تمہارا نام بادشاہ خان کس نے رکھا؟"
بادشاہ بولا:
"میرے دادا نے۔"
پھر بادشاہ نے پوچھا:
"تمہارا نام فقیر الرحمن کس نے رکھا؟"
فقیر بولا:
"میرے ابا نے۔"
دونوں خاموش ہو گئے۔
پھر زور سے ہنسنے لگے۔
کیونکہ پتا چلا کہ...
اصل میں صرف نام کے بادشاہ اور فقیر تھے
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكَاتُه*
*صحيح البخاري، كتاب الزكاة # 1413*
*كتاب الزكاة : زکوۃ کے احکام و مسائل کا بیان*
*
*عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ دو شخص آئے ‘ ایک فقر و فاقہ کی شکایت لیے ہوئے تھا اور دوسرے کو راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت تھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے تو بہت جلد ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا۔ (اور اسے راستے میں کوئی خطرہ نہ ہو گا) اور رہا فقر و فاقہ تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک (مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے یہ حال نہ ہو جائے کہ) ایک شخص اپنا صدقہ لے کر تلاش کرے لیکن کوئی اسے لینے والا نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہ ہو گا اور نہ ترجمانی کے لیے کوئی ترجمان ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں بھیجا تھا۔ پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا پھر بائیں طرف دیکھے گا اور ادھر بھی آگ ہی آگ ہو گی۔ پس تمھیں آگ سے بچنا چاہیے خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے ( ہی کا صدقہ دے کر اس سے اپنا بچاؤ کر سکو) اگر یہ بھی میسر نہ آ سکے تو اچھی بات ہی منہ سے نکالے۔*
*اوقات الصلوة*
*جمادی الاخری 08 ، 1446ھ*
*بدھ, دسمبر 11، 2024ء*
*فجر*
*05:45* *کراچی*
*05:25* *لاہور*
*05:35* *ملتان*
*05:40* *پشاور*
*05:53* *کوئٹہ*
*05:34* *اسلام آباد*
*05:30* *فیصل آباد*
*05:41* *حیدرآباد*
*05:32* *مری*
*05:44* *لاڑکانہ*
*05:42* *سکھر*
*05:34* *ایبٹ آباد*
*طلوع آفتاب*
*07:05* *کراچی*
*06:51* *لاہور*
*06:59* *ملتان*
*07:08* *پشاور*
*07:17* *کوئٹہ*
*07:01* *اسلام آباد*
*06:56* *فیصل آباد*
*07:01* *حیدرآباد*
*07:00* *مری*
*07:06* *لاڑکانہ*
*07:04* *سکھر*
*07:02* *ایبٹ آباد*
*ظہر*
*12:25* *کراچی*
*11:56* *لاہور*
*12:07* *ملتان*
*12:07* *پشاور*
*12:25* *کوئٹہ*
*12:01* *اسلام آباد*
*12:01* *فیصل آباد*
*12:20* *حیدرآباد*
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكَاتُه*
*صحيح البخاري، كتاب الزكاة # 1400*
*كتاب الزكاة : زکوۃ کے احکام و مسائل کا بیان*
*فَقَالَ : وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ , وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ , وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَعَرَفْتُ ، أَنَّهُ الْحَقُّ " .*
*´اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ` قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰۃ اور نماز میں تفریق کرے گا۔ (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰۃ کے لیے انکار کر دے) کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے زکوٰۃ میں چار مہینے کی (بکری کے) بچے کو دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں، میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔*
*اوقات الصلوة*
*جمادی الاخری 03 ، 1446ھ*
*جمعہ, دسمبر 06، 2024ء*
*فجر*
*05:42* *کراچی*
*05:22* *لاہور*
*05:32* *ملتان*
*05:36* *پشاور*
*05:49* *کوئٹہ*
*05:30* *اسلام آباد*
*05:27* *فیصل آباد*
*05:38* *حیدرآباد*
*05:29* *مری*
*05:41* *لاڑکانہ*
*05:39* *سکھر*
*05:30* *ایبٹ آباد*
*طلوع آفتاب*
*07:02* *کراچی*
*06:47* *لاہور*
*06:55* *ملتان*
*07:04* *پشاور*
*07:13* *کوئٹہ*
*06:57* *اسلام آباد*
*06:52* *فیصل آباد*
*06:58* *حیدرآباد*
*06:56* *مری*
*07:02* *لاڑکانہ*
*07:01* *سکھر*
*06:58* *ایبٹ آباد*
*ظہر*
*12:23* *کراچی*
*11:54* *لاہور*
*12:05* *ملتان*
*12:05* *پشاور*
*12:23* *کوئٹہ*
*11:59* *اسلام آباد*
*11:59* *فیصل آباد*
*12:18* *حیدرآباد*
*11:57* *مری*
*12:18* *لاڑکانہ*
*12:16* *سکھر*
*11:58* *ایبٹ آباد*
*عصر*
*03:23* *کراچی*
*02:41* *لاہور*
*02:55* *ملتان*
*02:46* *پشاور*
*03:13* *کوئٹہ*
*02:41* *اسلام آباد*
*02
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Karachi
7225